ہجرت

ہجرت

  

 یہ بات یقینا بتانے والی نہیں کہ پاکستان کا قیام ایک مشکل ترین عمل تھا،جن لوگوں نے قربانیاں دیں اور کن حالات سے ہوتے ہوئے اس زمین پرپہنچے، یہ تو وہی جانتے ہیں۔ہر خاندان کی ایک الگ کہانی تھی۔ان بہت ساری کہانیوں میں جنم لینے والی پاکستان کی تاریخ، جس کی ہر روز ایک نئی کہانی اور نیا افسانہ تھا۔پاکستان کے تاریخی ناول میں ہر ایک دن نئے صفحے کا استعمال کرتے ہوئے ایک ناول مرتب کر چکی ہے، مگر ایک بات طے ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ضرور ہے۔شکل چاہے مختلف ہو، وجوہات چاہے جدا ہوں، قیام پاکستان کے وقت خاندانوں نے ہجرت کی تھی، جس میں ہر عمر کے لوگ موجود تھے اور آج اپنی ہی سرزمین پر پھر سے ہجرت کی باتیں منظر عام پر آرہی ہیں۔اس وقت ایک ملک کے دو حصے ہوئے تھے اور آج ہجرت کا عمل مجبوری کی بناءپر سامنے آیا اور لوگ ارض پاک کو چومتے ہوئے اس ملک کا حصے بنے اور آج جو ہجرت سامنے ہے، وہ ہماری نوجوان نسل کی ہے،جو اس ملک میں رہتے ہوئے شوق سے نہیں،امن کے لئے کہیں اور جانا چاہتی ہے،جہاں وہ ایک پُرامن سسٹم میں رہتے ہوئے اپنے مستقل کو محفوظ بنا سکے۔

 نوجوانوں کا کہنا ہے کہ بزرگوں نے تو قربانیاں دیں اور آپ کو ایک ملک فراہم کیا، مگر ہمارے بزرگوں نے ہمیں جیسا ملک دیا، وہ پوری دنیا کے سامنے ہے۔کسی بھی وطن کی زمین پر انسانی لہو، وہ بھی بے گناہ انسانوں کا لہو گرانا ناقابل تلافی گناہ ہے، اس کی اجازت کوئی بھی مذہب اور کوئی بھی قانون نہیں دیتا۔ انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں اس فعل کو معاف نہیں کرسکتیں۔آج ہم جس بحرانی کیفیت سے گزر رہے ہیں، اس کیفیت کے ذمہ دار کون لوگ ہیں۔دیکھا جائے تو یہاں نہ تو کوئی نیا ملک بننے جا رہا ہے اور نہ کوئی مخالف مذہبی جنگ سے سامنا ہے۔پھر بھی آئے روز انسانی خون بہانا ایک مشغلہ بن چکا ہے۔ اخبارات کی سرخیاں کوئی خوشخبری دینے سے قاصر ہیں۔

ایک بات تو کچھ یوں سمجھ میں آتی ہے کہ پاکستان کا وجود شاید کانٹے کی طرح بہت سے لوگوں کو چبھتا ہے۔تبھی تو یہاں جمہوری حکومت کو توانا کرنے کا رواج نہیں اور اگر خدا خدا کرکے جمہوری مدت پوری ہورہی ہے،جو خوش آئند بات ہے، مگر اس جمہوری حکومت کی مدت کے دوران پاکستان انتہائی نازک حالت تک پہنچ گیا ہے۔ زندگی کا کوئی بھی شعبہ ان پانچ سالوں میں متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا، اس کی شاید بنیادی وجہ پاکستان کی کمزور دفاعی اور سفارتی پالیسیاں رہی ہوں گی۔دفاعی پالیسی کی بات آئی تو یہ بھی بتاتی چلوں کہ 1947ءمیں انتقالِ اقتدار کے فوراً بعد افغانستان کی جانب سے مسلح قبائلی سرحد پار کرکے پاکستان چلے آئے اور مسلسل پریشانی کا باعث بنے، پھر 1955ءمیں یہ تعلقات اتنے خراب ہوگئے کہ کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملہ کیا گیا، اس کے بعد 1961ءمیں ایک بار پھر باجوڑ کے مقام پر پاکستانی فوج کو افغان حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کرکے انہیں پسپا کرنا پڑا، آج بھی ان علاقوں کے حالات درست نہیں ہیں اور ان پر قابو پانا کچھ ناممکن سا ہوگیا ہے، بلکہ سوات جیسے مضافاتی شہر پر فوج کا کنٹرول کمزور پڑ گیا ہے۔ دیر کے علاقے پر حملہ آور کہاں سے وارد ہوتے ہیں، جو آج تک پکڑے نہیں جاسکے۔آج نہ صرف قبائلی، بلکہ شہری زندگی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور زندگی غیر محفوظ ہوگئی ہے۔

تو کیا ہم یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ آمریت اور جمہوریت دونوں نے دفاعی اور سفارتی تعلقات کو توانا نہیں، بلکہ کمزور کیا اور سرحدی مفادات کو پس پشت ڈال کر Do More،Give More.... پر عمل کرتے ہوئے آقاﺅں کو خوش کرنے میں لگ گئے، مگر یہ فضا زیادہ دیر تک قائم نہیں رہے گی،جب نوجوان نسل کے ہاتھ ذمہ داروں کے گریبان پکڑیں گے۔قیام پاکستان سے لے کر آج تک کوئی جمہوری حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرسکی۔آج جبکہ ایسی ایک حکومت اپنی مدت پوری کرنے جارہی ہے، مگر جاتے جاتے انتہائی کمزور پالیسیاں دے جائے گی۔پارٹی مسلم لیگ کی ہو یا پیپلزپارٹی۔ دیکھا یہ جاتا ہے کہ اس پارٹی کو چلانے والے کی شخصیت مضبوط اور نظریاتی طورپر ٹھوس ہو۔مثال کے طور پر جب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم پاکستان کے لئے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنا بہت ضروری خیال کرتے تھے۔ وہ تو یہاں تک کہتے تھے کہ چاہے پاکستانیوں کو گھاس کھانا پڑے، بھوکا رہنا پڑے، ایٹمی طاقت کا حصول بہت ضروری ہے، حالانکہ ایوب خان بھٹو مرحوم کے اس فیصلے سے کبھی متفق نہیں تھے، مگر بھٹو مرحوم نے برسراقتدار آکر اس فیصلہ پر عمل کیا اور عوام میں ان کی مقبولیت بڑھ کر دوچند ہوگئی تھی، جبکہ واقعات بتاتے ہیں کہ بھٹو مرحوم کا یہی عزم ان کو اقتدارسے ہٹانے کا سبب بنا۔

حکومت آج بھی اسی پارٹی کی ہے، اس حکومت کو ناکام بنانے کے اسباب پیدا کئے جارہے ہیں یا وہ خود ایسے اسباب پیدا کررہی ہے،جس کا خمیازہ یہ قوم بھگت رہی ہے اور ایک ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ہر شخصیت کے ساتھ بہت سارے نظریات، خیالات وابستہ ہوتے ہیں۔ایک وہ لیڈر تھا،جس نے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے لئے جان کی پروا نہیں کی،ایک یہ ہیں،جنہوں نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا، ورنہ اتنی آسانی سے شہروں میں بم دھماکے ہو جائیں اور کوئی پکڑا نہ جائے ۔اگر ہم اندر سے ملک کو ایسے لوگوں سے نہیں بچا سکتے تو سرحدوں کو کیسے بچائیں گے ، تو کیا یہ بات کہنے میں ہم حق بجانب ہیں کہ ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے بعد لوگ گھاس کھانے پر شاید مجبور نہیں ہوئے، بلکہ اسی پارٹی کے دورحکومت میں لوگ بم کھانے پر ضرور مجبور ہوگئے ہیں۔  ٭

مزید :

کالم -