توانائی بحران کا خاتمہ........؟

توانائی بحران کا خاتمہ........؟
توانائی بحران کا خاتمہ........؟

  

80 کی دہائی پاکستان میں وہ زمانہ تھا جب ایک طرف بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھاری مقدار میں زر مبادلہ پاکستان میں آرہا تھا تو دوسری طرف افغان جہاد کے حوالے سے امریکہ اور یورپ کے دوسرے ممالک سے امداد کے نام پر پاکستان میں ڈالروں کی بارش ہو رہی تھی، لیکن بھلا ہو ہمارے حکمران طبقے کا کہ اس نے آنے والے دنوں کے بارے کچھ سوچا ہی نہیں۔ حکمرانوں کی توجہ اپنی حکومت کو مضبوط بنانے اور اپنے مخالفین کو ٹھکانے لگانے پر تھی تو افسر شاہی کی توجہ ملک میں بڑھتی ہوئی دولت کی ریل پیل میںسے اپنا زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کرنے پر تھی۔ ایک طرف سرکاری بنکوں میں قرضوں کے نام پر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم تھا تو دوسری طرف سستی زمینوں پر ہاﺅسنگ سکیموں کے نام پر سرکاری وسائل سے ترقیاتی کاموں کے نام پر اربوں روپے کے قومی سرمائے پر ہاتھ صاف کئے جا رہے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک میں پاکستانی محنت کشوں کے نام پر کسٹم قوانین میں تبدیلیوں کے ذریعے پُرتعیش اشیاءکی درآمد کے جائز و ناجائز راستے کھولے جارہے تھے۔

سارے اقدامات سے ملک میں موجود توانائی کے ذخائر یک دم قلت کا شکار ہوتے نظر آئے، بڑھک باز افسر شاہی (جو سوئی میں گیس کی دریافت اور منگلا اور تربیلا ڈیم کی تکمیل کے بعد پاکستان میں اگلے 50 سال تک توانائی کے ذرائع کو ضرورت سے زیادہ قرار دیتی تھی) بجائے اس کے کہ توانائی کی رسد اور کھپت کے حوالے سے نئے منصوبے بناتی، اس نے فوجی حکمرانوں کے ساتھ ہم زبان ہو کر سابقہ سیاسی حکومت پر الزام تراشی شروع کر دی۔ پاکستانی عوام لوڈشیڈنگ کے لفظ سے 80 کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں ہی روشناس ہوئے تھے۔ جنرل ضیاءکی حادثے میں موت اور اس کے بعد آنے والے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے دو، دو ادوار حکومت میں توانائی کے حوالے سے کچھ کام شروع ہوا، لیکن بد نیتی اور کرپشن کے باعث حکمران اور ان کی ہم نوا افسر شاہی نے توانائی کے اس بحران کے خاتمے کے بجائے اس کو مال بنانے کا ذریعہ بنا لیا۔ پہلے آئی پی پی کے نام پر اور بعد میں جرنیلی حکمرانی میں توانائی کے بحران اور اس کے خاتمے کے نام پر جو بھی منصوبہ سازی کی جاتی ، اس کا ترجیحی مقصد بحران کا خاتمہ نہیں، بلکہ اس بحران میں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا۔ اسی لئے حکمران طبقہ توانائی کے بحران پر بیان بازی بھی بہت کرتا ہے۔ عوام کو وعدے وعید کے نام پر منصوبے اور خواب بھی بہت دکھاتا ہے، مگراس کے مکمل خاتمے کے لئے عملی اقدام نہیں اٹھاتا۔ حکمرانوں کے لئے توانائی کا مسئلہ سونے کا انڈا دینے والی مرغی کی حیثیت رکھتا ہے.... توانائی کا مسئلہ قائم رہے گا تو یہ مرغی حکمرانوں کے لئے روزانہ سونے کا انڈہ دیتی رہے گی۔ اس مسئلے کو حل کر کے حکمران اس مرغی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اوریہ انہیں منظور نہیں۔ کبھی تھرمل، کبھی آئی پی پی اور کبھی رینٹل پاور کے نام پر تماشہ جاری رہے گا، اسی لئے سپریم کورٹ سے بد عنوانی کا سرٹیفکیٹ جاری ہونے اور ملک بھر میں راجہ رینٹل کے نام سے مشہور ہونے کے باوجود جناب وزیر اعظم نے رینٹل پاور کے حوالے سے ایک بار پھر منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔

ایک طرف بجلی کے حوالے سے یہ تماشہ لگا ہوا ہے تو دوسری طرف گیس سیکٹر میں لوٹ مار کے نئے سے نئے منصوبے سامنے آرہے ہیں۔ پہلے بغیر کسی منصوبہ بندی کے سی این جی کے نام پر سستے ایندھن کا شور مچایا گیا۔ پوری دنیا سے ناکارہ اور کباڑ مشینری کی درآمد کی اجازت دے کر قیمتی زر مبادلہ کا ضیاع کیا گیا۔ پوری دنیا میں سی این جی کے استعمال کو ترک کیا جا رہا تھا، لیکن حرص و ہوس میں گرفتار پاکستانی حکمران اور افسر شاہی نے ہزاروں سی این جی پمپوں کو این او سی اور مشینری درآمد کرنے کی اجازت کے نام پر لوٹ مار کا بازار گرم کیا۔ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی تفصیل کے مطابق صرف گزشتہ چار سال میں 83 ارب سے زائد کی لوٹ مار کی گئی، باقی سالوں کا حساب آپ خود لگا لیں۔ اب تازہ ترین وزیر صاحب، جو بادشاہ وقت کے ذاتی دوست بھی ہیں اور ذاتی معالج بھی ،سی این جی کو ملک کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں اور اس کے مقابلے میں ایک نئے نسخہ کیمیا، یعنی ایل این جی کے درآمدی منصوبے کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ ایک طرف ایل این جی کی درآمد سے فیض کے دریا بہنے کی نوید دی جا رہی ہے تو دوسری طرف کبھی ایران، کبھی تاجکستان اور کبھی ازبکستان سے پائپ لائن کے ذریعے گیس لانے کے خوش کن اعلانات فرمائے جا رہے ہیں۔ ان سارے منصوبوں سے کسی کو کتنا فیض حاصل ہو گا اور کس کس کے اندھیرے دور ہوں گے یہ تو عوام کو معلوم نہیں، مگر اتنا ضرور ہے کہ ہر آنے والا دن عوام کے لئے خواری اور ان کی زندگیوں میں مزید اندھیروں کے ساتھ طلوع ہوتا رہے گا۔

اس سارے کھیل میں نہ سمجھ آنے والا ایک گھن چکر ہے اعداد و شمار کا.... بجلی کے حوالے سے بھی اور گیس کے حوالے سے بھی.... گیس اور بجلی دونوںکی ترسیل کے ذمہ دار اداروں کی جانب سے جاری کئے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق بجلی کی پیداوار 14 ہزار چھ سو میگا واٹ اور طلب 18 ہزار تین سو میگا واٹ ہے، اس طرح فرق تقریباً بیس فیصد بنتا ہے۔ اس حساب سے 24 گھنٹے میں لوڈشیڈنگ کسی صورت میں تین گھنٹے سے زائد نہیںہونی چاہئے، مگر اس کے برعکس لوڈشیڈنگ شہروں میں دس سے بارہ گھنٹے، جبکہ دیہات میں سولہ سے اٹھارہ گھنٹوں تک ہو رہی ہے....ہے کسی کے پاس اس کا جواب....اب تو گزشتہ روز ایک اجلاس میں وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ بھی پریشان ہو کر ذمہ داروں سے پوچھ رہے تھے کہ آخر بجلی جا کہاں رہی ہے؟ اسی طرح گیس کا مسئلہ ہے۔ خود حکومتی اعداد و شمار کے مطابق گیس کی قلت موسم گرما میں تقریباً پندرہ فیصد اور موسم سرما میں تقریباً چالیس فیصد ہوتی ہے، لیکن کھاد کے کارخانوں میں مکمل بندش، دیگر کارخانوں میں ہفتے میں تین دن اور سی این جی پمپوں پر ہفتے میں تین دن کی بندش کس بنیاد پر کی جاتی ہے؟ کسی کے پاس اس کا جواب نہیں، نہ وزراءکے پاس اور نہ ذمہ دار اداروں کے پاس۔

دنیا بھر میں کاروباری افراد اپنے کاروبار کے حوالے سے مختلف قسم کی بد عنوانیاں کرتے رہتے ہیں۔ہر ملک اورہر سیکٹر میں بدعنوانیوں کے تدارک کے حوالے سے اداروں کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے، جو کاروباری اداروں کی بدعنوانیوں کو پکڑ کر ان سے لوٹ مار کا حساب لیتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ایسے ادارے موجود ہیں اور ان میں اس حوالے سے ایکسپرٹ افراد بھی، لیکن جب چوکیدار ہی چور بن جائیں تو کیا ہو سکتا ہے؟ کچھ اسی طرح کا معاملہ آئی پی پیز (پرائیویٹ بجلی گھر) اور پیپکو کے درمیان سامنے آیاہے۔ پرائیویٹ بجلی گھر اپنے بجلی گھروں میں بجلی پیدا کرتے ہیں اور بعد میں قومی گرڈ سسٹم کے تحت یہ بجلی پیپکو کے ذریعے ملک میں سپلائی کر دی جاتی ہے۔ پرائیویٹ بجلی گھروں نے حکومت سے معاہدے اپنے پلانٹس کی استعداد کار کے مطابق کئے ہوئے ہیں۔ پرائیویٹ بجلی گھر کے مالکان پیپکو کے بد عنوان افسروں کے ساتھ مل کر اپنے پلانٹس استعداد کار سے کم چلاتے ہیں، مگر سرکاری ریکارڈ میں اس کا اندراج استعداد کار کی بنیاد پر کرا لیتے ہیں،اس طرح بغیر کسی خرچ کے اربوں روپے کا فراڈ کیا جا رہا ہے، اسی وجہ سے ملک میں بجلی کی پیداوار کے اعداد و شمار اور لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں فرق کا گھن چکر کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا۔ شنید ہے کہ وزیر خزانہ کے شور مچانے پر اس طرف توجہ دی گئی ہے اور ابتدائی معلومات پر ملنے والے اعداد و شمار نے خود حکومتی وزراءکو پریشان کر دیا ہے۔ آخر تجربہ کار افسر شاہی کا مقابلہ نو آموز وزراءکا کام تو نہیں۔

یہ ہے توانائی کے بحران کی مختصر صورت حال.... ملک میں موجود سیاسی اور انتظامی قیادت کی کار گزاریاں بھی آپ کے سامنے ہیں اور ان کی صلاحیت کار بھی.... نکمی، ناکارہ اور بدعنوان قیادت کی موجودگی میں لوڈشیڈنگ سے نجات اور توانائی کے بحران کا مکمل خاتمہ پاکستانی قوم کے لئے ایک سراب بنتا جا رہا ہے اور سراب کے پیچھے جتنا مرضی بھاگ لیں، نتیجہ آپ سب جانتے ہیں۔ ٭

مزید :

کالم -