مریخ سے سیاسی حمام تک

مریخ سے سیاسی حمام تک
مریخ سے سیاسی حمام تک

  

بات پرانی ضرور ہے، مگر حسبِ حال ہونے کی وجہ سے آج بھی تازہ لگتی ہے ایک شاعر کا مخمصہ یہ ہے کہ اس کے محبوب کی زبان ترکی ہے اور شومیءقسمت اسے ترکی نہیں آتی۔ اب اظہار ہو تو کیسے؟.... ادراک ہو تو کیسے؟ ہم بھی آج کل کچھ ایسے ہی مخمصے میں گرفتار ہیں۔

اپنے آس پاس جس بھی ادارے پر نظر ڈالتے ہیں، اناللہ پڑھتے پڑھتے رہ جاتے ہیں۔ حکومتی کارکردگی، وفاقی یا صوبائی، پر نگاہ غلط پڑ جائے تو ڈکشنری سے شرم اور بے شرمی کے معنی ڈھونڈنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ سیاست اور غلاظت کے معنی یوں گڈمڈ ہو جاتے ہیں کہ اکثر دونوں کو مترادف کے طور پر استعمال کر بیٹھتے ہیں۔ انصاف کے ایوانوں اور میڈیا کی دکانوں پر نگاہِ غلط انداز پڑ جائے تو اپنی غلطی پر ندامت ہوتی ر ہے۔ وطن عزیز کے ایوانوں اور گلی کوچوں سے نظر بچا کر گزشتہ چند ہفتے ہم نے دنیا کی دیگر ترقی یافتہ اقوام کی طرف دیکھا تو دیکھتے ہی رہ گئے۔ سیاست اور قیادت صبح و شام اس غم سے ہلکان ہے کہ معیشت کو کس طرح پھر سے پٹڑی پر چڑھایا جائے۔ ماضی کی سہل انگیزی اور شاہ خرچیوں نے معیشت میں جو چھید کئے ہیں، انہیں کس طرح رفو کیا جائے جسے دیکھو”آج سے بہتر کل“ کے غم میں دُبلا ہو رہا ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں سے امریکہ کے خلا باز ادارے، ناسا(NASA) نے اودھم مچا رکھا ہے۔ کروڑوں میل طے کرنے کے بعد اڑھائی ارب ڈالر کی لاگت سے تیار کیوراسٹی نے بالآخر کامیابی سے مریخ پر پڑاو¿ ڈال دیا ہے۔ کسی تکنیکی دقت کے بغیر360 ڈگری کی تصاویر اب زمین تک پہنچنا شروع ہوگئی ہیں۔ ناسا پُر امید ہے کہ اس مشن سے مریخ پر زندگی کے آثار کا کچھ اتہ پتہ چل سکے گا۔ مزید یہ کہ کائنات کی تشکیل کے کچھ نئے اسرار کھل سکیں گے۔ عجیب لوگ ہیں، آج میں رہتے ہوئے کل کے لئے اتنے بے کل!

اسی طرح کا ایک غلغلہ یورپ کے سائنسدانوں میں بھی گزشتہ چند ماہ سے برپا ہے۔ کئی سال کی جدوجہد اور پیچیدہ تجربات کے بعد ان سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے تشکیل کائنات کے بنیادی ذرے، یعنی ہگز بوسون پارٹیکل کو دریافت کر لیا ہے۔ سائنسدان پھولے نہیں سما رہے کہ اس سائنسی پیش رفت سے کائنات کی تشکیل، تعمیر اور زندگی کی کھوج میں نئی جہتیں دریافت ہو سکیں گی....عجیب لوگ ہیں، کائنات کی تعمیر کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ کی بجائے، خالقِ کائنات کی تعمیر کا راز جاننے کے لئے بے قرار ہیں اور بھی ڈھیروں مثالیں ایسی ہیں کہ ہم دانتوں میں انگلیاں دابے ذہنی الجھن میں گرفتارہیں کہ یہ اقوام صحیح راستے پر ہیں یا ہم لوگ؟ خاصی سوچ بچار کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ امریکی اور یورپی سائنس دان زمینی حقائق سے نظریں چرانے کی کوشش میں بہت دور جا نکلے ہیں۔ امریکی مریخ پر اور یورپی کائنات کے نادیدہ ذرات کے جنگل میں، لیکن شکر ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنے آج سے غافل نہیں، بلکہ آج کے ساتھ ساتھ ماضی سے بھی غافل نہیں۔ رہا کل، اگر اسے آنا ہے تو انہی پتھروں پر چل کر آجائے، ہمارے ملک میں آنے والے کل کے لئے کوئی کہکشاں نہیں ہے اور ہو بھی کیسے سکتی ہے....؟

ہمارا ہر ادارہ اور معتبر لیڈر ہمارے ماضی اور آج سے یوں گتھم گتھا ہے کہ اسے کل کی فکر کرنے کا وقت مل پا رہا ہے نہ وسائل۔ ماضی میں آئین کی بے قدری ہوتی رہی۔ خدا کا شکر ہے کہ اب آئین کو پاسبان مل گئے ہیں۔ آئین کے کھیت میں یوں تو بہت سی مولیاں رزقِ انصاف ہوئیں، لیکن اس راہِ حق میں سب سے بڑی قربانی ایک وزیراعظم کی ہوئی۔ دوسرے وزیراعظم اتفاق سے شہیدوں کے علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور اُسی ضد پر اڑے بیٹھے ہیں، لہٰذا انصاف کو ایک اور شہید ملنے میں چند ہی روز باقی ہیں۔ ایک این آر او پر ہی کیا موقوف، آئین اور انصاف کا جادو اس قدر سر چڑھ کر بول رہا ہے کہ ادھر ایک واقعہ رونمائی سے فراغت نہیں پاتا کہ درجن بھر انصاف کے سپاہی عدلیہ میں درخواستیں دائر کر دیتے ہیں۔ عدالتی میدان میں برپا معرکوں کی گزشتہ چار سال میں کمی ہوئی ہے، نہ حوصلہ شکنی، انصاف کی اس قدر افراط ہوگئی ہے کہ اکثر عوام کا دم گھٹنے لگا ہے، بقول عبید اللہ علیم:

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی بہل جائے

اب اتنا بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے

میڈیا کے بازار میں ایک سے ایک پُرکشش دکان دین و ایمان غارت کرنے کے کافی ہے۔ شام سات بجے سے لے کررات گئے تک بال کی کھال اتارنے کے لئے لائیو شو ہوتے ہیں۔ وہ بھی گنجے کے بال کتنے!.... پیالی میں طوفان اٹھانے کے فن میں اینکروں اور سیاست دانوں نے وہ کمال حاصل کیا ہے کہ اگر ناسا کو پتہ چل گیا تو کیوراسٹی کو مریخ کی بجائے ادھر روانہ کرتے کہ اس اُفق کے رموز سمجھ سکیں۔

سیاست میں الزامات نہ ہوں تو سیاست سیاست دانوں، اینکرز اور ناظرین کے لئے بے رنگ ہوجاتی ہے۔ سیاست دان اس راز کو خوب سمجھتے ہیں۔ اسی لئے وہ سیاسی حمام میں الزامات کے چھینٹوں میں آئے روز نت نئے گر آزماتے ہیں۔ تازہ ترین معرکہ خواجہ آصف نے سرکیا ہے۔ عمران خان پر شوکت خانم کے حوالے سے ان الزامات کے تو جیسے غلاظت کے نئے انداز کو متعارف کروایا ہے....۔ حمام میں تعفن کی کیا کمی تھی کہ غلاظت کے اس نئے نالے سے ڈھکن اٹھا دیا گیا ہے۔

 ہماری خواہش ہے کہ نالے کے کسی مدار المحام سے ملاقات ہوجائے تو انہیں ضرور پوچھیں کہ ان کے ملک میں ایک دوسرے کے گریبان پھاڑنے، ایک دوسرے کو رگیدنے اور ”آج“ کو زیرو زبر کرنے کے مواقع بالکل ناپید ہوگئے ہیںجو انہیں مریخ پر جانے کی سوجھی۔ یورپی سائنس دانوں سے ملنے کی بھی ہماری خواہش کی وجہ یہی کلبلاتے سوالات ہیں کہ ان کے ہاں سیاست دانوں کے غلیظ پوتڑے بالکل ختم ہوگئے ہیں کہ انہوں نے اربوں یورو پھونک کر نادیدہ سے ایک ذرے کو ڈھونڈنے میں خود کو ہلکان کیا۔

لیکن کیا کریں، زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم۔ ناسا کو ہماری زبان نہیں آتی اور ہمیں ناسا کی بولی نہیں آتی۔ یورپی سائنس دان ہگز کی زبان سے ہم آشنا نہیں اور وہ ہماری زبان سے نابلد۔ اب ایسے میں بات کریں تو کیا بات کریں، سحرتھک ہارکر سرشام ٹی وی آن کرکے بیٹھ جاتے ہیں کہ آج حمام میں نیا تماشا کیا ہوگا؟ صدشکر اینکرز کی ایک باکمال کھیپ موجود ہے جو ہمیں مایوس نہیں کرتی۔ سیاست دانوں کی ایک فوج ہے جو مخالفین پر ٹھیک ٹھیک نشانے لینے کی ماہر ہے۔ البتہ ایک مشکل اس دوران میں یہ آتی ہے کہ اس دوران الزامات کا تعفن ٹی وی اسکرینوں سے نکل کر ہمارے نتھنوں تک چڑھ آتا ہے۔ رومال کا رواج نہیں تو ناک پر رومال کا رکھنا کیا۔ البتہ حفظ ِ ماتقدم کے طور پر ٹی وی ٹاک شوز شروع ہونے سے پہلے ائر فریشنر (Air Freshner) اپنے پاس ضرور رکھ لیتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل تو ایک دن میں ایک ائر فریشنر استعمال ہو جاتا تھا۔ لیکن آج کل کم از کم دو ایئر فریشنر ختم ہوجاتے ہیں تب جاکر ہمیں سانس بحال رہتی ہے .... کہاں کا مریخ، کہاں کا ہگز بوسون پارٹیکل .... سانس آتی رہے یہی غنیمت ہے۔  ٭

مزید :

کالم -