گیس چوری اور محکمہ کے چور!

گیس چوری اور محکمہ کے چور!
گیس چوری اور محکمہ کے چور!

  

بجلی ہو یا گیس جو لوگ چوری کرتے یا بل ادانہیں کرتے، وہ یقینا قومی مجرم ہیں اور ان کو تلاش کرکے قرار واقعی سزا ضرور ملنی چاہیے۔ خادم اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف ایسے چوروں کے پیچھے پڑ گئے ہیں تو توقع کرنی چاہیے کہ اس جرم کا خاتمہ بھی ہو جائے گا۔ جیسے ڈینگی بخار کی وباءختم ہوئی تھی۔ حالیہ چھاپوں کے نتیجے میں بجلی چوری کے تو اکا دکا کیس سامنے آئے، لیکن گیس کی چوری کے متعدد کیس پکڑے جا چکےہیں۔ سوئی ناردرن گیس کے مطابق یہ گیس کئی کئی سال سے چوری کی جارہی تھی اور کروڑوں اربوں کی چوری ہو چکی ہے۔فیصل آباد اور لاہور میں ایسے کئی کارخانہ دار اور فیکٹریوں والے پکڑے گئے اور گرفتار بھی ہوئے۔

یہ مہم ابھی جاری ہے اور جاری رہنی بھی چاہیے، لیکن جو کام نہیں ہوا ،وہ یہ ہے کہ اس چوری میں ملوث محکمے کے لوگوں کا نہ تو سراغ لگایا جا رہا ہے اور نہ ہی ابھی تک کسی ایسے ملزم کو پکڑا گیا،جس کی ملی بھگت سے یہ کام ہورہا تھا، جو کیس پکڑے گئے وہ تھوڑے بہت نہیں، بہت زیادہ ہیں۔اب ذرا اس چوری کا تکنیکی جائزہ لیں تو چوری کے لئے مین پائپ لائن سے پائپ جوڑ کر زیر زمین لایا گیا اور فیکٹری تک پہنچایا گیا،جہاں تک محکمہ گیس کا تعلق ہے تو اس کی طرف سے جتنی مقدار میں سپلائی دی جاتی ہے، اس کا حساب بھی موجود ہوتا ہے ۔اگر ایک پائپ لائن سے جس مقدار میں گیس مہیا کی جارہی تھی، اس کے خرچ کے مطابق واجبات(بل) ادا نہیں ہوتے تو محکمے کے ذمہ دار حضرات کو اس کی فکر دام گیر ہونی چاہیے تھی۔اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر ہر چوری میں محکمے کے لوگ خود ملوث ہیں، جو یہ چوری کرارہے ہیں۔

اب ہو یہ رہا ہے کہ جس فیکٹری کے لئے یہ گیس چوری ہورہی ہے، اسے بند کرکے گرفتاری بھی ہو رہی اور اس کے مالکان کو جرمانے بھی کئے جا رہے ہیں،لیکن اگر کچھ نہیں ہو رہا تو وہ محکمے کے رشوت لینے والے حضرات کی تلاش ہے، حالانکہ وہ اس چوری میں برابرکے شریک ہیں، ان کا معاملہ ایف آئی اے کے سپرد ہونا چاہیے جو براہ راست ملوث نکلے، اس سے وصول شدہ رقم بھی نکلوائی جائے اور اس کے بعد جو غفلت کا مرتکب پایا جائے، اس کو محکمانہ طور پر سزا دینے کے علاوہ مقدمہ بھی بنایا جائے، اور اسے قید کی سزا بھی ہو۔

اب ذرا ایک اور پہلو پر بھی غور کریں، جونہی وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کی ہدایت پر خادم اعلیٰ نے نگرانی کرکے یہ کام شروع کرایا ہے۔محکمہ سوئی گیس والوں نے اپنی آمدنی اور خود کو صاف ستھرا ثابت کرنے کے لئے نئی حکمت عملی پر عمل شروع کردیا اور تمام شہریوں کو تنگ کرنا شروع کردیا ہے، تاکہ وہ احتجاج کریں اور چوری پکڑنے کا سلسلہ رک جائے اور ان تک بھی کوئی نہ پہنچے ۔ہو یہ رہا ہے کہ بعض شہریوں نے لوڈشیڈنگ سے تنگ آکر گیس کے چھوٹے جنریٹر رکھے ہیں، جو لوڈشیڈنگ کی صورت میں چلا لئے جاتے ہیں، اکثر لوگوں نے قواعد سے عدم واقفیت کی بناءپر ایسا کیا اور جتنی گیس استعمال ہوتی ہے، اتنا بل بھی دیا جاتا ہے۔اب سوئی گیس والوں نے یکا یک ایسے لوگوں کو چھاپوں کی زد میں لے لیا ہے اور کوئی عذر سنے بغیر میٹر اتار کر لے جاتے اور چوری کا پرچہ درج کرانے کی دھمکی دیتے ہیں، حالانکہ یہاں چوری نہیں ہوتی۔ قواعد کی خلاف ورزی کا معاملہ ہے، کیونکہ بل توپورا دیا جارہاہے۔ان حضرات کو جو روکنے کی کوشش کرتا ہے، اسے پولیس اور تھانے سے ڈرایا جاتا ہے۔

وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو اس طرف توجہ دینی چاہیے کہ محکمے والے عام شہری کو پریشان نہ کریں ، دوسرے جہاں سے چوری پکڑی جائے، اس علاقے کے ملازمین کی بھی تفتیش کرکے تلاش کی جائے اور ان کو ذمہ دار ٹھہرا کر پکڑا جائے اور چور کے ساتھ ہی بند کیا جائے۔     ٭

مزید : کالم