قرآن پاک سمجھ کر اس پر عمل کریں

قرآن پاک سمجھ کر اس پر عمل کریں
قرآن پاک سمجھ کر اس پر عمل کریں

  

ایک باپ نے اپنے بیٹے کو خط لکھا کہ میں فلاں تاریخ کو لاہور آ رہا ہوں مجھے لینے کے لئے ائیر پورٹ پر آ جانا۔ بیٹا اپنے باپ کی دنیا کے تمام باپوں سے زیادہ عزت بھی کرتا ہے وہ خط کو کھول کر پڑھنے کی بجائے اپنی آنکھوں سے لگاتا ہے اور الماری میں سنبھال کے رکھ لیتا ہے۔ جب والد کا جہاز ائیر پورٹ پر اترتا ہے تو والد اپنے فرماں بردار بیٹے کو وہاں موجود نہ پا کر سخت پریشان ہوتا ہے۔ سخت ناراضی کے عالم میں بیٹے سے پوچھتا ہے کہ آپ مجھے ائیر پورٹ پر لینے کیوں نہیں آئے۔ بیٹا جواب دیتا ہے ابوجی مجھے تو اس بات کا پتہ ہی نہیں ہے کہ آپ کپ تشریف لا رہے ہیں والد کہتا ہے کہ میں نے تمہیں اس مقصد کے لئے خط بھی لکھا تھا کیا وہ خط تمہیں نہیں ملا۔ خط تو آپ کامل گیا تھا لیکن میں نے آپ کے خط کو مقدس جان کر آنکھوں سے لگا کر الماری میں بند کرکے رکھ دیا تھا۔ والد نے کہا جب تم میرے خط کو کھول کر پڑھو گے تب ہی پتہ چلے گا کہ میں نے تم سے کیا کہا ہے۔

بالکل یہی صورت حال ہم مسلمانوں کی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب ”قرآن پاک“ نبی کریم ﷺ پر حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے نازل فرمائی۔ پیغام اللہ تعالیٰ کا ہے لیکن وہ مقدس کتاب کہ جس میں اللہ تعالیٰ ہم سے مخاطب ہے اور ہمیں دنیا میں کامیابی سے رہنے، اچھے اور برے کی پہچان کروانے، برائیوں سے بچنے، نیکی کے راستے پر چل کر دوزخ سے بچنے کی بات کرتا ہے اس مقدس کتاب کو ہم آنکھوں سے لگا کر ہونٹوں سے چوم کر الماری میں تو بند کر دیتے ہیں لیکن اسے کھول کر پڑھنے، سمجھنے کی جستجو نہیں کرتے۔ سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ جب تک ہم اس کتاب کو کھول کر نہیں پڑھیں گے ہم کیسے جان سکیں گے کہ اللہ تعالیٰ خالق اور مالک کی حیثیت سے ہم سے کیا چاہتا ہے اور کامیاب زندگی گزارنے کے وہ کون سے طریقے ہیں جن پر چل کر ہم دنیا اور آخرت میں ذلت اور رسوائی سے بچ سکتے ہیں۔

بدقسمتی سے ہم نے اسے یہ تصور کرکے طاق میں سجا لیا ہے کہ اس کی گھر میں موجودگی خیرو برکت کا باعث ہے۔ اس میں شک نہیں کہ قرآن پاک کی موجودگی خیروبرکت کا باعث بھی ہے ،جبکہ اس پر عمل کرنا اس سے بھی زیادہ باعث برکت ہے۔ اللہ ہم سے کیا فرماتا ہے اور خالق کی حیثیت سے ہم سے کیا چاہتا ہے اس کاالفاظ کی صورت میں ذکر قرآن پاک میں موجود ہے اس مقدس کتاب کا ایک ایک لفظ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور وحدانیت کا منہ بولتا اظہار ہے۔انسان دنیا میں پچاس ساٹھ سال رہنے، رب العزت کی تمام نعمتوں سے استفادہ کرنے کے باوجود اگر اللہ کا دیا ہوا پیغام قرآن میں پڑھنے سے قاصر ہے تو وہ جنت میں داخل ہونے کا خواب کیسے دیکھ سکتا ہے؟ اگر انسان یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے خود مخاطب ہو تو اسے چاہیے کہ وہ قرآن پاک پڑھے کیونکہ قرآن پاک کا ایک ایک لفظ اللہ تعالیٰ کی حکمت و دانش کا منہ بولتا ثبوت ہے اور اس میں انسان ہی اللہ کا مخاطب ہے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں کسی پر بھی ظلم نہیں کرتا بلکہ انسان خود اپنے اوپر ظلم کرتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہنم سے بچنے اور شیطان کی خرافات سے محفوظ رہنے کے لئے واضح راستوں کا تعین کر دیا ہے اور بار بار تنبیہ کی ہے کہ اگر انسان نے صراط مستقیم کو چھوڑ کر شیطان کی پیروی کی تو شیطان کے ساتھ ہی جہنم میں جلنا ہوگا۔ اب انسان کے لئے دو ہی راستے ہیں ایک وہ راستہ جس پر چل کر اللہ تعالیٰ کی (اپنے خالق کی حیثیت سے) خوشنودی حاصل کی جاتی ہے اور دوسرا راستہ وہ ہے جو شیطان کی پیروی کی جانب جاتا ہے۔ اب انسان کی مرضی ہے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جنت میں بنائے یا شیطان کے بہکاوے میں آکر ہمیشہ کے لئے دوزخ میں رہنا چاہتا ہے۔

اگر بیٹا اپنے باپ کا خط نہ پڑھ کر اس کے غصے کا شکار ہوتا ہے تو غافل انسان اللہ کے قہر سے کیسے بچ جائے گا۔ سورئہ یٰسین میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ قرآن حکمت سے بھرا ہے لیکن اس کی حکمت کو وہی شخص جانے گا جو اسے ترجمے کے ساتھ پڑھ کر اس کا صحیح مفہوم، معنوں سمیت جاننے کی جستجو کرے گا جو چند سورتیں زبانی یاد کرکے پچاس ساٹھ سال زندگی توگزار لیتے ہیں لیکن انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ ان کی زبان سے نکلنے والے الفاظ کا مطلب کیا ہے تو وہ اس کلام کی روحانیت سے کس طرح مستفید ہوسکتے ہیں۔

یہ مہلت اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب موت کا فرشتہ سامنے آ کھڑا ہوتا ہے اور زندگی کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے۔ اس وقت انسان چاہے بھی تو کچھ نہیں کرسکتا۔ علمائے کرام کے مطابق میت کے قریب اگر قرآن پاک کی تلاوت کی جائے تو یہ عمل مرنے والے کے لئے تمام جہانوں سے زیادہ راحت اور سکون کا باعث بنتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے جسمانی وصال کے وقت فرمایا تھا کہ میں تمہارے لئے دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں اگر تم نے ان کو مضبوطی سے پکڑے رکھا تو میرے بعد صراط مستقیم سے کبھی نہیں بھٹکو گے اور کوئی بھی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا، ایک اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن اور دوسری میری سنت ہے۔    ٭

مزید :

کالم -