امریکہ.... یہ عالم ”خوف“ کا دیکھا نہ جائے

امریکہ.... یہ عالم ”خوف“ کا دیکھا نہ جائے
 امریکہ.... یہ عالم ”خوف“ کا دیکھا نہ جائے

  

جب عالم اسلام میں عید الفطر منائی جا رہی تھی تو دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ نے القاعدہ اور اس سے متعلق دوسرے دہشت گرد گروپوں کے خوف کی وجہ سے آدھی دنیا میں اپنے سفارت خانے بند کر دیئے۔ جن کی بندش کو بعد میں پورے ہفتے تک پھیلا دیا گیا۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں امریکی شہریوں کو ہدایات جاری کر دی گئیں کہ وہ بعض اسلامی ملکوں کا سفر نہ کریں یا بے حد محتاط رہیں۔ دہشت گردی کے خلاف تیرہ سال سے جاری جنگ کا نتیجہ اگر یہ خوف ہی ہے تو پھر سوچنا چاہئے کہ دہشت گردی کی یہ جنگ کون جیت رہا ہے۔ اس کا فائدہ کتنا ہوا ہے اور نقصان کتنا ہوا ہے؟

اس جنگ کو شروع کرنے کے لئے بھی اسی طرح خوف کی فضا پیدا کی گئی تھی، امریکہ کے دانشور حلقوں کا خیال ہے کہ ایسی ہی فضا ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرانے کے وقت ”پرل ہاربر“ کے ذریعے پیدا کی گئی تھی۔ پھر رینڈ کارپوریشن نے کہا کہ ہمیں ”پرل ہاربر“ کی سطح کا ایک ”خوف“ درکار ہے ۔ جن دماغوں نے ”پرل ہاربر“ کی سٹیج سجائی تھی ،انہوں نے یا ان کے وارثوں نے 9/11 کا تھیٹر سجا دیا۔ ادھر عراق میں صدام حسین کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے نام نہاد ہتھیاروں کا چرچا کیا گیا اور اس سلسلے میں امریکی جاسوس اداروں کی ان رپورٹوں کو کہ صدام حسین کے پاس ایسا کوئی ہتھیار نہیں، دبا دیا گیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ابتدا عراق کو نام نہاد آزادی دلانے کے نام پر شروع کر دی گئی، حالانکہ سوجھ بوجھ رکھنے والے امریکیوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان جنگوں کو عراق کی تیل کی دولت حاصل کرنے کی جنگ قرار دیتی ہے۔ اور یہ تو خیر ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جب اس جنگ کے آغاز پر امریکہ میں پٹرول، گیس کی قیمتیں بڑھیں تو اس پر زیادہ ردعمل نہیں ہوا کیونکہ حماقت کی حد تک بھولا عام امریکی اس خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ عنقریب عراقی تیل کی ریل پیل ہونے والی ہے اور تیل کی قیمتیں واپس اپنی سطح پر آ جائیں گی بلکہ یہ قریب قریب مفت ملنے لگے گا کیونکہ اس سے اصل منافع تو امریکہ یہ تیل دوسرے ملکوں کوبیچ کر حاصل کرے گا۔ پھر یہاں امریکہ میں جو پٹرول، گیس 79 سینٹ سے 99 سینٹ گیلن (جی ہاں امریکہ میں لیٹر نہیں ہے) بکتا تھا وہ تین چار ڈالر گیلن تک پہنچ گیا۔ ڈک چینی، رمز فیلڈ وغیرہ ، جن کے تیل کے بڑے بڑے ذخائر تھے، انہوں نے سستا خریدا ہوا تیل خوب مہنگے داموں بیچا جو اب تک اسی طرح بک رہا ہے۔

عراق افغانستان جنگ کے بارے میں چونکہ ابتدا ہی جھوٹ سے ہوئی تھی، اس لئے اس میں ہر مرحلے پر جھوٹ کا سب سے زیادہ عمل دخل رہا ہے۔ عراق اور افغانستان کی جنگ میں مرنے والے عام شہریوں کے بارے میں درست اعداد و شمار میسر نہیں ہیں۔ بہت عرصے تک افغانستان اور عراق سے آنے والے امریکی فوجیوں کی لاشوں کی وصولی کی تقریبات اور تصاویر پر پابندی رہی، اب بھی ان کا کوئی چرچا نہیں کیا جاتا۔ اگر کسی دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد جھوٹی سچی بتا بھی دی جائے تو ان کی لاشوں کی آمد وغیرہ میڈیا میں جگہ نہیں پا سکتی۔ اپنے قومی مفاد میں امریکی میڈیا کی جانب سے اپنی حکومت سے مکمل تعاون کیا جاتا ہے، یہ سنسر نہیں ہے، کیونکہ میڈیا گروپوں کے مفادات اور سرکار کے مفادات کسی نہ کسی سطح پر جا کر ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں ، پھر امریکی محاورے کے مطابق ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کو دھوتا ہے۔

عراق اور افغانستان میں عام شہریوں کے مرنے کی تعداد بھی اسی طرح اندازوں پر مشتمل ہے۔ عراق میں ایک ادارے اوپینئین ریسرچ بزنس سروے کے مطابق 2009ءتک دس لاکھ سے زائد شہری (غیر فوجی) مارے جا چکے تھے۔ ان اعداد و شمارکے بارے میں ایک مشکل یہ ہے کہ یہ ابتدائی برسوں کے متعلق بھی نہیں ملتے اور یہ رواں سال تک بھی میسر نہیں ہیں۔ افغانستان میں 2005ءتک کے اعداد وشمار حاصل نہیں، 2007ءسے 2012ءتک حکومت افغانستان کے حامی اور مخالف غیر فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد سولہ ہزار ایک سو نواسی تھی۔ اسی طرح عراق اور افغانستان میںمارے جانے والے امریکیوں کی تعداد کے بارے میں مختلف اندازے ہیں، ایک اندازے کے مطابق صرف افغانستان میں دو ہزار سے زائد امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں، جبکہ عراق میں ان کی تعداد چار ساڑھے چار ہزار تک ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ ان دونوں جنگوں میں اب تک چھ سات ہزار امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں، اگرچہ امریکہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ اس کا جانی نقصان کم ہو، اس لئے وہ مشینی لڑائی کو ترجیح دیتا ہے۔

 ان دونوں جنگوں میں امریکیوں کے ٹیکسوں کے کھربوں ڈالر جھونک دیئے گئے۔ 2003ءسے 2010ءتک کل اخراجات کا تخمینہ ساڑھے تین سے چار کھرب ڈالر تک کا ہے۔ سرکار کے براہ راست فوجی اخراجات 757.8 ارب ڈالر بتائے جاتے ہیں۔ ایک اندازہ ہے کہ ان جنگوں کے متاثرہ فوجیوں کی بحالی اور امداد پر 2050ءتک ایک کھرب ڈالر اضافی خرچ کرنا پڑے گا۔ تین بار ان جنگوں کے لئے مختص کی گئی رقم کم پڑ گئی اور حکومت کو ہنگامی اضافی بجٹ کی منظوری لینا پڑی جب اس جنگ کا آغاز ہوا تو نائب صدر ڈک چینی نے ”میٹ دی پریس“ پروگرام میں ٹم رسل کو بتایا تھا کہ اس جنگ پر سالانہ دس ارب ڈالر خرچ ہوں گے اور کل اخراجات اسی ارب ڈالر تک ہو سکتے ہیں۔ اب اس جنگ کے نتیجے میں دنیا کی واحد سپر پاور کے بجٹ کا خسارہ ساڑھے سترہ کھرب ڈالر کی حدوں سے نکل گیا ہے ملک کے اندر بے روزگاری نے سنگین مسئلے کی صورت اختیار کر لی ہے ۔ بڑھاپے میں بے آسرا اور کم آمدن امریکیوں کے ذلیل و خوار نہ ہونے کی ضمانت سے اعتبار اٹھنے لگا ہے، کیونکہ سوشل سیکیورٹی فنڈز میں کٹوتی کی تجاویز زیر غور ہیں۔

غریب امریکیوں کو خوراک کے حصول کے لئے ملنے والے ”فوڈ سٹیمپ“ پروگرام میں کٹوتی ہونے والی ہے۔ صدر باراک اوباما نے اب تک جو واحد کارنامہ انجام دیا ہے وہ صحت کا پروگرام ہے، جسے ری پبلکن طنز سے” اوباما کیئر“ ، کا نام دیتے ہیں۔ اس پروگرام میں کچھ اچھی باتیں ہیں جن سے صحت کے معاملے میں عام امریکیوں کو کچھ سہولتیں مل سکیں گی، لیکن اب اس کے نفاذ کو دو تین سال کے لئے ملتوی رکھنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی اتنی بھاری قیمت ادا کرنے کے باوجود اگر عالم یہ ہے کہ القاعدہ کے خاتمے کی خوش خبری کے ساتھ ساتھ آدھی دنیا میں خوف کے مارے امریکی سفارت خانے بند رکھنے کے اعلانات بھی ہو رہے ہیں تو پھر ان تمام لوگوں کو اور ان تمام حلقوں کو سوچنا چاہئے کہ اس جنگ کو جاری رکھنے کا فائدہ کیا ہے اور نقصان کیا ہے، اگر اس خوف میں زندگی گزارنا تھی تو لاکھوں غیر فوجیوں کی زندگیوں، ہزاروں امریکیوں کی زندگی اور کھربوں روپے کے اخراجات کو داﺅ پر لگانے کی کیا ضرورت تھی۔ میرا خیال ہے کہ یہ سب کچھ نہ ہوتا تو شاید ایسا خوف نہ ہوتا کہ اس جنگ سے پہلے کبھی خوف کی یہ حالت نہ تھی۔ اس جائزے میں دہشت گردی کی جنگ کے دوسرے حلیفوں پاکستان وغیرہ کے نقصانات کا جائزہ اس لئے نہیں لیا گیا کہ یہ ایک الگ موضوع ہے اور اس میں اگر عام پاکستانی کا نقصان ہوا ہے تو کچھ حلقوں کو ”فائدہ“ بھی ہوا ہے ، شاید امریکہ انہی حلقوںکے ذریعے، خواہ ان کا تعلق پاکستان سے ہو یا امریکہ سے ، خوف کی ایک فضا کو مسلسل قائم رکھنا چاہتا ہے تاکہ عراقیوں اور افغانوں کی زندگیوں، پاکستانی قبائلیوں کی زندگی اور عام امریکیوں کی غربت کی قیمت پر مخصوص طبقوں کے مفادات کی یہ جنگ ختم نہ ہونے پائے، جب تک خوف ہے، یہ جنگ جاری رکھنے کا جواز موجود ہے اور شاید آدھی دنیا میںامریکی سفارت خانوں کو بند کر کے خوف کی فضا پیدا کر کے عام امریکیوں کو ایک بار پھر بے وقوف بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ وگرنہ اس قیمت پر کون عقل مند یہ خوف خریدنے کو تیار ہوگا۔     ٭

مزید : کالم