اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے

اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے

  

عید الفطر، مسلمانوں کا سب سے بڑا تہوار، جس خوف کے عالم میں گزرا، اس کی ایک جھلک یہ ہے کہ تمام مساجد اورعید گاہوں میں شہروں کے اکابرین نماز کی ادائیگی کے لئے پہنچے ہی نہیں، اسلام آباد سے حیدرآباد تک یہی صورت حال تھی۔ کوئٹہ میں ایک روز قبل ہی ایک خود کش حملے میں جس بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور اس میں پولیس فورس کے اہم افسران سمیت تیس سے زائد افراد جاںبحق ہو ئے، ایک وجہ وہ تھی۔ جو عناصر بھی ان دل خراش واقعات کے پس پشت ہیں ،وہ خوف پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ حکومتوں کی ساکھ کو اس حد تک متاثر کر چکے ہیں کہ خود حکومت کے اہم اور با اختیار اکابرین اپنی جان کے تحفظ کے خوف میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ دارالحکومت اسلام آباد کی فیصل مسجد میں عیدین کے بڑے اجتماع ہوتے ہیں ،جہاں صاحب اختیار، بااثر، ایوان اقتدار کی غلام گردشوں کو اپنے اشاروں پر چلانے والے اصحاب بھی اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سر جھکانے آتے ہیں، لیکن تمام ٹی وی چینلوں نے یہ خبر دے کر ملک بھر میں عوام کو مزید خوف زدہ کردیا کہ اصحاب اقتدار نے ادائیگی نماز کا مقام اچانک تبدیل کردیا اور اپنے آپ کو فیصل مسجد سے دور رکھا۔ بظاہر اس کی وجہ ایک ہی ہے کہ کسی بھی حادثے سے اپنے آپ کو محفوظ رکھا جاسکے۔ خود کش اتنے طاقت ور ہو چکے ہیں کہ وہ جہاں چاہتے ہیں، اچانک حملہ آور ہوتے ہیں اور اپنی کارروائی کر گزرتے ہیں۔ ان سے بہتر تو وہ خواتین ہیں جو چاند رات کو بازاروں پر حملہ آور ہو ئی تھیں۔

اس خوف کی وجہ سے ایک اور حیران کن بات دیکھنے میں آئی کہ عیدین کے موقع پر لوگ جان پہچان والوں کے ساتھ ساتھ انجان لوگوں سے بھی ملاقات کرتے ہیں، تبادلہ مبارک باد کرتے ہیں ، مصا فحہ کرتے ہیں، لیکن اس مرتبہ لوگوں نے ادائیگی نماز کے بعد اپنی فوری واپسی کو یقینی بنایا۔ اکثر مقامات پر نمازیوں کی حفاظت کا انتظام رضاکاروں نے کیا کہ پولس کی مطلوبہ نفری ہی موجود نہیں تھی۔ اکا دکا پولیس والے کر بھی کیا سکتے ہیں۔ غرض یہ کہ دہشت گرد پیش قدمی کر رہے ہیں اور وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنے اوسان خطا کر رہی ہیں۔ اس سے قبل کہ دہشت گردوں کی یہ پیش رفت حوصلہ شکنی کی وجہ قرار پائے اور کسی بھی روز اسلام آباد کو اپنے گھیرے میں لے ، بامقصد اور نتیجہ خیز فوری کارروائی ناگزیر ہوگئی ہے۔ دہشت گردوں کی پیش رفت کو روکنے کے لئے مملکت کے امور کو چلانے والی قوتوں کو آگے بڑھنا ہی ہوگا اور بڑھنا بھی چا ہئے ۔اس پر بحث بعد کے لئے رکھ چھوڑتے ہیں کہ علاقائی سیاست میں کس کا کیا کردار ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے میں مالی معاونت کون کر رہا ہے؟ خود کش حملہ آوروں کے بس کی بات نہیں کہ مہنگی ترین کارروائیاں کر کے سب کو حیران کر سکیں۔ ان کے پس پشت وہ عناصر بھی ہیں جو ان خود کش حملہ آوروں کو جلد سے جلد جنت پہنچنے پر آمادہ کر رہے ہیں۔

حیران کن اور بحث طلب سوال یہ ہے کہ پاکستان میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کا خفیہ اطلاعات جمع کرنے کا ایک ایسا مضبوط جال موجود ہے کہ کسی بھی سرگرمی اور غیر قانونی کارروائی کی پیشگی اطلاع حاصل کی جاسکتی ہے تو پھر حکومت پاکستان کے وہ تمام ادارے ،جن کی ذمہ داری ہی خفیہ اطلاعات جمع کرنا اور مقعلقہ اداروں کو مطلع کرنا ہے، کیوں ناکام ہو رہے ہیں۔ کیا کوئی گہری سازش ہے کہ پاکستان میں انٹیلی جنس اکٹھی کرنے کی صلاحیت کو ہی مفقود کر دیا جائے اور اسے اتنا غیر موثر کر دیا جائے کہ کچھ ہونے سے قبل حکومت کو کچھ علم ہی نہ ہو سکے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ان اداروں کے سربراہوں سے معلوم تو کیا جائے کہ آخر خود کش حملہ آوروں کی صورت میں لوگ شہروں کے درمیان کیوں کر منتقل ہو سکتے ہیں اور وہ کیوں کر اپنے اہداف حاصل کر پاتے ہیں۔ ان خود کش حملہ آوروں کو اگر جنت ہی طلب کر رہی ہوتی ہے تو انہیں جنت کے سفر پر جانے سے روکنے والے ادارے کہاں غائب ہوتے ہیں اور کیوں نہیں بر وقت اپنی کارروائی کر پاتے ہیں۔ جنت کے مسافروں میں اپنا سفر مکمل کرنے کی عجلت کون پیدا کر رہا ہے اور اس کی تیاری کہاں ہو رہی ہے؟ اپنی جگہ اہم ترین سوال ہے۔ اس سوال کا جواب بھی ہمیں ہی تلاش کرنا ہوگا کہ آخر یہ جنت میں جانے کا فنا منا کیا ہے ، کیوں ہے ؟ کیا یہی دین سے محبت کا تقاضا ہے کہ انسانوں کو نا گہانی انداز میں قتل کر دیا جائے۔ جنت میں جانے والے سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ان انسانوں کو جہنم رسید کر دیا۔ اگر ایسا ہے تو پھر اللہ رب العزت نے کسی بھی انسان کو قتل کرنے سے کیوں منع فرمایا ۔ دین اسلام نے تو منکرین اور مشرکین کو بھی قتل کرنے کی اجازت نہیں دی ہے ۔

 پاکستان میں خود کش حملوں کی تعداد سینکڑوں سے تجاوز کر گئی ہے ۔ چند ایک زندہ گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔ ان گرفتار شدہ افراد سے معلومات بھی حاصل ہوئی ہوں گی، ان کی روشنی میں کیا کارروائی کی گئی کہ ان پر اب تک قابو کیوں نہیں پایا جا سکا۔ عین عید کے روز شیعہ فرقے کی ایک مسجد پر رضاکاروں نے ایک حملہ آور کا کام تمام کر دیا ،جس کے بعد یہ خبر بھی نشر ہوئی کہ اس کا تعلق شمالی وزیرستان سے تھا، پھر خبر آئی کہ پنجاب کے علاقے چینوٹ سے تھا۔ کیا وزیر ستان حکومت پاکستان کی دسترس سے باہر ہے؟ کیا وزیر ستان آنے اور جانے والے راستوں کی نگرانی نہیں کی جاسکتی کہ ہر آنے اور جانے والے کو اپنی شناخت کے ساتھ ساتھ وزیر ستان سے جانے کی وجہ بیان کرنے کا پابند کیا جائے۔ چینوٹ میں جو کچھ ہو رہا ہے ،وہاں کی پولیس اور دیگر اداروں کے افسران اگر ناواقف ہیں تو انہیں رخصت کیا جائے۔ معروضی حالات تو بتاتے ہیں کہ پاکستان کے خفیہ اداروں میں اوپر سے نیچے تک چھان پھٹک کی فوری ضرورت ہے۔ معلومات اکٹھی کرنے اور بر وقت رپورٹنگ کرنے کے لئے ان اداروں میں نچلی سطح پر بھی بڑی تبدیلیاں لانے کی اشد ضرورت ہے۔ ہماری انٹیلی جنس جمع کرنے کی صلاحیت پر بڑا سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔

اپنے وقت کے فرانسیسی ممتاز فلسفی دانشور سارتر ایک جگہ لکھتے ہیں کہ خاموش تماشائی اور غیر جانبدار لوگ بزدل یا غدار ہوتے ہیں اور ان کا شمار ظالموں کا ساتھ دینے والوں میں کیا جانا چاہئے۔ انٹیلی جنس کے اداروں کے سربراہ اپنی صفائی میں کیا کہیں گے؟ یہ کیو ں ممکن نہیں کہ کسی فرد سے قانون نافذ کرنے والے ادارے یہ سوال کر سکیں کہ کہاں اور کیوں جارہے ہو، یہ تو اس وقت اور بھی لازمی ہو جاتا ہے، جب مستند اطلاعات موجود ہوں کہ خود کش حملہ آور وزیر ستان سے ہی ملک کے دیگر علاقوں میں پہنچ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں داخل ہونے اور ایک شہر سے دوسرے شہر میں آنے اور جانے والوں کے بارے میں مکمل کوائف جمع کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ حالات معمولی نہیں ہیں، ملک کا وجود خطرے میں ہے، پاکستان حالت جنگ میں ہے۔ حکومتوں کو کیوں نہیں سمجھ میں آتا ہے کہ اس تماش گاہ میں ریمنڈ ڈیوس (ڈیول ) شہر شہر میںپھیلے ہوئے ہیں۔ یہ سمجھنا ہوگا۔ وزیراعظم ، وزیر داخلہ ،تمام وفاقی وزراءاور صوبائی حکومتوں کو کمرکسنا ہوگی....” اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے ، پھر دیکھ خدا کیا کرتا“.... غیر معمولی حالات میں ہی غیر معمولی اقدامات کرنا ہوتے ہیں اور جب ملک اور عوام کے وجود کو بچانے کا سوال ہو تو کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے ،کسی بھی ہچکچاہٹ یا کسی تامل کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔ خوف، مصلحت ، منافقت اور سمجھوتہ پاکستان کے وجود کو بچانے کے لئے لڑنے کا نام نہیں ہیں۔ اپنے زمانے کے معروف مزا حمتی شاعر حبیب جالب نے کہا تھا:

اس دیس میں لگتا ہے عدالت نہیں ہوتی

جس دیس میں انساں کی حفاظت نہیں ہوتی

مخلوق خدا جب کسی مشکل میں پھنسی ہو

سجدے میں پڑا رہنا عبادت نہیں ہوتی

ہم خاک نشینوں سے ہی کیوں کرتے ہیں نفرت

کیا پردہ نشینوں میں غلا ظت نہیں ہوتی

سر آنکھوں پہ ہم اس کو بٹھا لیتے ہیں اکثر

جس کے کسی وعدے میں صداقت نہیں ہوتی

ہر شخص اپنے سر پہ کفن باندھ کے نکلے

حق کے لئے لڑنا تو بغاوت نہیں ہوتی

مزید : کالم