شریعت کے پیمان ہم نے جو توڑے (2)

شریعت کے پیمان ہم نے جو توڑے (2)
شریعت کے پیمان ہم نے جو توڑے (2)

  

دو روز قبل جب مَیں نے غیر ملکی میڈیا پر یہ خبر دیکھی تھی کہ انڈیا نے اپنی پہلی جوہری آبدوز کو سمندری ٹرائل کے لئے کمیشن کردیا ہے تو میرے ذہن میں مولانا حالی کا وہ شعر گونج گیا تھا،جس کا پہلا مصرعہ اس کالم کا عنوان ہے اور دوسرا وہ ہے جس میں ”اہلِ مغرب“ کا ذکرکیا گیا ہے،لیکن جب مَیںنے بھارتی بحریہ کی اس آبدوزی ڈویلپمنٹ کا احوال پڑھا تو مجھے خیال آیا کہ مولانا اگر آج زندہ ہوتے تو اپنے اس شعر کو یوں موزوں کرتے:

شریعت کے پیمان ہم نے جو توڑے

وہ لے جا کے غیروں نے سب آج جوڑے

چین اور بھارت کا شمار تو اہلِ مغرب میں نہیں ہوتا۔یہ دونوں تو خالصتاً مشرقی ممالک ہیں۔ اور دونوں جوہری آبدوزیں بنا رہے ہیں اور جہاں تک جاپان کا تعلق ہے تو اس نے تو آج سے ستر برس پہلے آبدوز ٹیکنالوجی پر دسترس حاصل کرلی تھی۔وہ اگر چاہے تو آج کئی جوہری آبدوزیں سمندر میں اتار سکتا ہے۔اس کے جوہری ری ایکٹروں کا جو احوال آپ نے سونامی کے حادثے میں دیکھا اور پڑھا تھا، اس کو یاد کیجئے تو آپ شائد میرے ہم نوا ہو جائیں کہ اگر جاپان کو دوسری عالمی جنگ میں جوہری بمباری کا سامنا نہ ہوتا اور وہ بعض عالمی پابندیوں یا خود اپنے وضع کردہ عسکری اصولوں پر کاربند نہ ہوتا تو بھارت کا تو سوال ہی کیا وہ چین سے بھی کہیں پہلے درجنوں جوہری آبدوزیں تیار کر سکتا تھا۔جاپان کی آبدوز سازی کی صنعت ایک الگ اور وسیع موضوع ہے جو آپ متعلقہ حوالوں میں پڑھ سکتے ہیں۔

ہم یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ پاکستان ایک چھوٹا ملک ہے.... مجھے خبر نہیں کہ ہم جاپان اور برطانیہ سے بلحاظِ رقبہ یا آبادی کتنے چھوٹے یا کتنے بڑے ہیں اور نہ اب اپنے دورِ غلامی کی ”آڑ“ میں پناہ لے سکتے ہیں۔ہمیں معلوم ہے کہ جب 1918ءمیں جرمنی کو پہلی عالمی جنگ میں اتحادیوں کے ہاتھوں شکستِ فاش کا سامنا ہوا تھا ،تو معاہدئہ ورسیلز کی رُو سے اس کی فوج کی تعدادصرف ایک لاکھ کردی گئی تھی، جس میں افسروں کی تعداد محض 4000مقرر کی گئی تھی۔اس کو جنگی طیارے، جنگی بحری جہاز اور ٹینکوں کے علاوہ تمام قسم کے بھاری ہتھیاروں کی پروڈکشن بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں 1919ءمیں جرمنی کی حالت، ہمارے دورِ غلامی کے ہندوستان سے بھی کہیں زیادہ بدتر تھی،لیکن اس شکست خوردہ، مقروض اور ”ذلیل شدہ“ جرمن قوم نے صرف 20برسوں میں وہ مقام حاصل کیا کہ ساری دنیا کی مجموعی عسکری قوت کو یورپ اور شمالی افریقہ کے میدانوں سمندروں اور فضاﺅں میں شکستوں پر شکستیں دے کر لرزہ براندام کر دیا۔ سارے یورپ میں صرف برطانیہ اور روس کا تھوڑا سا حصہ باقی رہ گیا تھا،جس پر جرمنی کا قبضہ نہ تھا۔جنگ کے پہلے تین سالوں (1939ءسے 1942ءتک) میں ہٹلر نے اپنی قوم کو پاتال سے اٹھا کر اوجِ ثریا پر بٹھا دیا۔جرمنی نے ہمارے دورِ غلامی سے بدتر حالات میں رہ کر شمشیریں بھی بنائیں، ذوقِ یقیں بھی پیدا کیا اورزنجریں بھی کاٹ ڈالیں۔ ہم پاکستانی اگر 66برس سے اللہ کریم کے فضل و کرم سے ”آزاد قوم“ بنے ہوئے ہیں تو کیا اب بھی ہم غلامی کی آڑ میں پناہ لے سکتے ہیں؟....صرف چند ایٹمی ہتھیار بنا کر بیٹھ جانا تو آزادی نہیں کہلا سکتا؟

ہمارا دشمن نمبر ایک تو جنم جنم کا غلام تھا۔ اس نے ایک ہزار سالہ دورِ غلامی دیکھا اور وہ اب پاک بھارت بریکٹ سے نکل کر چین، بھارت بریکٹ میں جانے کے سفر پر گامزن ہے اور ہم ہیں کہ تورا بورا کی طرف جا رہے ہیں۔بھارت کی یہ آبدوز کہ جس کا نام ”آری ہانت“ (Arihant)رکھا گیا ہے، بنا لینا، اسے خود آپریٹ کرلینا اور اس پر سمندری ٹرائلز کا آغاز کرلینا ایک ایسا واقعہ ہے جس پر ہم من حیث القوم سوئے ہوئے ہیں.... لوگ یہ کہتے بھی سنے گئے ہیں کہ نجانے حضرتِ قائداعظم نے پاکستان کیوں حاصل کیا تھا اور حضرت اقبال نے تصور پاکستان کے لئے مسلمانانِ برصغیر میں ایسی کیا خوبی دیکھی تھی جو آج ایک ڈراﺅنا خواب (Nightmare)بن کے رہ گئی ہے!

امید ہے کہ میرے ”غالب“ مجھے اس تلخ نوائی سے معاف فرمائیں گے کیونکہ جب دل میں درد سِوا ہو جائے تو ایسی تلخی ناگزیر ہو جاتی ہے۔مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ ہم ایک بڑی بہانہ ساز قوم ہیں۔ہم اپنی نااہلی کے درجنوں جواز ڈھونڈ لائیں گے۔لیکن وہ جو سیانوں نے کہا ہوا ہے کہ اگر من حرامی ہو تو حجتیں ،ڈھیر ساری ہو جاتی ہیں تو ہم تو سراپا حجت ہو چکے ہیں۔ڈر ہے کہ میں پھر اصل موضوع سے ہٹ رہا ہوں....ہم بھارت کی ایٹمی آبدوز کی بات کررہے تھے۔

ہمارے بیشتر قارئین صرف اتنا جانتے ہیں کہ آبدوز ایک ایسی جنگی کشتی ہے جو سطح آب سے نیچے سفر کرتی ہے، اس میں سے میزائل (تارپیڈو) فائر ہو کر سطحِ آب پر رواں بحری جہازوں کے پیندے میں دھماکہ کر دیتے ہیں، جس سے وہ جہاز ڈوب جاتے ہیں....چلیں فی الحال اتنی ”معلومات اور آگہی “ ہی کافی ہے۔

لیکن نہایت مختصر طور پر عرض کرنا چاہوں گا کہ آبدوزوں کی دو اقسام ہیں۔ایک کو روائتی آبدوز (Conventional Submarine) کہا جاتا ہے اور دوسری کو جوہری آبدوز....کنونشل آبدوز بجلی سے یا ڈیزل انجن کی مدد سے چلتی ہے۔پاکستان کے پاس بھی کئی ڈیزل آبدوزیں ہیں جو سب کی سب ہم نے باہر کے ممالک سے خریدی ہیں۔اسی طرح بھارت کے پاس بھی روائتی آبدوزوں کا ایک بڑا بیڑا ہے۔اس آبدوز کی ”عمر“ 25برس ہوتی ہے۔اس کے بعد اسے ”ڈی کمیشن“ کردیا جاتا ہے۔یعنی یہ کسی آپریشن میں استعمال ہونے کے قابل نہیں رہتی۔اس وقت بھارت کے پاس کنونشل آبدوزوں کا جو بیڑا ہے وہ 2017ءمیں (25برس کا ہو کر)بیکار ہو جائے گا۔پاکستان کے بیڑے میں البتہ کئی ”نوجوان“ آبدوزیں بھی ہیں (مثلاً آگسٹا کلاس وغیرہ)۔

ڈیزل اور بجلی سے چلنے والی آبدوزوں میں ایک خرابی یہ ہے کہ اسے ایک خاص عرصے کے بعد تازہ ہوا کے لئے سطحِ آب پر آنا پڑتا ہے۔اس وقت اس کو (Depth Charge)کے ذریعے غرقاب کیا جا سکتا ہے.... یہ ڈیپتھ چارج کیا ہے ؟....آپ یہی سمجھ لیں کہ یہ ایک ایسا میزائل ہے جو کسی فضائی پلیٹ فارم (ہیلی کاپٹر وغیرہ) سے فائر کرکے آبدوز کو ڈبو دیتا ہے۔

دنیا کی پہلی آبدوز 1624ءمیں ایک برطانوی انجینئر نے بنائی تھی جس کا نام کارنیلس (Cornelius)تھا۔وہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر بھی تھا۔اس کے بعد 1804ءمیں ڈیوڈ بش نل (یہ امریکی تھا) نے اس طرف مزید توجہ دی۔پھر ہالینڈ، جرمنی، فرانس اور امریکہ نے اس کو مزید ڈویلپ کیا۔پہلی جنگ عظیم میں جرمنی کی آبدوزوں کو ”یوبوٹ“ کہا جاتا تھا جنہوں نے بحراوقیانوس میں درجنوں اتحادی جہازوں کو غرقاب کیا۔

جوہری آبدوز وہ آبدوز ہے جو ڈیزل یا بجلی سے نہیں بلکہ جوہری ری ایکٹر سے چلتی ہے۔اس کو سطح آب پر آنے کی ضرورت نہیںہوتی۔یہ چار ماہ تک مسلسل زیرِآب رہ سکتی ہے اور اس کے بعد بھی اگر عملے کے لئے راشن پانی درکار نہ ہو تو مزید طویل عرصے تک پانی کے اندر آپریٹ کرسکتی ہے۔اس کی یہی خوبی اس کو روائتی آبدوزوں کے مقابلے میں ممتاز کرتی ہے۔

پہلی جوہری آبدوز 1954 ءمیں امریکہ نے بنائی۔اس کا نام ناٹی لس (Nautilus)رکھا گیا۔یہ 320فٹ لمبی تھی اور تب اس پر 55لاکھ ڈالر لاگت آئی تھی۔امریکہ کے مقابلہ میں سوویت بحریہ نے بھی اگلے دو برسوں میں اپنی جوہری آبدوز بنا لی۔1997ءتک روس کے پاس 245جوہری آبدوزوں کا ایک وسیع بیڑا موجود تھا۔یہ تعداد باقی چار جوہری ممالک (امریکہ، فرانس، برطانیہ، چین) کے جوہری آبدوزی بیڑوں کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ تھی۔

اب تک صرف پانچ جوہری ممالک کے پاس جوہری آبدوزیں تھیں۔بھارت دنیا کا چھٹا ملک ہے،جس نے یہ جوہری آبدوز بنائی ہے۔ جوہری آبدوز کی عمر 30برس ہوتی ہے۔اس کے بعد اسے ریٹائر کرنا پڑتا ہے۔جوہری ممالک بھی اپنی کئی جوہری آبدوزوں کو ریٹائر کر چکے ہیں۔

لیکن جوہری آبدوز میں ایک بڑی خامی بھی ہے۔وہ یہ ہے کہ جب یہ سطحِ سمندر کے نیچے چلتی ہے تو روائتی آبدوز کے مقابلے میں اس کا شور کہیں زیادہ ہوتا ہے۔چونکہ اس میں نصب ایٹمی ری ایکٹر سے شدید اور کثیر مقدار میں حرارت خارج ہوتی ہے، اس لئے یہ اپنے عقب میں گرم پانی کی ایک لکیر چھوڑتی جاتی ہے جو جلد ہی سطحِ آب پر آ جاتی ہے اور اس طرح کہیں آس پاس اپنی موجودگی کا سراغ دے دیتی ہے۔

اس انڈین آری ہانت سب میرین کی لمبائی 370فٹ ہے اور اس کی زیرِ آب رفتار 44کلومیٹر تک جا سکتی ہے۔ یہ 980فٹ گہرائی تک غوطہ لگا سکتی ہے۔اس کے عملے کی تعداد 95ہے۔اس میں 12عدد میزائل اور 6عدد تارپیڈو نصب ہیں۔آری ہانت سنسکرت کا لفظ ہے ،جس کا معنی ہے : ”دشمن کا قاتل“ ۔ انڈیا اس قسم کی تین اور جوہری آبدوزیں اپنے شپ یارڈوں میں بنا رہا ہے۔یہ چاروں کی چاروں 2023ءتک کمیشن ہو جائیں گی۔ اور یہ پہلی آری ہانت بھی ٹرائلز کے بعد اگلے سال (2014ئ) میں باقاعدہ بھارتی بحریہ میں انڈکٹ کر لی جائے گی۔انڈیا نے یہ پروگرام 1998ءمیں شروع کیا تھا جواب 15برس بعد جا کر بارآور ہوا ہے۔

قارئین محترم !میرا مقصود اس تحریر سے شاعری یا شعراءپر تنقید کرنا نہ تھا اور نہ ہی میں نے بھارتی بحریہ کی تعریف کرکے پاک بحریہ کے کسی پروفیشنل پہلو پر کوئی منفی تاثرات مرتب کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں تو قارئین کو یہ آگہی دیناچاہتا ہوں کہ اگر آج بھارت کا میڈیا لائن آف کنٹرول پر اپنے پانچ سپاہیوں کی ہلاکت کی ذمہ داری پاکستان پر ڈال رہا ہے اور بین الاقوامی (یا علاقائی) میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش میں ہے تو کیا ہمارا میڈیا انڈین نیوی کی اس نئی ڈویلپ منٹ کی غرض و غائت پر کوئی ٹاک شو منعقد نہیں کر سکتا؟ ....کیا بھارت چار جوہری آبدوزوں کا بیڑا صرف چین کے لئے بنا رہا ہے؟....کیا اس کے لانگ ٹرم اثرات و مضمرات پاک بحریہ کی آپریشنل کارکردگی کو متاثر کرسکتے ہیں؟.... کیا گوادر کی گہرے پانی کی بندرگاہ میں مستقبل کے چینی عمل دخل کا کوئی تعلق اس آری ہانت کلاس آبدوز سے بھی ہے؟.... کیا پاکستان کو بھارت کے وسیع و عریض مشرقی اور مغربی ساحلوں کی انٹیلی جنس کے موضوع کو ذہن میں نہیں رکھنا چاہیے؟....

ہمارا میڈیا اگر اس نوع کے دوسرے سوالات کو کسی ٹی وی پروگرام کا حصہ بنا کر پاکستانی ناظرین کو بھی انفارم اور ایجوکیٹ کر دے تو اس میں کیا ہرج ہے؟؟

(ختم شد)  ٭

مزید :

کالم -