زکوٰة (آخری قسط)

زکوٰة (آخری قسط)
زکوٰة (آخری قسط)

  

(4) نصاب: زکوٰة صاحب ِ نصاب پر فرض ہے۔ صاحب ِ نصاب اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے کھانے پینے، رہائش، لباس، سواری، گھر کا سامان مثلاً برتن، قالین، فرنیچر،کتب، بجلی کا سامان اور ٹیکس وغیرہ تمام اخراجات پورے کرنے کے بعد جو کچھ اس کے پاس مال بچے جس پر پورا ایک سال گزرچکا ہو اور مقروض بھی نہ ہو، تو اس پر زکوٰة فرض ہے۔ صاحب ِ نصاب کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی یا ان کے برابر نقدی موجود ہو جس پر پورا ایک سال گزر چکا ہو ،تو اس پر زکوٰة واجب ہے۔ زکوٰة سال میں صرف ایک بار فرض ہے، اس کے لئے مہینوں کی کوئی شرط نہیں ہے، لیکن رجب، شعبان اور رمضان المبارک کے مہینوں میں زکوٰة کا تقسیم کرنا افضل ہے۔ اس کے لئے نیت کرنا لازمی ہے، یعنی کسی مستحق کو دیتے وقت زکوٰة کی نیت دل میں کرنا ضروری ہے۔ زکوٰة وصول کرنے والوں کو اس کا مالک بنا دینا لازم ہے۔ زکوٰة واجب ہونے کی شرائط اس طرح سے ہیں۔ (i) مسلمان ہونا،(ii) عاقل ہونا، (iii) بالغ ہونا،(iv) مالک ِنصاب ہونا، (v) مقروض نہ ہونا، (vi) آزاد ہونا، (vii) مال پر پورے سال کا گزرنا، جن رشتہ داروں کو زکوٰة دینا جائز ہے، جنہیں دینے سے دوگنا ثواب اور اجر ملے گا۔ ایک تو صلہ رحمی اور دوسرا انہیں زکوٰة دینے کا قریبی رشتہ داروں مثلاً پھوپھی، خالہ، ماموں، چچا اور ان کی اولاد کا پہلے حق بنتا ہے اور انہیں زکوٰة دینا بہتر ہے۔ اگر کسی شخص کو مستحق سمجھ کر زکوٰة دے دی گئی ہو اور بعد میں معلوم ہوا کہ وہ مستحق نہیں تھا تو زکوٰة ہو گئی۔ بہو، داماد، سوتیلی والدہ، سوتیلا باپ، زوجہ یا شوہر کی اولاد کو زکوٰة دینا جائز ہے۔ ان اشخاص کو زکوٰة دینا جائز نہیں ہے:ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی، بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ، نواسی۔ بیوی اپنے شوہر کو اور شوہر اپنی بیوی صاحبِ نصاب شخص کو ، غیر مسلم، سادات، مسجد کی تعمیر کے لئے اور میت کے گوروکفن کے لئے یا میت کا قرضہ ادا کرنا جائز نہیں، جو چیزیں رہن رکھی گئی ہوں تو ان پر رہن ر کھنے اور رہن کرنے والے دونوں پر زکوٰة واجب نہیں ہے۔

(5) علامہ اقبال ؒ نے مثنوی اسرار خودی میں زکوٰة کے بارے میں فرمایا ہے:

حُبّ دولت را فنا سازد زکوٰة

ہم مساوات آشنا سازد زکوٰة

دل ز حتّٰی تنفقو محکم کند

زر فزاید الفتِ زر کم کند

ایں ہمہ اسباب و استحکام تسُت

پختہ ای محکم اگر اسلام تسُت

اہل ِ قوت شو ز وردِ یا قوی!

تا سوارِ اُشتر خاکی شوی

ترجمہ: زکوٰة دولت کی محبت کو انسان کے دل سے مٹاتی ہے اور زکوٰة انسانوں کو مساوات سے آشنا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ” لن تنالو البرحتی تنفقوا مما تحبون“ کے ذریعے زکوٰة انسان کے دل کو مضبوط کرتی ہے اور دولت کو بڑھاتی ہے، لیکن دولت کی محبت کو کم کرتی ہے۔ یہ سب ارکان دین کے لئے مضبوطی کے سبب ہیں۔ اگر تیرا اسلام محکم ہے تو تُو خود بھی مضبوط ہے۔ یا قوی کے ورد کے ذریعے قوت رکھنے والوں میں شامل ہو جا تاکہ اس قوت کے سہارے مٹی کے اونٹ پر سوار ہو سکے، یعنی دنیائے آب و گل کے بندھنوں پر غالب آ سکے“۔

(6) اپنا ایک ذاتی تجربہ قارئین کرام کی نذر کر رہا ہوں، جو حضرات زکوٰة ادا نہیں کرتے ،ان کے لئے مقامِ عبرت ہو گا۔ جب سے اللہ تعالیٰ کے فضل کرم سے صاحب ِ نصاب ہوا ہوں، زکوٰة کی پابندی کے ساتھ ادائیگی کر رہا ہوں۔ سورة توبہ میں جن آٹھ مصارف کا حکم دیا گیا ہے اُن میں سے ایک قیدی کی گردن چھڑانا بھی شامل ہے۔ میرا جی چاہتا رہا کہ باقی سات احکامات کی پیروی تو ہو رہی ہے۔ اے کاش! یہ شرط بھی پوری ہو جائے۔ ایک دن اخبار میں کسی قیدی کے وارث کی اپیل نظر سے گزری کہ اس کے بھائی کی قید سے رہائی کے لئے 70ہزار روپے دیت کی صورت میں ادا کرنے ہیں ، تعاون چاہئے۔ بندہ نے اسے اپنے گھر بلوایا، تمام حالات کا جائزہ لے کر اسے مطلوبہ رقم ادا کر دی اور وہ قیدی رہا ہو کر مجھے ملنے آیا۔ یوں اللہ تعالیٰ نے میری یہ آرزو بھی پوری فرما دی۔ اس کے علاوہ ارشادات ِالٰہیہ کے مطابق کسی یتیم کو نہیں جھڑکا، کسی سائل کو خالی نہیں جانے دیا۔

کسی بھوکے کو کھانا ضرورکھلایا، کئی بیوہ خواتین کا ماہانہ مقرر کیا ہے، کئی غریب بیٹیوں کی شادیوں میں مالی مدد بھی دی۔ اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق میری جس انداز سے مدد فرمائی، اس کا ذکر بھی سماعت فرمائیں۔20مئی2013ءکو دن کے اڑھائی بجے جبکہ مَیں اپنے ڈرائنگ روم میں تھا کہ پانچ ڈاکو ریوالور لہراتے ہوئے آن گھسے۔ تمام خواتین اور مردوں کو یرغمال بنا کر بڑی تسلی سے لاکھوں کا مال لوٹ کر فرار ہو گئے ۔یہ ڈاکہ بڑا پلینڈ تھا۔ بندہ نے اسی لمحہ عدالت الٰہی میں استغاثہ دائر کر دیا۔ میری فریاد فوراً قبول ہوئی اور اگلے روز21مئی قبل از دوپہر تمام ڈاکو معجزانہ طور پر گرفتار ہو گئے اور لوٹا ہوا زیور اور سامان سب واپس مل گیا۔ یوں اللہ رب العزت نے عزت افزائی فرما دی۔

(7): راقم محترمی جناب میاں محمد نواز شریف وزیراعظم پاکستان اور صوبائی وزراءاعلیٰ کی خدمت میں دست بستہ قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ کی طرف توجہ مبذول کروا رہا ہے اور اس پر دل و جان سے عمل کرنے کی استدعا کر رہا ہے۔ سورة الحج نمبر22آیت نمبر41کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:”یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں ملک میں اقتدار دیں تو وہ نظام صلوٰة اور نظام زکوٰة قائم کریں اور اچھے کام کا حکم دیں اور بُرے کاموں سے روکیں اور جملہ امور کا انجام اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں میں ہےO جب محمد ضیاءالحق ؒ صدارت کے عہدہ پرفائز ہوئے تو انہوں نے اپنی اولیں فرصت میں نظام زکوٰة و عشر قائم کر دیا تھا۔ ملک بھر میں مقامی زکوٰة کمیٹیاں بن گئیں۔ خود راقم چار سال تک چیئرمین رہا۔ اس کے بعد کسی حکومت نے اس طرف توجہ ہی نہیں فرمائی، جس کے نتیجے میں ہر آئے دن ایک نہ ایک نیا بحران پیدا ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ اگر تمام نہ سہی چند ایک ضروری اسلامی سزائیں سختی سے نافذ کر دی جائیں تو ملک میں مہنگائی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ امن و امان کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔ افراتفری اور آہ و زاری سے نجات مل سکتی ہے۔ مالی اعتبار سے ہماری معیشت مضبوط ہو سکتی ہے۔ غیروں کی امداد سے نجات مل سکتی ہے۔

ان گزارشات کے بعد مولانا روم ؒ کے اس شعر کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں۔

ابر نیاید از پئے منع زکات

و ز زنا خیزد وبا اندر جہات

مزید : کالم