زمین پرچمکتے ستارے

زمین پرچمکتے ستارے
زمین پرچمکتے ستارے

  

ماہم کی عمر 10 سال ہے،اسے آئینے سے نفرت تھی، خود کو دیکھتی تو بجھ جاتی،آئینے میں اسے اپنا کٹے ہونٹ والا چہرہ نظر آتا تو کٹ کر رہ جاتی ۔سکول میں ہرروزاسے ایک عذاب سے گزرنا پڑتا،کلاس فیلوزاسے دیکھ کرتمسخراڑاتیں،اسے پھٹے منہ والی کہہ کر بلاتیں،یہ ٹھٹھہ اسے چاروں طرف سے دبوچ لیتا تووہ بے ہوش ہو جاتی ۔ماہم کے ہونٹ پیدائشی طور پر کٹے ہوئے تھے، سامنے کے تین دانت نظر آتے ،تالو بھی نہیں تھا ،اس کی بات کم کم سمجھ آتی ،لیکن اس کی آنکھوں کی چمک بتاتی تھی کہ وہ بَلا کی ذہین بچی ہے ۔اس کی چھ بہنیں ہیںاور والد مزدوری کرتا ہے۔اس کی والدہ نے بتایا کہ اس نقص کی وجہ سے بچی سکول جانے سے خوفزدہ رہتی ہے اور ملنے والوں سے گھبراتی ہے ،ہمارے لئے یہ احسا س بڑا درد ناک تھا، لیکن ہم غربت کی وجہ سے بچی کی سرجری کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔کسی نے بتایا کہ گجرات کے ایک ہسپتال میں مفت سرجری ہوتی ہے ۔والدہ ماہم کو لے کر ہسپتال پہنچی تو ڈری سہمی ماہم ماں کے پلو میں چھپنے کی کوشش کرتی رہی کہ اسے پھر نئے لوگوں کی مذاق اڑاتی نگاہوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔جب اسے بتایا گیا کہ اس کا چہرہ ٹھیک ہوجائے گا،وہ مسکرائے گی اور اس کی مسکراہٹ اس کے لئے اذیت کا باعث نہیں بنے گی تو بچی کی چمکتی آنکھیں خوشی سے اور بھی د مکنے لگیں ۔

ملک میں ہزاروں بچے ماہم کی طرح کٹے ہونٹ اور تالوکے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ ان بچوں کی ایک بڑی تعداد غذا ٹھیک طرح اندر نہ جانے کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار جاتی ہے ،جو بچ جاتے ہیں ان کی زندگی بھی آسودہ نہیں ہوتی ۔اس نقص کی وجہ سے وہ ہم جولیوں کے مذاق کا نشانہ بنتے ہیں، رشتہ داردل آزاری کی باتیں کرتے ہیں۔یہ بچے احساس کمتری کے گہرے زخم لے کر پروان چڑھتے ہیں،والدین بھی ایسے بچوں کو چھپا چھپاکر رکھتے ہیں۔ان بچوںسے توہمات بھی وابستہ کئے جاتے ہیں،انہیںماں کی بد بختی،بدنیتی اورنحوست کی سزا قرار دیا جاتا ہے ۔بچہ اور اس کے والدین شدید نفسیاتی اورسماجی اذیت کا شکاررہتے ہیں۔

گجرات کے درویش منش ڈاکٹر اعجاز بشیر نے ماہم جیسے ہزاروں بچوں کی زندگی بدل کررکھ دی ہے ۔ڈاکٹر اعجاز بشیر نے 16 سال پہلے چہروں کو زندگی دینے کا بیڑہ اٹھایا۔شروع میں سال میں ایک سرجری کیمپ لگتا،پھر دو اور پھر چارکیمپ لگائے جاتے، جہاں انگلینڈ اور امریکہ سے چوٹی کے پلاسٹک اور کلیفٹ سرجن آتے اور عالمی معیار کے مطابق سرجری کرتے۔گزشتہ سال ڈاکٹر اعجاز بشیر نے کلیفٹ سرجری کے پہلے مکمل ہسپتال کی بنیاد رکھی۔گجرات میںقائم ہونے والے اس ہسپتال کی نگرانی امریکہ کے مشہور کلیفٹ سرجن ڈاکٹر رفعت حسین کرتے ہیں ۔ڈاکٹر رفعت حسین کئی سال سے پاکستان آکر عالمی معیار کی سرجری کررہے ہیں۔ کلیفٹ ہسپتال میں آپریشن تھیٹر،صفائی ،آلات ،ادویات اور سرجری سب کچھ عالمی معیارکے مطابق ہوتا ہے اور یہ تمام خدمات بلامعاوضہ ہیں،کسی مریض سے ایک روپیہ نہیں لیا جاتا۔اس کے سارے اخراجات پاکستان کلیفٹ اینڈ پیلٹ ایسوسی ایشن (PCLAPA) اور ڈیسنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن اٹھاتی ہے ۔ اب تک چار ہزار سے زائد لوگوں کو مسکراتی زندگی سے نوازاگیا ہے ۔

مَیں حیران ہوتا ہوں کہ جو دانشور معاشرے میں ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا دیکھتے ہیں ،وہ کس کو ٹھڑی میں رہتے ہیں ۔بند کمروں میں چند اخباروں کی شہ سرخیاں پڑھ کر،جرائم کی خبریں دیکھ کر،کرپشن کی کہانیاں سن کر پورے معاشرے کے منہ پر کالک مل دینا عجیب دانشوری ہے ،ان کی سمجھ،سمجھ سے بالا ہے ۔اس میں کیا شک ہے کہ حکومتی اداروں میں ہر طرف کرپشن دندناتی پھرتی ہے،بحران در بحران سے لگتا ہے ہر طرف اندھیرا ہے، لیکن اس اندھیری رات میں اَن گنت ستارے چمک رہے ہیں۔ ملک میں ہزاروں تنظیمیں خاموشی سے نادار اور کم وسیلہ لوگوں کی خدمت کر رہی ہیں ،ہرسال لاکھوں لوگ اربوں روپے امداددیتے ہیں ۔یتیموں ، بیواﺅں، بے سہارا لوگوں کا سہارا بنتے ہیں ،محروم افراد کے آنسو پونچھتے ہیں ،بیماروں کے دُکھ کی دوا بنتے ہیں،لیکن ان لاکھوں لوگوں کی کوئی خبرکوئی شہ سرخی نہیں بنتی ۔عالمی میڈیا میں امریکہ کے سخی لوگوں کی کہانیاں شائع ہوتی ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ امریکی لوگ چیریٹی کرتے ہیں ،ان میں سرفہرست مائیکروسافٹ کے مالک بل گیٹس ہیں، جنہوں نے 28ارب ڈالر کی رقم چیریٹی کی،لیکن واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کے لوگ جس محبت سے لوگوں کی خدمت کرتے ہیں،اس کی مثال کم کم ملتی ہے ۔

کس کس چمکتے ستارے کی بات کروں،ایدھی فاﺅنڈیشن ،آغا خان فاﺅنڈیشن، چھیپا ویلفیئر ایسوسی ایشن، ہوپ انٹرنیشنل،مسلم ہینڈز،سٹیزن فاﺅنڈیشن، سندس فاﺅنڈیشن کے علاوہ ہزاروں فلاحی تنظیمیں تعلیم، مائیکرو فنانس،ووکیشنل ٹریننگ،خواتین کی بہبود،صحت کے شعبوں میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔عمران خان نے لوگوں کے تعاون سے اتنا شاندار ہسپتال قائم کر دیا۔ جی چاہتا ہے کہ ایک ایک کی کہانی سنہرے حروف سے لکھی جائے اور انہیں سلام پیش کیا جائے۔ الخدمت فاﺅنڈیشن فلاح کی بڑی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے، جو بہت سے میدانوں میں خدمت کررہی ہے۔ صحت کے میدان میں بیماروں کومفت علاج ، ادویات اور ایمبولینس سروس ، تعلیم میں ذہین مستحق بچوں کو تعلیمی وظائف ،صاف پانی کے فلٹر یشن پلانٹس اور قیدیوں کوسہولتیں دینے کے منصوبے جاری ہیں ۔قدرتی آفات میں الخدمت سب سے زیادہ فعال نظر آتی ہے اورمصیبت میں گھرے لوگوں تک سب سے پہلے پہنچتی ہے۔

یتیموں کی کفالت کے لئے آرفن کئیر کے نام سے بہت بڑا کام کررہی اور ہزاروں بچوں کی پرورش کر رہی ہے ۔ اس کے علاوہ لاکھوں بے وسیلہ افراد کو روزگار، ووکیشنل سینٹرز، راشن ،رمضان اور عید پر فوڈ پیکیج پوری عزت سے ان کے گھروں تک پہنچاتے ہیں۔الخدمت فاﺅنڈیشن کے جنرل سیکرٹری میاں عبدالشکور نے بتایا کہ ہر کام میں کہیں بھی عزت نفس مجروح نہیں ہونے دی جاتی اور ایک ایک پیسے کا شفاف ریکارڈ رکھا جاتا ہے، صرف 2012ءمیں 227ایمبولینس سروس سے ایک لاکھ80ہزار افرادمستفید ہوئے۔30ہزارسٹوڈنٹس کو ساڑھے چار کروڑ روپے کے تعلیمی وظائف دیئے گئے۔ مذہبی جذبے سے سرشار فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن بھی خدمت میں ایک روشن ستارہ ہے۔یہ مصیبت کی ہر گھڑی میں امدادی سرگرمیوں میں بہت سرگرم ہوتے ہیں۔ خوراک ،میڈیکل ،خشک راشن ،ملبوسات اور بستر، مکانات کی تعمیر کے لئے مالی تعاون ہی نہیں کرتے بلکہ آگے بڑھ کرہاتھ بٹاتے ہیں۔انہوں نے دورافتادہ علاقوں میں پینے کے صاف پانی کے لئے سینکڑوںہینڈ اور الیکٹرک پمپس لگائے ہیں ۔

ڈاکٹر امجد ثاقب کی اخوت فاﺅنڈیشن نے سوا تین لاکھ خاندانوں کو باعزت روزگار کے لئے بلاسود قرضے دئےے، جس سے وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے ہیں ۔ اب تک پونے5 ارب روپے سے زائدکے قرضے دئےے گئے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے قرضے لینے والے بڑی ایمانداری سے پوری رقم واپس لوٹا دیتے ہیں ۔ڈاکٹر امجد ثاقب 1985ءمیں سول سروس میں آئے، لیکن 2003ءمیں سروس چھوڑ کر خود کو سماجی اور علمی خدمات کے لئے وقف کردیا۔ کمزور انسانوںکی خدمت کرنے والے، ان کی زندگی سے دُکھوں اور تلخی کے کانٹے چننے والے یقینا بہت عظیم لوگ ہیں۔بڑا آدمی صرف اپنی ذات کا نہیں ہوتا ، اس چشمے سے سینکڑوں،ہزاروں اور لاکھوں لوگ فیضیاب ہوتے ہیں،ان چمکتے ستاروں سے میرے وطن کے لاکھوں لوگ زندگی کی روشنی پارہے ہیں ۔ ہم ان بڑے لوگوں کے احسان مند ہیں ، انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔  ٭

مزید :

کالم -