کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی اشتعال انگیزیاں

کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی اشتعال انگیزیاں

  

بھارت کی جانب سے گزشتہ روز (اتوار) سیالکوٹ کے بجوات، آزاد کشمیر میں نکیال اور بٹل سیکٹروں میں بلااشتعال فائرنگ کی گئی، جس سے ایک نوجوان شہید اور خاتون زخمی ہو گئی، بجوات میں رینجرز کی چیک پوسٹ جبکہ نکیال میں ایل او سی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائرنگ کی گئی، جس سے ایک شخص زخمی ہو گیا، کنٹرول لائن بٹل سیکٹر میں گزشتہ رات گئے بھارتی فوج نے اچانک فائرنگ شروع کر دی جس کے جواب میں پاک فوج نے بھی فائرنگ کی، آخری اطلاعات تک دونوں اطراف سے کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ملیں، بجوات سیکٹر میں لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے تین گھنٹے تک وقفے وقفے سے فائرنگ ہوتی رہی، بھارتی فوج نے چناب رینجرز کی اعجاز شہید اور برجی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، گزشتہ منگل کو بھارتی فوج نے الزام لگایا تھا کہ پونچھ سیکٹر میں پاک فوج نے حملہ کر کے پانچ بھارتی فوجی ہلاک کر دیئے۔جبکہ پاکستان نے بھارت کے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ کنٹرول لائن پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا نہ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے، بھارت کا واویلا بے بنیاد ہے، پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ بھارتی الزامات میں کوئی صداقت نہیں، پاکستان سیز فائر کے معاہدے کا پابند ہے۔ غیر مصدقہ رپورٹس دونوں ملکوں میں فضا خراب کرتی ہیں۔

پاکستان نے جن اطلاعات کو غیر مصدقہ قرار دیا تھا، انہی کی بنیاد پر بھارتی حکمران جماعت کانگرس کے نوجوان احتجاج کے لئے سڑکوں پر نکل کھڑے ہوئے اور نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن پر دھاوا بول دیا کانگرس کے یوتھ ونگ کے کارکنوں نے وہاں توڑ پھوڑ کی، پاکستان کے خلاف نعرے لگائے ، رکاوٹیں ہٹا کر ہائی کمیشن کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی، پاکستان نے سفارتی عملے کو ہراساں کرنے کی کوششوں کی بھرپور مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ سفارتی عملے کی حفاظت میزبان ملک کی ذمہ داری ہے۔ بھارتی وزیر دفاع اے کے انتھونی نے کنٹرول لائن پر 5فوجیوں کی ہلاکت کے مبینہ واقعے میں پاکستان کو بری الذمہ قرار دیا تو پارلیمینٹ کے جذباتی ارکان نے وہاں بھی ہنگامہ کر دیا، انتھونی نے کہا تھا کہ فوجی وردی میں ملبوس مبینہ دہشتگردوں نے پونچھ ایل او سی پارکر کے 15کور کے پانچ جونیئرز کو جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا، اس پر پارلیمینٹ میں اپوزیشن لیڈر سشما سوراج نے وزیر دفاع سے معافی کا مطالبہ کر دیا۔ وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا کہ انتھونی نے بیان عسکری حقائق کی روشنی میں دیا ہے۔ جو کسی صورت واپس نہیں لیا جائیگا تاہم بعد میں دباﺅ پر انتھونی نے بیان واپس لے لیا، اب صوبہ بہار کے وزیر زراعت نریندر سنگھ نے کہا ہے کہ میں پاکستان کو پانچ بھارتی فوجیوں کے قتل کا ذمہ دار نہیں سمجھتا، ہلاک ہونے والے پانچ فوجیوں میں سے چار کا تعلق بہار سے تھا۔

یہ ساری صورتحال واضح کرتی ہے کہ بھارت حیلوں بہانوں سے کنٹرول لائن پر فائرنگ کے جو واقعات دہراتا رہتا ہے ان کا جواز بنانے کے لئے پانچ فوجیوں کے قتل کا واقعہ اچھالا گیا جو کنٹرول لائن سے پانچ میل اندر مارے گئے تھے، ظاہر ہے پاکستانی فوجی موجودہ حالات میں اتنی دور تک اندر جا ہی نہیں سکتے، جبکہ کنٹرول لائن پر گہرے تار بچھے ہوئے ہیں اور بھارتی فوج کے سپاہی ا س کے ساتھ ساتھ کھڑے ہیں۔ ایسی صورتحال میں یہ ناممکنات میں سے ہے کہ پانچ میل اندر جا کر پاکستانی فوجی بھارتیوں کو ہلاک کر دیں اور پھر اطمینان سے واپس بھی آ جائیں۔ بہار کے وزیر زراعت نے اگر اس واقعہ سے پاکستان کو بری الذمہ قرار دے دیا ہے تو کچھ سوچ سمجھ کر ہی دیا ہو گا، اس سے پہلے مسٹر انتھونی نے بھی پارلیمینٹ میں درست جواب دیا تھا جسے جذباتی مخالفین نے خواہ مخواہ دباﺅ کا حربہ بنا لیا۔

گزشتہ کچھ عرصے سے بھارت نے پاکستان کے خلاف اشتعال انگریزیوں کو معمول بنا لیا ہے اور اگر کہیں فائرنگ کا واقعہ ہو جاتا ہے تو اسے خواہ مخواہ اچھالا جاتا ہے۔ بھارتی میڈیا بھی اس معاملے میں پیش پیش ہے اور وہ بھارتی حکومت سے بھی زیادہ معاملے کو اچھال کر ایسی فضا پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے دونوں ملکوں میں پہلے سے موجود کشیدگی کو بڑھاوا ملتا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے برسر اقتدار آنے سے بھی پہلے بھارت کو خیر سگالی کا پیغام بھیجا تھا اور اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ دونوں ملک اپنے تمام تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔ نواز شریف کے اب تک پیغامات بھی صلح جو یا نہ اور روا دارانہ ہیں۔ وہ بار بار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ دونوں ملکوں میں امن ہی خطے کے ملکوں کی ترقی اور خوشحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کی آئندہ ماہ نیو یارک میں ملاقات بھی متوقع ہے۔ جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہونے جا رہے ہیں، لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ بھارتی انتہا پسندوں نے اس دوران تعلقات کو خراب کرنے کی کوششیں شروع کر رکھی ہیں اور ایک ایسے واقعہ کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جا رہا ہے جس کا اس سے کوئی تعلق نہیں اور ابتدا میں بھارتی وزیر دفاع نے جو بیان دیا اس میں کہا کہ وہ جو باتیں بتا رہے ہیں وہ انہیں بھارتی فوج کے متعلقہ افسروں کی زبانی معلوم ہوئی ہیں۔ لیکن بھارتی انتہا پسند ان کی بات سننے کو تیار نہیں تھے، اب بھارتی صوبے بہار کے وزیر زراعت نے بھی تقریباً وہی بات کر دی ہے جو وزیر دفاع کر رہے تھے، لیکن ایسے لگتا ہے کہ جو لوگ پاکستان سے تعلقات خراب کرنے کے مشن پر ہیں وہ کوئی سنجیدہ بات سننے کے لئے تیار نہیں اور معاملات کو بہرصورت خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ کنٹرول لائن کے مختلف علاقوں میں بھارتی فوج کی فائرنگ بھی ان خدشات کو درست ثابت کر رہی ہے۔

بھارت میں اگلے سال مئی میں یا اس کے لگ بھگ انتخابات ہو رہے ہیں۔ کانگرس جو گزشتہ دس سال سے مرکز میں حکمران ہے۔ اس وقت مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔ دوسری جانب بی جے پی بھی دوبارہ برسر اقتدار آنے کے خواب دیکھ رہی ہے اور گجرات کے فسادات کے ذمہ دار نریندر مودی کو اگلا وزیر اعظم بنانا چاہتی ہے۔ عموماً بھارت میں انتخابات سے پہلے وزیر اعظم ”نامزد“ نہیں کیا جاتا، انتخابات جیتنے کے بعد ہی فیصلہ ہوتا ہے کہ کون وزیر اعظم ہو گا لیکن اس بار کئی سال پہلے ہی نریندر مودی کا نام اچھالا جا رہا ہے۔ بلکہ اس کے لئے لابنگ کی جا رہی ہے اس لئے بی جے پی ہر حالت میں انتخابات جیتنے کے لئے ہر حربہ آزما رہی ہے اس کا خیال ہے کہ اگر اب کی بار بھی کانگرس اور اس کے اتحادی جیت گئے تو نریندر مودی کا چانس ختم ہو جائیگا ۔ نریندر مودی کوبھارت کے اعتدال پسند حلقے سیکولر ازم کے لئے خطرہ جانتے ہیں۔ دوسری جانب خود کانگرس کا خیال ہے کہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے معاملے کو ہوا دیکر شاید بی جے بی کے ہاتھ سے پاکستان کی مخالفت کا پتہ چھینا جا سکتا ہے اس لئے دونوں جماعتوں میں پاکستان دشمنی میں آگے نکلنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے، فوج کے اندر بھی انتہا پسند عناصر کنٹرول لائن پر گولیاں چلا کر تعلقات میں کشیدگی کا تاثر دینا چاہتے ہیں۔بھارت میں یہ خوف بھی موجود ہے کہ اگر دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر آ گئے تو بھارتی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے لگیں گے۔ اسی طرح پاکستانی سرمایہ کار بھی بھارت کا رخ کریں گے جنہیں بھارت میں سرمایہ کاری کی اجازت دی جا چکی ہے۔ یہ بہت بڑی پیشرفت ہے جو انتہا پسندوں کو کسی صورت قابل قبول نہیں لگتی اس لئے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا، لیکن امن کے دشمنوں کومعلوم ہونا چاہئے کہ خوش حالی اور ترقی کا خواب اسی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے جب سرحدوں پرامن ہو اور لوگ خوف و دہشت کے سایوں سے آزاد ہو کر زندگی گزار رہے ہوں۔

مزید :

اداریہ -