جھلا اسے ڈرامہ سمجھتا ہے !

جھلا اسے ڈرامہ سمجھتا ہے !
جھلا اسے ڈرامہ سمجھتا ہے !

  

ٹی وی پر نیوز رپورٹ چل رہی تھی کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف لندن میں اپنے طبی معائنے کے بعد عید کی صبح لاہور ائیرپورٹ پہنچے تو گھر جانے کی بجائے سیدھے راجن پور چلے گئے،سیلاب سے متاثرہ راجن پور کے علاقے فتح پور میں مقامی لوگوں کے ساتھ نماز عید ادا کی ۔ اپنی گاڑی میں لال گڑھ اور دیگر دیہات میں گئے جہاں متاثرین سے عید ملی، عیدی ، تحائف اور امدادی سامان تقسیم کیا۔ ۔عید کی چھٹیاں تھیں اور میرے ساتھ جھلا بھی ٹی وی دیکھ رہا تھا، جھلے نے اسے میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ڈرامہ قرار دیا، اس کا کہنا تھا کہ یہ وزیراعلیٰ کاکام نہیں کہ وہ دیہات میں مارا مارا پھرتا رہے، اسے چاہئے کہ وہ اجلاسوں کی صدارت اور بیوروکریسی کو استعمال کرتے ہوئے ہر متاثرہ شخص کی بحالی اور ہر مستحق تک امداد پہنچانے کا میکانزم تشکیل دے۔

جھلا ، ان بہت سارے جھلوں میں شامل ہے جنہیںباتھ روم سنگرکی طرح باتھ روم تھنکر بھی کہہ سکتے ہیں۔ جن کا کام صرف تنقید کی بدبو پھیلانا ہے۔ میں اس جھلے سمیت بہت سارے دوسرے جھلوں سے بحث کرنے سے عموماً گریز کرتا ہوں مگر عید کا دن تھا، فراغت تھی لہذا میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ شہباز شریف لندن سے واپسی کے بعد رائے ونڈ یا ماڈل ٹاو¿ن چلے جاتے، وہاں سیلاب سے متاثرہ اضلاع اور خاص طور پر راجن پور کی پوری ایڈمنسٹریشن کو طلب کر لیتے، ایک ڈیڑھ گھنٹہ صرف کرتے ، کچھ ہدایات جاری کرتے تو یہ ان کے دورے سے زیادہ بہتر ہوتا۔ میں نے اسے بتایا کہ اگر وہ صرف ایک اجلاس سے بھی خطاب کر لیتے تو میڈیا کوریج کا مقصد حاصل ہوجاتا، اس اجلاس میں جاری ہدایات کے ٹیکرز عید کے روز خبروں کے کال کی وجہ سے بہرحال بریکنگ نیوز کے طور پر چلتے، ڈی جی پی آر سے جاری ہونے والی فوٹیج خبرنامو ں کا حصہ ہوتی اور اخبارات جب دو روز بعد شائع ہوتے تو یہ خبر اسی طرح صفحہ اول پر ہوتی جس طرح راجن پور میں مارے مارے پھرنے کی ہے۔

میں نے اسے کہا کہ جنوبی پنجاب میں سیلاب پر لاہور میں اجلاس کا سب سے بڑ انقصان یہ ہوتا ہے کہ وزیراعلیٰ کے طلب کئے جانے پر سیلاب زدہ علاقوں کے تمام اہم افسران چاند رات کو ہی لاہور پہنچ جاتے اور ان علاقوں کی پوری انتظامیہ عید کے موقعے پر لاوارث ہوجاتی، دوسرے افسران کے پاس سب اچھا کی رپورٹ اور سفید جھوٹ سے بھی زیادہ ناقابل اعتبار اعداد و شمار ہوتے۔ وزیراعلیٰ کو امدادی کاموں کی تصاویر دکھائی جاتیں اور شاباش لینے کے بعد وہ افسران عید کی شام اپنے اپنے گھروں میں پہنچ جاتے، وہ سچے ہوتے کہ انہوں نے عید کے دن بھی ڈیوٹی کی ہے لہذا اب وہ اس امر کے حق دار ہوگئے ہیں کہ عید کے باقی دو روز تک تو کم از کم انہیں تنگ نہ کیا جائے ۔ میں نے جھلے سے کہا کہ میں شرط لگانے کے لئے تیار ہوں کہ اگر وزیراعلیٰ عید کے روز راجن پور، لال گڑھ اور دیگر علاقوں میں خود نہ پہنچتے تو کم از کم عید کے تینوں روز ہماری لوکل افسرشاہی کی روایتی شرم ناک کارکردگی کی وجہ سیلاب متاثرین بے یارو مددگار ہی رہتے۔ اب انتظامیہ کو ڈر تھا کہ وزیراعلیٰ پہنچ رہے ہیں لہذا عید کے روز ان متاثرین کی بنیادی ضروریات تو کم از کم ضرور پوری کر دی جائیں ورنہ افسران کومعطل بھی ہو سکتے ہیں اورمعطلی میں بادشاہی کے وہ مزے کہاں جو افسری میں ملتے ہیں۔

میں نے اسے کہا کہ متاثرہ لوگوں کی بحالی اور ہر مستحق تک امداد پہنچانے کا میکانزم بننا بہت ہی اہم ہے مگر دوسری طرف متاثرہ اور مستحق لوگوں کو یہ یقین دلانا بھی بہت زیادہ ضروری ہے کہ کوئی ان کے لئے پریشان ہے۔ عید جیسے تہوار پر بھی وہ اپنے پیاروں کے ساتھ سویاں کھانے کی بجائے انہیں گلے لگانے کے لئے پہنچا ہوا ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ جب آج سے دو ، تین برس پہلے سیلاب آیا تھا تو شہباز شریف خود ہی بار بار وہاں نہیں آ رہے تھے بلکہ انہوں نے لاہور سے تعلق رکھنے والے بہت سارے ارکان اسمبلی او روزراءہی نہیں، سیکرٹریوں کی ڈیوٹیاں بھی اس علاقے میں لگا دی تھیں۔ خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر،میاں نصیر احمدیٰسین سوہل، میاں محمد نعمان سمیت بہت سارے سیلابی علاقوں کے حبس زدہ علاقوں میں کیمپوں میں روزے رکھتے اور امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے رہے۔ میں مانتا ہوں کہ وزیراعلیٰ اور ان کی ٹیم کی وہاں موجودگی سے راتوں رات سیلابی پانی اتر نہیں گیا ہو گا،ایسا بھی نہیں ہوا ہو گا کہ سیلابی پانی اترنے کے بعد کسی جادو کی چھڑی سے متاثرین کے گھر محلات کی صورت کھڑے ہو گئے ہوں مگر یہ ضرور ہوا کہ ان علاقوں سمیت صوبے بھر کی انتظامیہ متاثرین کی بھرپور امداد کا معجزہ کر کے دکھاتی رہی۔ یہاں تو اگر نوکر شاہی کو عوام کی نوکری کرنے پر مجبور کر دیا جائے تو وہ بھی اک معجزہ ہی ہوتا ہے ۔ اگر ہمارے حکمران غریبوں کی مدد کرنے والے ہوں تو زحمتیں بھی رحمتیں بن جاتی ہیں، پہلے آنے والے سیلاب کے بعد جنوبی پنجاب کے متاثرہ علاقوں میں ماڈل ویلج بن گئے، لاہور میں جوزف کالونی پر حملہ ہوا تو ہر گھر پہلے سے زیادہ خوبصورت، مضبوط ، محفوظ اور روشن بنادیا گیا۔

جھلے نے جب کوئی بات نہیں ماننی ہوتی تو نہیںمانتا، اس نے کہا کہ جنوبی پنجاب کو چھوڑو تمہارا تو اپنا شہر بارشوں میں ڈوب جاتا ہے۔ کتنے ہی برسوں سے شہباز شریف یہاں پر حکمران ہے ، پہلے تو لاہور ڈوبنے پر وہ لانگ بوٹ پہن کے پانی میں اتر جاتے تھے، اب انہوں نے وہ فوٹو سیشن کروانا بھی بند کر دیا ہے۔ میرا جواب یہ تھا کہ آج سے دس پندرہ برس پہلے جب لکشمی چوک ڈوبتا تھا تو دو ، دو دن تک پانی کھڑا رہتا تھا، اب یہ وقت اڑتالیس سے کم ہو کے اوسطاً چار گھنٹے رہ گیا ہے۔ میں نے واسا کے کچھ پروفیشنلز سے بات کی اور پوچھا کہ میں چاہتا ہوں کہ لاہور میں چار سے چھ گھنٹے بھی پانی کھڑا نہ ہو، جواب یہ تھا کہ دنیا بھر میں ایمرجنسی کا سامنا کرنے کے لئے بھی تو منصوبہ بندی ہوتی ہے مگر” ڈیزاسٹرز “کا نہیں، اگر آپ طوفانی بارشوں کے پانی کا فوری نکاس چاہتے ہیں تو لاہور کے سیوریج کے نظام اور ڈسپوزل پمپوں کی صلاحیت کو دس گنا تک بڑھانا پڑے گا اورا سکے لئے کم و بیش چھتیس ارب روپے درکار ہوں گے۔ لاہور میں طوفانی بارشیں پورے سال میں صرف چار سے چھ دن ہوتی ہیں۔ باقی معمول کی بارشوں میں لاہور کی سڑکیں پر زیادہ دیر پانی کھڑا نہیں رہتا۔ اگر آپ تیس ، چالیس ارب روپے خرچ کر کے ایسے ڈسپوزل اسٹیشن بنا بھی لیں گے تو وہ سال میںمجموعی طور پر ایک ہفتہ بھی کام نہیں کریں گے۔ اب آپ خود فیصلہ کر لیں کہ آپ یہ خطیر رقم صحت اور تعلیم جیسی اہم ضروریات پر خرچ کرنا چاہتے ہیں یا صرف ایک شہر کے کچھ علاقوں میں پیدا ہونے والی عارضی مشکل کے حل پر۔میں نے جھلے سے کہا کہ واسا بدترین مالی بحران کا شکار ہے، پچھلے دس بارہ برسوں سے پانی کے بل نہیں بڑھے مگر واسا جس بجلی کو خرچ کر کے اپنے ٹیوب ویلوں کے ذریعے زمین سے پانی نکالتا ہے،ا س کے نرخ کئی گنا اور ملازمین کی تنخواہوں کا بجٹ بھی بہت حد تک بڑھ چکا ہے۔ موسلادھار برسات کے پانی کی نکاسی تو ضرور ہونی چاہئے مگر اس پر ہم اپنا پیٹ کاٹ کے کتنا خرچ کر سکتے ہیں، اس کی جمع تفریق ضرور کرلینی چاہئے۔

جھلے یہ کہتے رہیں کہ شہباز شریف عید والے دن اپنے گھر میں اپنے پیاروں کے ساتھ عید کی خوشیاں منانے کی بجائے راجن پور جیسے علاقوں میں جا پہنچتے ہیں، وہ ایس او ایس ویلج میں جاتے اور چلڈرن ہسپتال میں بچوں کو تحائف دیتے ہیں تو یہ ان کی ڈرامے بازی ہے مگر میں تسلیم کرتا ہوں کہ اگر حکمران ہمارے دکھ ، درد میں شریک ہوتے ہیں تو اس سے بیوروکریسی کی زنگ آلود مشینری کو تیل ملتا ہے اور وہ چلنے لگتی ہے، حکمرانوں کے سامنے زمینی حقیقتوں کی اصل تصویر آتی ہے اور عام آدمی کو اپنے مسائل کے حل کی امید ملتی ہے۔ڈرائنگ روموں اور اجلاسوںکی سیاست کے ثمر عوام تک نہیں پہنچے ، اگر ان ڈراموں سے غریبوں کا کچھ بھلاہوجاتا ہے تو مجھے تو سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے وزرائے اعلیٰ سے بھی یہی کہنا ہے کہ اگر وہ بھی ایسے ڈرامے شروع کر دیں تو ان صوبوں کے عوام کے حوصلے بلند ہوں گے۔ فی الحال تو پنجاب کے غریب عوام کا یہ احساس ہی ان کے لئے کافی ہے کہ کسی بھی مصیبت میں ان کا وزیراعلیٰ اپنے بہت بڑے گھر میں آرام نہیں کر رہا بلکہ شہباز شریف ان کے ساتھ ہے !!!

مزید : کالم