قومی سلامتی کی مربوط پالیسی، کب تک نافذ ہو گی؟

قومی سلامتی کی مربوط پالیسی، کب تک نافذ ہو گی؟

وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ دہشتگردی کی جنگ پاکستان پر مسلط کی گئی اور اب یہ پاکستان کی بقاءکی جنگ ہے۔ انہوں نے بلوچستان کی پولیس کو تربیت اور جدید اسلحہ فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ عوام کو اکیلا نہیں چھوڑا جا سکتا، وزیر داخلہ نے یہ بھی دلاسہ دیا کہ حکومت قومی سلامتی کی ایک مربوط پالیسی بنانے کی سعی کر رہی ہے جو جلد ہی تیار ہو جائے گی جبکہ خود وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے وزیر داخلہ سے یہ پالیسی طلب کی ہے ۔ تاکہ غور کے بعد اسے منظور کیا جا سکے۔

وزیر داخلہ وزیر اعظم کی ہدایت پر کوئٹہ گئے اور وہاں امن و امان کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں کئی اہم فیصلے کئے گئے بلوچستان خصوصاً کوئٹہ گزشتہ دنوں دہشتگردوں کی زد میں رہا، پہلے وہاں ایک انسپکٹر کو ہدف بنا کر مارا گیا پھر اس کی نماز جنازہ کے موقع پر پولیس لائنز میں خودکش حملہ کیا گیا اس میں ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سمیت کئی اعلیٰ افسر اور جوان شہید ہوئے۔ بات یہیں نہیں رکی عید کے روز نماز پڑھ کر آنے والوں پر فائرنگ کی گئی اور متعدد افراد شہید اور زخمی کر دیئے گئے بلوچستان میں اس کے علاوہ ایک بس روک کر ان میں سے مزدور پیشہ لوگوں کو شناخت کے بعد الگ کر کے شہید کیا گیا۔ یہ سلسلہ بہت ہی تشویشناک تھا۔ پہلے سے دہشتگردی کا شکار عوام خوفزدہ تھے ان وارداتوں کی وجہ سے اور ہو گئے۔ انتظامیہ نے نماز عید کے موقع پر فائرنگ کے الزام میں چند لوگوں کو گرفتار کیا اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ اصل ملزم ہیں۔ ابھی تک ان کی شناخت نہیں بتائی گئی۔

یہ کوئی پہلی گرفتاری نہیں ۔ پولیس اور انتظامیہ ایسی کئی گرفتاریوں کے دعوے کرتی رہی ہیں۔ لیکن گرفتاری اور اسلحہ کی برآمدگی کی میز کے بعد پتہ نہیں چلتا کہ جو لوگ پکڑے گئے ان کا کیا بنا اور کیا واقعی وہ ان وارداتوں کے ذمہ دار تھے؟ یہ ابھی تک نہیں بتایا گیا۔ عوام کو گرفتار کئے جانے والے ملزموں کے خلاف ہونے والی کارروائی سے بھی آگاہ ہونا چاہیئے۔

دوسری طرف دہشتگردی کے خلاف قومی سلامتی کی مربوط پالیسی کا ذکر تو کیا جا رہا ہے لیکن تاحال عمل نظر نہیں آیا، انتظامیہ اور حکومت کو اس سے بھی آگاہ کرنا چاہئے، جہاں تک دہشتگردی کے خلاف قوت پالیسی کا تعلق ہے تو موجودہ حکومت نے اس کے لئے قومی اتفاق رائے کی غرض سے کل جماعتی کانفرنس کا اعلان کیا جو اب تک ملتوی ہوتی چلی آ رہی ہے اور اب تو قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے الزام لگا دیا ہے کہ حکومت دہشت گردی کے مسئلہ پر خاموش ہے۔

اب تک دہشتگردی اور اغواءکی جتنی بھی بڑی وارداتیں ہوئیں ان کے تانے بانے اب شمالی وزیرستان سے ملتے ہیں۔ امریکی حکومت کی طرف سے بھی یہی کہا جاتا ہے کہ شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانے ہیں اس سے پہلے ہماری مسلح افواج نے سوات اور جنوبی وزیرستان میں آپریشن کئے اور کامیاب رہے۔ جہاں تک شمالی وزیرستان کا تعلق ہے تو وہاں بوجوہ ایسا نہیں کیا گیا۔ امور مملکت ہیں خویش خسرواری ہی جان سکتے ہیں۔ بہرحال یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ بری افواج کے موجودہ سربراہ جنرل کیانی کے ایک سال پہلے شمالی وزیرستان میں آپریشن کے حامی تھے جو انتخابات کی وجہ سے ممکن نہ ہو سکا اور اب ان کی ریٹائرمنٹ قریب ہے اس لئے یہ فیصلہ ان کے جانشین کو کرنا ہے بشرطیکہ حکومت بھی اس پر آمادہ ہو، جو اب تک تو تذبذب کی شکار نظر آتی ہے۔ ادھر دہشتگرد مسلسل دباﺅ بڑھا رہے ہیں ان کی کارروائیاں بہتر ہو چکی ہوئی ہیں اور یہ سب ایک کھلی جنگ کی طرح ہے اب تو وزیر داخلہ نے بھی اعتراف کر لیا ہے تو بہتر یہی ہے کہ قومی سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر جو کارروائی کرنی ہے کی جائے تاکہ عوام جو خوف کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں بہتر زندگی گزار سکیں۔ تیرہ چودہ سال کے عرصہ سے ہونے والی دہشتگردی نے تو معاشرے کے چلن کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے، سابق گورنر سلمان تاثیر کا صاحبزادہ شہباز تاثیر دو سال سے شدت پسندوں کے پاس ہے اور اب تو انتخابات سے ایک روز قبل اغوا ہونے والے سابق وزیر اعظم مخدوم یوسف رضا گیلانی کا صاحبزادہ علی گیلانی کے بارے میں بھی دعویٰ کیا گیا کہ وہ بخیریت ان کے پاس ہے۔ عوام پوچھتے ہیں کہ اگر اتنے بڑے لوگ غیر محفوظ ہیں تو ان کا تحفظ کون کرے گا؟

مزید : تجزیہ