جنگ دونوں ممالک کے حق میں نہیں ،حکومت بھارتی جارحیت کواقوام متحدہ میں اٹھائے :مذہبی سیاسی رہنمائ

جنگ دونوں ممالک کے حق میں نہیں ،حکومت بھارتی جارحیت کواقوام متحدہ میں اٹھائے ...

  

لاہور( رپورٹنگ ٹیم) پاک بھارت کشیدگی تشویش کا باعث اور دونوں ممالک کے حق میں نہیں ہے بھارت کو یہ باور رکھنا چاہئے کہ پاکستان واحد مسلمان ایٹمی طاقت ہے ان قوتوں کے ایسے عزائم سے ہوشیار رہنا چاہئے جو دونوں ممالک میں حالات اور تعلقات خراب کرا کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں بھارت کو دو ٹوک الفاظ میں جواب دینا چاہئے کہ پاکستان بنگلہ دیش ہے نہ برما یہ ایک ایٹمی طاقت ہے جو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی طاقت رکھتا ہے اس امر کا اظہار مختلف سیاستدانوں مذہبی جماعتوں کے رہنماﺅں خارجہ اور عسکری ماہرین نے ”پاکستان“ کے سلسلے ایشو آف دا ڈے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باﺅنڈری کی بار بار خلاف ورزی پر حکومت نظر رکھے ہوئے ہے اور اسی پر بھارت سے حکومت احتجاج بھی کرچکی ہے حکومت نے بھارتی حکومت کو بتا دیا ہے کہ خلاف ورزی کے واقعات پر کنٹرول کیاجائے اور امن ہی دونوں ممالک کے حق میں ہے اسی سلسلے میں دونو ممالک کے وزیراعظم میں جلد ملاقات متوقع ہے اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ ایسی قوتیں پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی لانے کے لئے متحرک ہیں جو پاکستان کو ترقی کرتا ہوا نہیں دیکھ سکتی وہ پاکستان کو کمزور دیکھنا چاہتی ہیں لیکن مسلم لیگ ن قوم کو ایک ترقی یافتہ پرامن اور مستحکم پاکستان دے گی ان قوتوں کے سامنے ہم سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہوجائیں گے پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی راہنما جہانگیر بدر نے کہا کہ بھارت کی طرف سے بار بار لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی ناقابل برداشت ہیں پوری پاکستانی قوم ان کی مذمت کرتی ہے حکومت کو فوری نوٹس لینا چاہئے اور اس کے لئے خارجہ پولیس کو ازسر نو مرتب کرنا ہوگا۔ حکومت نے تاحال اس پر کوئی کام نہیں کیا ۔ بھارت کو جان لینا چاہیے کہ جنگ دونوں ممالک کے حق میں نہیں ہے امن ہی دونوں ممالک کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہے اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما خورشید محمود قصوری نے کہا کہ بھارت پاکستان کی امن قائم رکھنے کی کوششوں کو پاکستان کی کمزوری نہ سمجھے اصل تنازعہ کشمیر ہے اس کو حل ہونا چاہئے اس کو حل کئے بغیر پاکستان اور بھارت کے مابین مستقل امن قائم نہیں ہوسکتا بھارت اقوام متحدہ کی قرار داادوں کے مطابق کشمیر کے مسئلے کا حل ڈھونڈنے کے لئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرے انہوں نے کہا کہ مستحکم پاکستان دنیا کے لئے ضروری ہے ان قوتوں سے خبردار رہنا چاہیے جو پاکستان کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ سابق آرمی چیف جنرل(ر) ضیاءالدین بٹ نے کہا کہ بھارت پاکستان کا دوست نہیں بن سکتا لیکن ایک بات طے ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن برابر ہے پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے بھارت کو یہ بات سامنے رکھنی چاہئے پاکستان بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی بھرپور طاقت رکھتا ہے لیکن ”امن“ میں مسئلے کا حل ہے۔ جنگ دونوں ممالک کے حق میں نہیں ہے لیکن بھارت جنگ مسلط کرتا ہے توپاکستان اس کی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کی قوت رکھتا ہے۔ پاکستان کو بھارت کی طرف سے کنٹرول لائن کی خلاف ورزیوں کو اقوام متحدہ میں اٹھانا چاہئیں مسلم لیگ ق کے سیکرٹری اطلاعات سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ بھارت پاکستان کو ایک کمزور ملک نہ سمجھے بھارتی سورمے بار بار کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کررہے ہیں اور پاکستان کی حکومت نے خاموشی اختیار کررکھی ہے حکومت بھارت سے دوستی ضرور نبھائے مگر جاتی عمرہ والے ملک وقوم کے تحفظ کا بھی خیال کرین بھارت کو دو ٹوک الفاظ میں بتا دیاجائے کہ ہم ایٹمی قوت ہیں اور ان کو جواب دینا جانتے ہیں مسلم لیگ ق کے ایڈیشنل سیکرٹری جنرل ناصر گل اور مسلم لیگ ہم خیال کے چیف کوارڈنیٹر شاہد اختر گھمن نے کہا کہ بھارتی پیار کی زبان ہیں سمجھتے ان کو جواب ان کی زبان میں دینا ہوگا۔ حکومت اس کا بندوبست کرے اور بھارتی جارحیت کو اقوام عالم میں اٹھائے اس کے لئے دنیا بھر میں پاکستان کے سفیروں کو متحرک کیاجائے جو دنیا کو بھارتیوں کی پاکستان کے خلاف جارحیت سے آگاہ کریں۔ جماعت اسلامی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ دوستی کے خواب دیکھنے والوں کی آنکھیں کھل جانی چاہیے بھارت کے ساتھ کبھی مخلص نہیں ہوا جب اس کا داﺅ لگتا ہے وہ پیٹ میں چھری گھونپنے کی کوشش کرتا ہے پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ وہ بھارتی جارحیت پر اسے نظرانداز نہ کرے بلکہ اس معاملے پر اصولی موقف اپنائے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستانی حکومت کی ناقص حکمت عملی اور کمزوریوں کے باعث بھارت پروپیگنڈے کررہا ہے اور جب جی چاہتا ہے کنٹرول لائن کی خلاف ورزی پر اتر آتاہے مگر افسوس کی بات ہے کہ پاکستانی حکومت نے ابھی تک کوئی ٹھوس موقف اختیار نہیں کیا یہ تو ہماری سکیورٹی فورسز کو کریڈٹ جاتا ہے جنہوں نے بھارتی جارحانہ عزائم بار بار ناکام بنائے اور بھارت کے حملے کے دوران منہ کی کھاناپڑی۔عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اورسابق وفاقی وزیرریلوے حاجی غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ غلط فہمی کی بنیاد پر بھارت کشید ہ صورتحال پیدا کر رہاہے اگر یہ معاملات زیادہ بڑھ رہے ہیں اس کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوگی کمیونکیشن خلا کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے مسلم لیگ ن کی حکومت واضح موقف اپنائے اور دوہری پالیسی کا مظاہرہ نہ کرے۔متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ جنگ کسی مسلے کا حل نہیں پاکستان اور بھارت کو مل بیٹھ کر مسلہ حل کرنا چاہیے اور اس پہلو کا بھی جائزہ لیا جائے کہ کہی پا ک بھارت امن کی کوشش کو سبوتاژ کرنے کے لئے کسی تیسرے فریق نے نفرت کا بیج نہ بویا ہو۔انہوں نے کہا کہ بھارت مسلے کو سمجھے اسے پیچیدگی کی طرف نہ دھکیلے ۔امن سے ہی اس خطے میں ترقی ہوگی ورنہ یورپ ترقی کے میدان میں بہت آگے نکل جائے گا اور ہم دونوں ممالک لڑ لڑ کر بہت پیچھے رہ جائیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -