نئے آرمی چیف کے تقرر سے قبل سپریم کورٹ کوصدارتی ریفرنس بھجوانے کی تجویز

نئے آرمی چیف کے تقرر سے قبل سپریم کورٹ کوصدارتی ریفرنس بھجوانے کی تجویز

اسلام آباد(اے پی اے )صدر مملکت کو تجویز دی گئی ہے کہ نئے چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری سے قبل پاکستان آرمی ایکٹ کی آئینی تشریح کے لئے سپریم کورٹ کوصدارتی ریفرنس بھجوایا جائے تا کہ ملک کی سب سے اعلی عدالت مذکورہ تقرری کیلئے قانونی معیار طے کر سکے ۔ایک خط میں صدر کو خبردار کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم بظاہر نئے منتخب صدر کی حلف برداری کے منتظر ہیں تا کہ انہیں نئے آرمی چیف کی تقرری کے لئے مطلوبہ ایڈوائس دے سکیں ۔اگر ایسا ہے تو وہ فی الحال صدر مملکت کو افواج پاکستان کا سپریم کمانڈر نہیں سمجھتے بلکہ اپنی سیاسی سہولت کیلئے مناسب موقع کے متلاشی ہیں۔صدر سے کہاگیا ہے کہ وزیر اعظم اپنے ماضی کے تلخ تجربات کی روشنی میں فوج کے سینئر ترین جرنیل کو آرمی چیف بنانے کے خواہاں ہیں جبکہ پاکستان آرمی ایکٹ بھرتی میںسبقت کی بجائے پیشہ ورانہ صلاحیت کو فوج میں ترقی کا پیمانہ کہتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل243 کے تحت ہونے والی تقرری میں عموماً فور سٹار جنرل کے عہدے پرترقی بھی شامل ہوتی ہے لہذا اس ترقی کے لئے آرمی ایکٹ کے مروجہ معیار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔صدر سے کہاگیا ہے کہ انہیں وزیر اعظم اور آرمی چیف کے مابین ذاتی تعلق پر نظر رکھنا ہوگی صدر سے کہاگیا ہے کہ ان کے عہدے کی معیاد کے خاتمے سے قطع نظر ریفرنس پر سپریم کورٹ کی قانونی رائے افواج پاکستان سے پیشہ وارانہ صلاحیت کے فروغ کا باعث ہوگی کیونکہ فوج کا کوئی جنرل انہیں اس قسم کا خط نہیں لکھ سکتا۔ افواج پاکستان کے ارکان اپنے نظم وضبط کی خاطر اپنے بنیادی حقوق اور اظہار رائے سے دستبردار ہوئے ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ صدر کا فرض ہے ۔

مزید : صفحہ اول