پاکستان کی نئی دہلی سے سفارتی عملہ واپس بلانے کیلئے سنجیدگی سے غور

پاکستان کی نئی دہلی سے سفارتی عملہ واپس بلانے کیلئے سنجیدگی سے غور

اسلام آباد (اے پی اے )بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں اور جارحانہ اقدامات کے بعد پاکستان نے نئی دہلی سے اپنا سفارتی عملہ واپس بلانے اور افغانستان کی سرحد پر تعینات فوجیوں کو دوبارہ مشرقی سرحدوں پر تعیناکرنے کے بارے سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارت خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نئی دہلی میں اسلام آباد کے ہائی کمیشن میں مشکوک قسم کی سرگرمیاں دیکھی جارہی ہیں اور اس کے عملے اور ان کے خاندان کے افراد کی سرگرمیاں کافی حد تک محدود کر دی ہیں اس سے قبل نئی دہلی میں پاکستانی سفارت خانے پر ہندﺅ انتہا پسندوں کی جانب سے حملے کے بعد سفارتی عملہ بھی کافی حد تک محتاط ہے ۔پاکستانی سکیورٹی حکام کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے نئی دہلی میں پاکستان کے سفارتی مشن کو فول پروف سکیورٹی کے کوئی مناسب اقدامات نہیں کئے جبکہ اس حوالے سے متعدد بار بھارتی حکومت سے درخواست بھی کی گئی اور 6 اگست کوپونچھ سیکٹر پر بھارتی فوجیوں کی مبینہ ہلاکت کے واقعہ کے خلاف دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ پاکستان کے فوجی حکام نے بھی بھارتی فوج کی جانب سے پاکستانی چیک پوسٹوں پر فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیا ہے ۔عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ اگربھارت کی جانب سے کسی بھی قسم کا جارحیت کا ارتکاب یا سیز فائر کی مزید خلاف ورزی کی صورت میں اس کا مناسب جواب دیا جائیگا۔ جبکہ عہدیدار کا کہنا تھا کہ فوج حکومت سے یہ کہہ سکتی ہے کہ وہ افغانستان کی سرحد پر تعینات فوجیوں کو ہٹا کر مشرقی سرحد پر تعینات کرے

مزید : صفحہ اول