سیلا ب متاثرین کی امداد اور بحالی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی:شہباز شریف

سیلا ب متاثرین کی امداد اور بحالی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے ...

  

لاہور(پ ر)وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے حالیہ بارشوں اور سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر ڈویژنل کمشنرز اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ صوبہ بھر میں دریاﺅں اور ندی نالوں کی صورتحال کو 24 گھنٹے مانیٹر کیا جائے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں متعلقہ اداروں کو فی الفور آگاہ کیا جائے۔ تمام متعلقہ ادارے بارشوں یا ممکنہ سیلاب سے پیدا ہونے والی کسی بھی ہنگامی صورتحال پر قابو پانے کیلئے قریبی رابطے میں رہیں اوراس ضمن میں تمام تیاریاں اورانتظامات مکمل رکھے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ مصیبت کی گھڑی میں سیلاب متاثرین کے ساتھ کھڑا ہوں، ان کی مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ منتخب نمائندے اپنے اپنے علاقوں میں بارشوں اور ممکنہ سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر اقدامات کریں ۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا کہ راجن پور ،میانوالی اورسیالکوٹ کے جن علاقوں میں سیلاب کے باعث نقصان ہوا ہے وہاں پر فوری طور پر ریلیف کی سرگرمیاں شروع کردی گئی ہیں اور متاثرین سیلاب کی بحالی کا کام بھی زور و شور سے جاری ہے۔ متاثرین سیلاب کی بحالی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی اورتمام متاثرین سیلاب کو بہت جلد ان کے گھروں میں آباد کیاجائے گا ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہونے والے نقصانات کا تحمینہ لگانے کے لئے کئے جانے والے سروے کی روشنی میں متاثرین کے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔ متاثرین سیلاب کے لئے کی جانے والی امداد و بحالی کی سرگرمیوں میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکومت گزشتہ سالوں سے بھی بڑھ کر سیلاب متاثرین کی امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریاﺅں اور نہروں کے حفاظتی پشتوں کی مسلسل نگرانی کی جائے اور کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام انتظامات مکمل رکھے جائیں۔ دریں اثناءوزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے سخی سرور کے علاقہ میں زمیندار کی جانب سے نوجوان کی ناک کاٹنے کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کرلی ہے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے فی الفور گرفتار کیاجائے اور زخمی نوجوان کو ہسپتال میں علاج معالجہ کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔

مزید :

صفحہ اول -