امن ہو یا جنگ، قوم تیار رہے، جنگ ہوئی تو دل و جان سے ہو گی: وزیر داخلہ چوہدری نثار

امن ہو یا جنگ، قوم تیار رہے، جنگ ہوئی تو دل و جان سے ہو گی: وزیر داخلہ چوہدری ...
امن ہو یا جنگ، قوم تیار رہے، جنگ ہوئی تو دل و جان سے ہو گی: وزیر داخلہ چوہدری نثار

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ہم امن اور جنگ دونوں کیلئے تیار ہیں، چاہتے ہیں معاملات مذاکرات سے حل ہوں تاہم اگر جنگ ہوئی تو دل و جان سے ہو گی، قوم کو تیار رہنا ہوگا، ہمیں حکومت کی نہیں ملک کے مستقبل کی فکر ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے بعد افغانستان پر مسلط کی جانے والی جنگ ہماری نہیں، ابھی تک ہم یہ بھی فیصلہ نہیں کر سکے کہ یہ جنگ ہماری ہے یا نہیں جبکہ ڈرون حملوں میں پاکستانی شہری مر رہے ہیں لیکن کسی نے نیشنل سیکیورٹی پالیسی تک نہ بنائی اس لئے آل پارٹیز کانفرنس اسی ماہ منعقد کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے جس کے تمام فیصلوں پر عمل کیا جائے گا، کوئی ایک پارٹی تنہا ملک کو مسائل سے نہیں نکال سکتی، معاملات باتوں سے حل نہیں ہوں گے، مل جل کر حل کرنا ہوں گے، ہم نے اس خطے اور پاکستان میں امن لانا ہے، ہمارے دشمن ہمارے اوپر ہنس رہے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ خود تباہ ہو رہے ہیں۔ چوہدری نثار نے کہا کہ سیاسی معاملات پر تنقید کریں، قومی سلامتی کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کیلئے ہمارا ساتھ دیں۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کو دو ہفتوں میں قومی سلامتی پالیسی کا خاکہ پیش کر دیں گے، قومی سلامتی پالیسی کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے جس کے پہلے حصے میں اندرونی اور دوسرے حصے میں بیرونی و سٹریٹجک معاملات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوجی کو ریٹائر ہونے کے بعد نیشنل سیکیورٹی یاد آتی ہے، بھارت کو نیشنل سیکیورٹی پالیسی بنانے میں 20 سال لگے، نائن الیوین کے بعدپاکستان کو جنگ میں جھونک دیا گیا، مشرف کے آٹھ سالہ دور میں لوگ ذبح ہوتے رہے لیکن 13 سال ہو گئے کسی نے نیشنل سیکیورٹی کا نام تک نہیں لیا۔ چوہدری نثار نے کہا کہ حادثات رونماءہوتے رہتے ہیں لیکن کسی کا احتساب نہیں ہوتا، ایک ایسا ادارہ بنانا چاہتے ہیں جو سیکیورٹی کے تمام معاملات دیکھے۔ وزیر داخلہ نے جوائنٹ انٹیلی جنس سیکرٹریٹ بنانے کا اعلان کیا اور بتایا کہ جوائنٹ انٹیلی جنس سیکرٹریٹ آئندہ 6 سے 7 ماہ میں کام شروع کر دے گا اور اس ادارے میں 24 گھنٹے کام ہو گا، تمام خفیہ ایجنسیوں کے باہمی روابط کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ داخلی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کیلئے نیکٹا کو فعال بنا رہے ہیں۔ چوہدری نثار نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس اسی ماہ شروع ہو جائے گی جس میں چار آپشن ہوں گے جبکہ اے پی سی صرف کارروائی نہیں ہو گی بلکہ اس میں ہونے والے تمام فیصلوں پر عملدرآمد بھی ہو گا۔ تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہ اے پی سی میں شمولیت کیلئے تیار ہیں جس کے پہلے حصے میں ملٹری قیادت، ڈی جی آئی ایس آئی قومی قیادت کو بریفنگ دے گی جبکہ اے پی سی کے دوسرے حصے میں صرف سیاسی قیادت ہو گی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ بلوچستان پولیس کو فوجی لیول کی ٹریننگ دیں گے۔ بارہ کہو حملے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ حملے سے پہلے کچھ نوجوانوں نے کیمرے والے چشموں سے مسجد کا جائزہ لیا جبکہ جس شخص نے حملہ کیا وہ عید کے روز مسجد میں حملہ کرنا چاہتا تھا۔ سیکیورٹی فورسز کہتی ہیں کہ 99 کامیابیوں کو چھوڑ کر 100 ویں ناکامی کی تشہیر کر دی جاتی ہے۔ چوہدری نثار نے کہا کہ دشمن ایک نہیں، بلوچستان میں کوئی اور لڑ رہا ہے تو سندھ میں کسی اور دشمن کا سامنا ہے، اگر مذاکرات کرنے ہیں تو پوری قوم کا اتفاق ہونا چاہئے جبکہ مذاکرات کیسے کرنے ہیں اور کس بنیاد پر کرنے ہیں اس پر بھی قوم کو متفق ہونا چاہئے اور اگر فوجی کارروائی بھی کرنا ہے تو سب کو متفق ہونا چاہئے کیونکہ پاکستان کی سیکیورٹی سے زیادہ کوئی چیز اہم نہیں ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ بھارت خدا کا خوف کرے، بھارتی وزیر نے دباﺅ میں آ کر اپنا بیان بدلا۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -