خواہش اورخواب کا ملاپ

خواہش اورخواب کا ملاپ
 خواہش اورخواب کا ملاپ

  



کچھ لوگ حق کے بغیر حصہ چاہتے ہیں ،اہلیت کے بغیر منصب اور پروں کے بغیر پرواز چاہتے ہیں ۔چاہنے سے کیا ہوتا ہے ،نظام سقہ سریر آرائے سلطنت ہونے کے بعد بھی چمڑے کا سکہ چلا نہ سکا اور مہاتما بدھ اپنی تمام تر حسنِ نیت کے باوجود دنیا میں امن ومحبت لا نہ سکا ۔

چودھری برادران کو مژدہ ہو کہ ان کی تدبیر کارگر ہوئی اور عمران خان اور طاہرالقادری حکومت گرانے نکلے ہیں ،حبس کے سمے سودائی بادِ بہاری کی تمنا میں سوئے دار چلے ہیں ۔عمران خان نے تبدیلی اور طاہرالقادری نے انقلاب کاجو نعرہ پھینکا ہے وہ بڑا مسحور کن اور مبہوت کرنے والا سہی مگر خطا معاف یہ عمل میں کیسے ڈھلے گا ؟قادری صاحب کی خواہش اورخان صاحب کا خواب عدم سے وجود میں کیسے آئے گا ؟ تکلف برطرف ! کیا دونوں کی اقتدار کی خواہش پوری کرنے کے لیے ہم سیاسی نظام کی بساط لپیٹ دیں ؟

قادری صاحب کے انقلاب کو تو چھوڑیئے کہ اس کی حیثیت اور حقیقت شاعرانہ تعلّی سے زیادہ کچھ بھی نہیں ۔ویسے بھی کل کے دوستوں اور آج کے دشمنوں سے راست ٹکر لینا ان کا محبوب مشغلہ ٹھہرا۔فارغ البال ،مالا مال اور خوشحال شخص کو فرصت کی گھڑیوں میں مصروفیت کی ساعتیں چا ہئیں اور اس کا بہترین مصرف اس کے سوا کیا ہے کہ قادری صاحب جراتِ رندانہ سے اٹھیں اور شریف برادران پر دھاوا بول دیں ۔ایک طرف اقتدار کی خواہش اور دوسری جانب ذاتی انا کی تسکین ہو تو اور کیا چاہیئے ۔

قادری صاحب کے ملازمین اور مریدین جتنے پائے جاتے ہیں ،ایسے میں قادری صاحب جو کچھ کر رہے ہیں وہ یہ نہ کریں تو اور کیا کریں ؟ ظاہر وباہر ہے ہزارو ں آدمی اشارۂ ابرو پرجان سے گزرنے کو تیار ہوں تو خواہ مخواہ سینے میں جباری و قہاری کا احساس درآتا ہے ۔پھر انسان سوچاکیے کہ ایسے میں کوئی حشر اٹھا دینا چاہیئے ،جو کرسی بیٹھنے کے لیے ہمیں نہیں ملتی اس کے پائے اکھاڑ دینا چاہیئے ۔محض سوچنے پر ہی کیا موقوف کہ اگر چودھری برادران ایسے حواری خوشامد کی پنکھی جھلنے لگیں تو نشہ دوآتشہ اور اگر اس کے ساتھ ساتھ عمران خان ایسا سیماب صفت اور مزاج آشنا ساتھی سفر کے لیے میسر ہو تو نشہ سہ آتشہ ہو اجاتا ہے ۔ پھر منزل ملے نہ ملے سفر جاری رہتا ہے ۔

منزلوں کی بات چھوڑو کس نے پائیں منزلیں اک سفر اچھا لگا اک ہم سفر اچھا لگا

گزشتہ حکومت کے عہد میں طاہرالقادری نے کون سا طوفان نہیں اٹھایا ،کون سا صورِاسرافیل نہیں پھونکا اور کون سی چال نہیں چلی پر پانسہ پلٹنے اور تخت گرانے میں وہ قطعی ناکام رہے ۔ رہی بات عمران خان کی دھاندلی کی دہائی ،سونامی اور تبدیلی کی تو ’’درد اٹھ اٹھ کے بتاتا ہے ٹھکانہ دل کا‘‘۔اڑتی چڑیا کے پر دور سے گن لینے کا دعویٰ کرنے والے ،سیاسی ستاروں کی چال سے شناسا اور مخبر صادق خبر دے چکے کہ خان صاحب بات وسط مدتی انتخابات تک لانا چاہتے ہیں ۔سو سوالوں کا ایک سوال کہ ایسا ہو سکے گا ؟ ہو گا تو کیسے ؟ چلو فرض کرو ،فرض کرو کہ فرض کرنے میں حرج ہی کیا ہے ۔فرض کرو کہ میاں نواز شریف بھی جائے رفتن نہ پائے ماندن مانے لیتے ہیں تو مڈ ٹرم الیکشن وزارتِ عظمیٰ کا ہما عمران خان کے سر پر بٹھا دیں گے ؟ انہوں نے خیبر پختونخوا میں کون سے ستارے ٹانک دیئے ہیں جو قوم مرکز بھی ان کے حوالے کر دے گی ۔اول تو مڈ ٹرم الیکشن دور دور تک نظر نہیں آتے اور دوسرا (ن) لیگ نے بھی جوابی چال چل دی تو کیا ہو گا ؟ 13اگست کی رات اگر میاں نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو فری ہینڈ دے دیا تو خیبر پختونخوا کی حکومت کا کیا ہو گا ؟ 14اگست کو (ن) لیگ کے لیے زمین اتنی سخت اور آسمان اتنا دور نہیں ہو گا جتنا کہ یار لوگ سمجھے بیٹھے ہیں ۔تپتی زمین اور آگ اگلتا آسمان انقلابیوں کی خواہش اور سونامیوں کے خواب کے ملاپ سے اپنے فطری قوانین نہیں بدل سکتا ،زمین گول ہے عمران خان کے کہنے پر چپٹی ہو نہیں سکتی اور پو ٹھوہاری سر زمین اپنے محور ومرکز سے ہٹائے ہٹ نہیں سکتی۔کپتان نے بھی طبیعت عجب پائی اور حالت غضب۔وہ دھاندلی کا رونا روتے ہوئے اور 35پنکچروں کا قصہ سناتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ نجم سیٹھی اور میر ہزار خان کھوسو دونوں کے نا م پیپلز پارٹی کے تجویز کردہ تھے ،ن لیگ نے تو محض صاد کیا تھا ۔اور سیٹھی صاحب نے تو خان صاحب کے کہنے پر پنجاب میں وسیع پیمانے پر تبادلے بھی کیے تھے اور یہ کہ اگر سیٹھی صاحب پنکچر لگا نے کی طاقت و قوت رکھتے تو پی پی کے لیے کیوں نہ لگاتے ؟ کل تک کپتان چار حلقوں کی بات کیا کیے اورآج یکایک انہیں القا کیا گیا کہ نہیں مکمل انتخابات میں ہی دھاندلی ہوئی ہے ۔کل تک وہ سابق چیف جسٹس کی تعریف کرتے نہ تھکتے تھے اور آج لتے لیتے نہیں تھکتے۔

فرمایا انہوں نے کہ ہمیں 6ماہ بعد پتہ چلا کہ دھاندلی میں اٖفتخار چودھری بھی شریک تھے ۔داد دیجئے کپتان کی بصیرت کی کہ وہ چھ ماہ تک موسموں کے تیور اور مخالفوں کے ا طوار جانچ پرکھ نہ سکے ۔کیا قائدانہ بصیرت یہی ہے ؟ پھر عام آدمی اورکسی لیڈر میں امتیاز کیا رہ جاتا ہے ؟ تیسری دنیا کے پسماندہ و درماندہ ممالک میں ہی ایسے نادرۃالارض انقلابی اورعجائب الدھر سونامی پائے جاتے ہیں کہ جیت گئے تو درست شکست ہوئی تو کھیل ٹھیک نہیں ہو ا۔یہ وہ لوگ ہیں جو بچے کی طرح کھیلنے کو چاند مانگنے لگتے ہیں یا پھر شاعر کی طرح محبوب سے وصال کی آرزو کیا کیے۔ کچھ لوگ حق کے بغیر حصہ چاہتے ہیں ،اہلیت کے بغیر منصب اور پروں کے بغیر پرواز چاہتے ہیں ۔چاہنے سے کیا ہوتا ہے ،نظام سقہ سریر آرائے سلطنت ہونے کے بعد بھی چمڑے کا سکہ چلا نہ سکا اور مہاتما بدھ اپنی تمام تر حسنِ نیت کے باوجود دنیا میں امن ومحبت لا نہ سکا ۔

مزید : کالم


loading...