قوم پر رحم کریں

قوم پر رحم کریں
 قوم پر رحم کریں

  



تاجر طبقہ وفاق اور پنجاب حکومت کی طرف سے خفیہ انداز میں لگائے جانے والے بعض ٹیکسوں کے زخم سہہ رہا تھا کہ ملک کی سیاسی جماعتوں نے ایک ہیجان بر پا کر دیا ،جس کی وجہ سے پورا کاروبار ہی ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے ۔ عمران خان کی تحریک انصاف اور ڈاکٹر طاہر القادری نے ملک میں انقلاب بر پا کرنے کی مہم شروع کر دی تھی وہ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہی ،لیکن سیاسی کشکمش نے بحران کی صورت ضرور اختیار کر لی ہے ہمارے یہ سیاسی رہنماخود اعتراف کرتے ہیں کہ ملک میں امن اور استحکام ہو گا تو اقتصادی ترقی ہو گی اس کے باوجود یہ خود ہی بے چینی پیدا کر دیتے ہیں اور آج کل تو جودنگل شروع ہوا اس نے پوری قوم کے دفاغ شل کر دیئے ہیں ۔ خصوصاً تاجربرادری ہاتھ پر ہاتھ دھرنے کے لئے مجبور ہو گئی ہے کاروبار بند ہو گئے۔ اس سے بے روزگار ی میں اضافے کا بھی خدشہ ہے ۔ جو پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔

تجارت اور صنعت پہلے ہی لوڈ شیڈنگ اور مختلف پابندیوں کی وجہ سے سسک رہی ہے کہ اب نزع کی کیفیت بن گئی ہے۔ یوں احساس ہونے لگا ہے کہ ان رہنماؤں کو قوم اور ملک کی فکر نہیں جو قوم اور ملک کا نام لے کر بحران بڑھاتے چلے جا رہے ہیں ۔ میری مودبانہ گزارش ہے کہ محاذ آرائی کی بجائے مفاہمت اور استحکام کے لئے مل بیٹھ کر معاملات طے کریں ۔ غلطیوں کو درست کیا جائے اور ملکی ترقی کے لئے اقدامات کئے جائیں۔

مَیں مختصر طور پر گزارش کرتا ہوں کہ ہمارے مہربان سیاسی قائدین اور سیاسی جماعتوں نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں فنانس بل کے ذریعے لگائے جانے والے بالواسطہ اور بلا واسطہ ٹیکسوں پر کوئی احتجاج نہیں کیا اور یہ سب جوں کے توں منظور ہو گئے ، جہاں تک ہمارے پنجاب کا تعلق ہے تو یہاں پراپرٹی ٹیکس میں پانچ گنا سے بھی زیادہ اضافہ کرنے کے لئے چور راستہ ڈھونڈ ا گیا ۔ علاقوں کو اے سے ڈی تک تقسیم کرکے سالانہ کرایہ کی شرح بڑھا کر پراپرٹی ٹیکس میں پانچ گنا تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔اسی طرح ٹرانسپورٹ کے کاروبارپر ضرب لگائی ہے۔ گاڑی کی ٹرانسفر فیس کئی ہزار بڑھا دی ،جبکہ رجسٹریشن کے لئے ٹیکس نمبر اور غیر ٹیکس نمبر کی شرط عائد کرکے تین سے 6لاکھ روپے تک ٹیکس عائد کیا گیا بڑی گاڑی پر اس سے زیادہ لیا جائے گا ۔ اس میں ماڈل کا کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا نئی گاڑی پانچ سال پرانی گاڑی کی ٹرانسفر فیس 50ہزار سے 4 لاکھ روپے کر دی گئی ہے، حالانکہ گاری کی قیمت ماڈل کے لحاظ سے کم ہو جاتی ہے ۔

حکومت کو جن حضرات نے یہ مشورہ دیا وہ ایک مرتبہ پھر بھول گئے کہ سابقہ دور میں جو انجام لگژری ٹیکس کا ہوا وہ اس کا بھی ہو گا اب پھر گاڑیوں کی رجسٹریشن پنجاب سے باہر والے صوبوں میں شروع ہو گی اورگاڑیوں کی فروخت اوپن لیٹر کی بنیاد پر ہو رہی ہے ۔ یوں حکومت کو آمدنی کی بجائے نقصان شروع ہو چکا ہے ۔ غور کرنے کی ضرورت ہے ۔

میں اپنی حکومت سے گزارش کرتا ہوں کہ تاجروں اور عوام پر رحم فرمائیں اس پورے نظام پر نظر ثانی کریں ساتھ ہی ایسے سیاسی رہنماؤں سے اپیل ہے کہ وہ ملک میں امن و استحکام کے لئے مفاہمت کی فضا پیدا کریں جو حضرات حکمران ہیں۔ وہ عوامی بہبود کے کام کریں اور جو اپوزیشن میں ہیں وہ عوامی بہبود میں حکومت کے غلط کاموں کی پکڑ کریں ۔

مزید : کالم


loading...