پاکستان کے پاس یہ دم خم نہیں کہ بھارت سے جنگ جیت سکے

پاکستان کے پاس یہ دم خم نہیں کہ بھارت سے جنگ جیت سکے
پاکستان کے پاس یہ دم خم نہیں کہ بھارت سے جنگ جیت سکے

  


کل (12اگست 2014ء) صبح صبح بھارتی وزیراعظم نریندر مودی صاحب نے مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا۔یہ ان کا ایک ماہ میں دوسرا دورئہ کشمیر تھا۔خبر نہیں اس کا مقصد کیا ہے۔

وادی کشمیر کے اوپر شمال میں لداخ کا علاقہ ہے جس کا صدر مقام لیہ (Leh)ہے۔اس کی سرحدیں چین (تبت) سے ملتی ہیں۔مودی صاحب کو چاہیے تو یہ تھا کہ وہ چین کے متعلق کوئی بیان دیتے۔لیکن انہوں نے یہاں پہنچ کر سیاچن پر صف بند اپنے فوجی دستوں اور سویلین آبادیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ” پاکستان، بھارت سے روائتی جنگ جیتنے کی ہمت نہیں رکھتا، اس لئے وہ ”پراکسی وار“ کا سہارا لے رہا ہے“۔

دیکھا جائے تو اول تو اس بیان کی ضرورت ہی نہ تھی۔کنٹرول لائن پر کوئی ایسی شدید جھڑپ بھی نہیں ہوئی کہ وزیراعظم وہاں جاتے۔چھوٹی موٹی جھڑپیں تو معمول ہیں۔کچھ روز پہلے بھارتی سینا کا ایک سپاہی جو سرحد پار کرکے پاکستانی علاقے میں آ گیا تھا اور اسے پکڑ لیا گیا تھا ، اس نے بھی واپس بھارت جا کر پاکستانی فوج کی طرف سے کئے جانے والے حسنِ سلوک کی تعریف کی تھی اور یہ خبر خود انڈین میڈیا میں نمایاں طور پر فلیش کی گئی تھی.... دوسرے مودی صاحب نے یہ بیان دے کر اپنے یا کسی غیر ملکی عسکری ادارے یا پاکستان آرمی کو کوئی نئی خبر نہیں دی کہ پاکستان، بھارت سے روائتی جنگ نہیں جیت سکتا۔لیکن مودی صاحب یہ بھی تو بتائیں کہ کیا وہ مسئلہ کشمیرپر اپنے موقف سے دستبردار ہو سکتا ہے؟

 پاکستان آرمی نے چند ماہ پہلے جی ایچ کیو میں جو ”یوم شہدا“ منایا تھا اور جس میں ملکی اور غیر ملکی اخباری نمائندے اور سفارت کار شریک ہوئے تھے،اس میں آرمی چیف نے واشگاف انداز میں یہ کہا تھا کہ پاک فوج، کشمیر پر اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی۔

یہ بات درست ہے کہ ہمارے وزیراعظم بھارتی حکومت کے اربابِ اختیار کے متعلق اپنے دل میں نرم گوشتہ رکھتے ہیں لیکن کیا بھارتی وزیراعظم کے سینے میں بھی کوئی جوابی نرم گوشہ موجود ہے؟....میاں صاحب کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف سے بھی تو انحراف نہیں کر سکتے۔اگر ایسا ہے تو پھر بھارتی وزیراعظم کو یہ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ پاکستان، انڈیا سے روائتی جنگ نہیں جیت سکتا، اس لئے ”پراکسی وار“ کا سہارا لے رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا مودی صاحب سے یہ بھی پوچھ سکتا ہے کہ اگر پاکستان، ہندوستان سے روائتی جنگ نہیں جیت سکتا تو کیا وہ ”پراکسی وار“ ترک کر سکتا ہے؟ .... کس کو معلوم نہیں کہ ہم، مقبوضہ کشمیر کے مظلوم کشمیریوں سے ہمدردی رکھتے ہیں؟ وہ سارا علاقہ ہماری نظر میں بھی متنازعہ علاقہ ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی یہی کہہ رہی ہیں کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں۔بھارتی آئین میں کشمیر کی خصوصی اہمیت کو ختم کرنے کا ایشو بھی کوئی نیا نہیں۔بھارتی آئین کے اس آرٹیکل کا معاملہ ایک عرصے سے لٹکا ہوا ہے۔جس کی رو سے کشمیر کو ایک خصوصی حیثیت دی ہوئی ہے۔ بھارت اس حیثیت کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ وزیراعظم بھارت کو چونکہ اب پارلیمنٹ میں بہت بڑی اکثریت حاصل ہے اس لئے وہ جب چاہیں اس آرٹیکل کو بلڈوز کر سکتے ہیں۔وہ ایسا کرتے ہیں تو کرکے دیکھ لیں.... لیکن کیا ”پراکسی وار“ اس کے بعد ختم ہو جائے گی؟

کشمیر کی خصوصی اہمیت کو بھارتی آئین سے حذف کریں یا رہنے دیں اس سے گراﺅنڈ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔کشمیری اپنی آزادی کے لئے جدوجہد کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ بھارت اس کو پاکستان کی پراکسی وار کہتا آیا ہے اور کہتا رہے گا۔

دیوانہ بہ راہے رو دو طفل بہ را ہے

نریندر مودی صاحب کا یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب ایک بار پھر پاکستان اور بھارت ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں.... بھارتی میڈیا کے مطابق دو روز پہلے جموں کی ایک بیرونی چوکی پر پاکستان کی طرف سے مبینہ فائرنگ کے بعد بھارت کے بارڈر سیکیورٹی فورس (BSF) کے دو جوان زخمی ہو گئے تھے۔لیکن اس میڈیا نے یہ نہیں بتایا کہ فائرنگ میں پہل کس نے کی تھی! کیا پاکستانی فوج کا دماغ خراب ہے کہ وہ بیٹھے بٹھائے رائفلوں کے گھوڑے دباتے رہیں؟اصل بات یہ ہے کہ مودی صاحب کا یہ دورہ سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے ہو رہا ہے۔اسی سال کے اواخر میں جموں اور کشمیر میں ریاستی الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔وزیراعظم بھارت کو یہ گمان ہے کہ وہ مئی میں قومی انتخابات میں اپنی لینڈ سلائیڈ وکٹری کو اب اس ریاست میں بھی دہراسکتے ہیں اور بی جے پی یہاں بھی بھاری اکثریت سے جیتے گی۔

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

لداخ کا یہ علاقہ کہ جہاں مودی صاحب کل تشریف لے گئے تھے، اس میں ریاستی اسمبلی کی چار نشستیں ہیں۔ جنتا پارٹی کا خیال ہے کہ ان میں دو نشستیں تو وہ ”خواہ مخواہ“جیت جائے گی۔ مئی 2014ءکے قومی انتخابات میں جنتا پارٹی نے پہلی بار لداخ کی لوک سبھا کی ایک سیٹ پر کامیابی حاصل کی تھی۔اس کامیابی کو مودی صاحب ایکسپلائٹ کرنا چاہتے ہیں اور یہ پے بہ پے دورے اسی لئے کئے جا رہے ہیں۔

کارگل وار مئی، جون1999ءمیں لڑی گئی تھی۔ اس کے بعد آج15برس گزر گئے، اس علاقے میں کوئی بھارتی وزیراعظم نہیں آیا۔ چنانچہ مودی صاحب کو اس پس منظر میں یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ: ”ایک زمانہ تھا کہ وزیراعظم یہاں نہیں آیا کرتے تھے۔.... لیکن دیکھئے مَیں صرف ایک ماہ میں دو بار آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں .... یہ آپ کی محبت تھی جو مجھے یہاں کھینچ لائی ہے۔“یہ ”سیاسی محبتیں“ بھی عجیب چیزیں ہیں۔اچھے بھلے سفید ریش انسان کو منافق اور کاذب بنا دیتی ہیں۔

اس ریجن (لداخ) میں پاکستان کی طرح بجلی کی لوڈشیڈنگ ناقابل ِ برداشت حدتک پہنچی ہوئی ہے۔ مودی صاحب نے لیہ میں تقریر کرتے ہوئے ایک بڑے بجلی گھر کے افتتاح کی خوش خبری بھی جنتا کو دی اور یہ بھی کہا کہ مَیں آپ کے علاقے میں بجلی، ماحولیات اور سیاحت کے تین شعبوں میں فروغ کے لئے حاضر ہوا ہوں۔

کارگل کے کوہستانی نشیب و فراز کا ذکر کرنے لگوں تو یہ کالم بہت طول کھینچ جائے گا اس لئے اتنا کہنا کافی ہے کہ یہاں کسی بڑے صنعتی منصوبے کی داغ بیل نہیں ڈالی جا سکتی۔ بجلی نہ ہو تو کوئی بھی کام سرانجام نہیں پاتا۔ اگرچہ یہاں ہائیڈل پاور پلانٹوں کی تنصیب کے لئے وافر مواقع میسر ہیں لیکن ان پلانٹوں کی مشینری کو یہاں تک لانے کے لئے روڈ اور ائر ٹرانسپورٹ کا انتظام و استعمال کارے دار رہے۔ مودی صاحب نے یہاں کارگل میں بھی ایک صنعتی زون کے قیام کا اعلان کیا اور ساتھ ہی ایک بڑے بجلی گھر کا افتتاح بھی کیا۔ مزید برآں انہوں نے ان علاقوں کے لئے آٹھ ہزار کروڑ(8000کروڑ) روپوں کے فنڈ بھی ریلیز کرنے کا اعلان کیا تاکہ وہ منصوبے جن کو کانگرس حکومت نے وعدوں پر ٹالے رکھا تھا، ان کو مکمل کیا جاسکے۔

قارئین کرام! ایک ہم ہیں کہ کل (14اگست) یوم آزادی منانے کی بجائے آزادی مارچ منا ر ہے ہیں۔ کچھ خبر نہیں کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ ساری قوم گو مگو کی کیفیت میں گرفتار ہے۔ ایک طویل عرصے سے باہر کے کسی ملک نے یہاں سرمایہ کاری سے توبہ کررکھی ہے۔ ہم آپس میں ہی ایک دوسرے کو لوٹ لوٹ کر کھائے جا رہے ہیں۔ بالفرضِ محال آج اس پراسس کو کوئی”بندہ¿ خدا“ آ کر ریورس بھی کر دے تو معیشت کی ریل کو پٹڑی پر چڑھنے کے لئے مہینوں نہیں، برسوں درکار ہوں گے۔

دوسری طرف دیکھئے بھارت کیا کر رہا ہے، ہمیں کیا کیا الزام دے رہا ہے، پاک فوج کی ہمت کو کیسے للکار رہا ہے کہ اس میں جنگ لڑنے کا دم خم (Strength) ہی نہیں اور وہ تو بس پراکسی جنگ تک محدود ہو کے رہ گئی ہے۔

اگر آنے والے کل، پرسوں، اترسوں یا اگلے ہفتے امن و امان کی صورت حال بگڑی اور ملک خانہ جنگی کی طرف چلا گیا تو کیا کسی سیاسی پارٹی کے پاس کوئی پلان اے یا پلان بی موجود ہے جو پاکستان کی مدد کو آئے گا؟

مزید : کالم


loading...