لمحوں کی خطا، برسوں کی سزا

لمحوں کی خطا، برسوں کی سزا
 لمحوں کی خطا، برسوں کی سزا

  



برسوں سے ایک مقولہ سنتے آئے ہیں، ’’لمحوں کی خطا، برسوں کی سزا‘‘ اگرچہ بعض منچلے اسے شادی پر منطبق کرتے ہیں کہ جو عمر بھر کی زنجیر بن جاتی ہے، تاہم اس مقولے میں ایک بہت بڑی تنبیہ موجود ہے۔ جو لوگ اس تنبیہ پر کان نہیں دھرتے وہ یقیناًپچھتاتے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ زندگی میں کوئی ایک لغزش عمر بھر کا روگ دے جاتی ہے۔ مجھے یہ مقولہ آج کل کی سیاسی صورت حال دیکھ کر یاد آ رہا ہے۔ اس وقت ملک ایک دوراہے پر کھڑا ہے، بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ پل صراط اس کے نیچے ہے۔ ذرا سی بے احتیاطی بھی سانحے سے دو چار کر سکتی ہے۔ آزادی اور انقلاب کے دل خوش کن نعرے اپنی جگہ لیکن اگر حالات کو اسی طرح شتر بے مہار کی مانند چھوڑ دیا گیا تو ہماری یہ خطا پھر کسی لمبی سزا کا موجب بن سکتی ہے۔ حالات حاضرہ میں کوئی فریق بھی اس پہلو پر سوچنے کے لئے تیار دکھائی نہیں دیتا۔ حکومت اور اپوزیشن دو ازلی دشمنوں کی طرح ایک دوسرے کے سامنے ڈٹی ہوئی ہیں۔ اگرچہ وزیر اعظم محمد نوازشریف نے عمران خان کو پھر سے ملاقات کی دعوت دی ہے، مگر موجودہ حالات میں یہ بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آتی۔ اُدھر لاہور ہائی کورٹ نے بہت صائب مشورہ دیا ہے کہ وزیر اعظم محمد نوازشریف کو ملک کی خاطر دس بار بھی عمران خان کے گھر جانا پڑے تو اُنہیں دریغ نہیں کرنا چاہئے تاہم جذباتی فضا میں اس مشورے پر عمل بھی ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

لمحے گزرتے جا رہے ہیں اور صورتِ حال میں تناؤ اور بے یقینی بڑھتی جا رہی ہے کہنے کو عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے سختی سے اس بات کو رد کیا ہے کہ اُن کی مہم جوئی کے نتیجے میں مارشل لاء آ سکتا ہے لیکن جب فیصلے سڑکوں پر ہوں گے تو حالات کیسے نارمل رہ سکیں گے پھر تو کوئی غیر معمولی فیصلے ہی کرنے پڑیں گے اور یہ فیصلے دونوں فریقوں کی بجائے کوئی تیسرا فریق ہی کرے گا۔ آج ملک کے تقریباً ہر شخص کی زبان پر یہ سوال ہے کہ کیا ملک میں مارشل لاء آ رہا ہے؟ آپ کتنا ہی اس بات کی تردید کر لیں، اس سوال کو جھٹلائیں لیکن دو پہلوانوں کے درمیان داؤ پیچ دیکھ کر ہر کوئی اس سوال کی تشویش میں مبتلا ہو چکا ہے۔ پاکستان تو ویسے بھی اس قسم کے حالات سے کئی بار گزرا ہے اور کئی بار عوام نے ’’میرے عزیز ہم وطنو!‘‘ کی صدا سنی ہے، ہمارے سیاستدان بھی شاید اسی تیسرے فریق کی اُمید پر سارا کھیل کھیلتے ہیں، وگرنہ آئینی راستہ تو کوئی موجود ہی نہیں ہوتا۔ مثلاً وزیر اعظم محمد نوازشریف اگر آزادی یا انقلاب مارچ کے باوجود مستعفی ہونے سے انکار کر دیتے ہیں تو اُنہیں اقتدار سے کیسے الگ کیا جا سکتا ہے، آئینی راستہ تو وہی ہے جو آئین میں درج ہے کہ وزیر اعظم خود مستعفی ہو جائے یا پارلیمینٹ میں اس کے خلاف عدم اعتماد کی قرار داد آئے، تیسرا راستہ تو تیسری قوت ہی لا سکتی ہے، اب سوال یہ ہے کہ موجودہ حالات میں کیا یہ تیسری قوت یہ کام کرنے پر آمادہ ہے؟ اگر نہیں تو پھر کیا ہوگا، خون خرابہ یا انارکی،ا گر بالفرض ایسا ہوتا ہے؟ تب تیسری قوت ضرور مداخلت کرے گی، لیکن اُس صورت میں شاید یہ مداخلت صرف اپوزیشن کی منشاء کو پورا کرنے کے لئے نہ کی جائے بلکہ ایک طویل مارشل لاء قوم کا مقدر بنے اور ہم ایک بار پھر لمحوں کی خطا پر برسوں کی سزا کاٹنے کے سزا وار ٹھہریں۔

اس تلخ حقیقت کو تسلیم کئے بنا بھی چارہ نہیں کہ حکومت نے معاملات کو سدھارنے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے میں بہت تاخیر کر دی۔�آج جس کھلے دل سے وزیر اعظم محمد نوازشریف اور وزیراعلیٰ شہباز شریف عمران خان کے ہر مطالبے پر غور و فکر کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں، اگر شروع ہی میں ایسا کر گزرتے تو اُنہیں اس طرح کی صورتِ حال کا سامنا نہ کرنا پڑتا ۔ شروع دن سے اُن کے وفاداران شاہ حالات کو پر انگیختہ کرنے کے لئے اپنا سارا زور صرف کرتے رہے ٹھٹھہ مخول کے انداز میں اپوزیشن کو لیا جاتا رہا ۔ شروع دن سے سنجیدہ صحافتی و سیاسی حلقے حکمرانوں کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کراتے رہے کہ ملک کی ایک بڑی جماعت کی طرف سے جو ایشوز اُٹھائے جا رہے ہیں، اُن پر توجہ دی جائے صرف چار قومی حلقے کھولنے کے مطالبے کو اگر ابتدا ہی میں توجہ دے کر حل کر لیا جاتا تو حکومت آج زیادہ اعتماد کے ساتھ اپنا کام کر رہی ہوتی۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ حکومت میں اپنی نوکری بچانے کے لئے کام کرنے والے وزراء آج بھی غیر سنجیدگی کی آخری حدوں پر کھڑے ہیں یہ جانتے بوجھتے بھی کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ اپوزیشن کے معاملے میں کس قدر صلح جو اور نرم خو ہو چکے ہیں، اُن کی تان اشتعال انگیز بیانات اور الزمات پر ہی ٹوٹتی ہے۔ کوئی یہ کہنے میں پیش پیش ہے کہ عمران خان جھوٹ بول رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں بھلا ایسے الزامات اور بیانات سے کیا فرق پڑ سکتا ہے، سوائے انتشار میں اضافے کے ، بدقسمتی سے بعض وزراء خود کو افلاطون کے مرتبے پر فائز کر کے حالات کو دیکھ رہے ہیں، حالانکہ اُنہیں کم از کم اُس سطح پر ضرور آکر دیکھنا چاہئے جہاں سے خود اُن کے لیڈر وزیر اعظم محمد نوازشریف حالات کو دیکھ رہے ہیں۔

حکومتی حلقوں کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ ڈاکٹر طاہر القادری ایک طے شدہ حکمتِ عملی کے تحت اپنے انقلاب مارچ میں متشدد نظریات کو شامل کر رہے ہیں۔ اُن کے جواب میں اگر حکومتی وزراء بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی بات کرتے ہیں تو گویا وہ ڈاکٹر طاہر القادری کے منصوبے کی تکمیل کر رہے ہیں ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنی شہادت، اُس کے انتقام میں شریف برادران پر حملے اور انقلاب کے بغیر واپس آنے والوں کو بھی مار دینے کی جو باتیں کی ہیں، وہ بلا وجہ نہیں اُن کا مقصد صورتِ حال کی سنگینی کو بڑھانا ہے، تاکہ مقتدر حلقے مداخلت کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ مجھے اُس وقت بہت عجیب لگا تھا جب میں نے سنا کہ مسلم لیگ (ن) نے بھی اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری تو خود اُنہیں یہ تحریک دے رہے ہیں کہ اگر اُنہوں نے ڈیڑھ کروڑ ووٹ لئے ہیں تو سڑکوں پر عوامی قوت کا مظاہرہ کر کے دکھائیں۔ ظاہر ہے اس سے اُن کا مقصد خانہ جنگی کے حالات پیدا کرنا ہے۔ جب یہ خبریں ٹی وی چینلز سے نشر ہونے لگیں کہ لاہور میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کا آمنا سامنا ہو گیا ہے اور نوبت لڑائی جھگڑے تک پہنچ گئی ہے تو مجھے یوں لگا کہ جیسے مسلم لیگ (ن) میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں جو سیاسی سوجھ بوجھ رکھتا ہو، سب گلو بٹ کے انداز میں سوچ رہے ہیں تاہم جلد ہی وزیر اعظم نے اس بات کا نوٹس لیا اور مسلم لیگ (ن) کی جوابی ریلیوں پر پابندی لگا دی۔ یہ بہت دانشمندانہ فیصلہ ہے، کیونکہ امن و امان کی کُلیّ ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے اور حالات خراب ہونے کا خمیازہ بھی اُسے ہی بھگتنا پڑے گا۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

آنے والے دنوں میں پردۂ غیب سے کیا رونما ہوتا ہے اس بارے میں کچھ بھی کہنا موجودہ اؑ لجھی ہوئی صورت حال میں ممکن نہیں البتہ اس تاریکی میں روشنی کی کرن یہ ہے کہ حکومت ہو یا سیاسی جماعتیں، حتیٰ کہ وہ اپوزیشن بھی کہ جو احتجاج پر تلی ہوئی ہے، اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ ملک میں مارشل لاء نہیں آئے گا اور اگر آیا تو اُس کے خلاف سب سے پہلے مزاحمت وہ خود کریں گے۔ گویا ایک طرح سے اس نکتے پر قومی اتفاق رائے موجود ہے کہ جو کچھ بھی ہو اسے قومی امنگوں کے مطابق آئین کے دائرے میں ہونا چاہئے۔ جب یہ طے ہے کہ ماورائے آئین کوئی قدم نہیں اُٹھانا تو پھر دونوں طرف سے لچک کا مظاہرہ کیا جانا ضروری ہے۔ اگر ایسا نہیں کیا جاتا اور زبانی کلامی آئین پر کاربند رہنے کی باتیں کی جاتی ہیں، تو پھر ملک کو انتشار اور افراتفری سے بچانے کے لئے فوج کی مداخلت ناگزیر ہو جائے گی۔ اب سیاسی قوتوں کے ہاتھ میں ہفتے یا مہینے نہیں بلکہ لمحے ہی باقی رہ گئے ہیں۔ اگر تاریخ کے ان نازک لمحات میں دانشمندانہ فیصلے نہ کئے گئے تو شاید ان لحوں کی خطا میں ہمیں برسوں کی سزا بھگتنی پڑے۔

مزید : کالم


loading...