قیدی انقلاب اور آزادی کے گیت

قیدی انقلاب اور آزادی کے گیت
 قیدی انقلاب اور آزادی کے گیت

  


حکومت کی طرف سے ڈاکٹر طاہر القادری کو انقلابی سرگرمیوں سے روکنے کے لئے جو اقدامات کئے گئے، ان سے لوگوں کی زندگی کیا کم اجیرن تھی کہ اب عمران خان کے آزادی مارچ کے خلاف حکومتی ایکشن کا عذاب بھی برداشت کرنا پڑرہا ہے۔ اس دہرے عذاب کا ذمہ دار کون ہے ؟اس بارے حکومت کے ترجمان کی طرف سے ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کو شرپسند عناصر قرار دیتے ہوئے عوام سے معذرت کی ہے اور بس ....!حکمرانوں اور مشیروں کو یہ احساس شاید نہیں ہوسکا کہ پٹرول سپلائی معطل کرکے اور کنٹینرز سے لاہور اور اسلام آباد میں تمام بڑی چھوٹی سڑکوں کو بند کرنے سے لوگوں کو جس قیامت صغریٰ کا سامنا ہے اس کی وجہ سے لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ انہیں جو سزا بھگتنا پڑ رہی ہے، ان کا قصور کیا ہے۔ 8اگست سے تادم تحریر، لاہور اور اسلام آباد کے علاوہ صوبے بھر میں پٹرول کی عدم دستیابی اور سڑکوں کی بندش سے تمام کاروبار زندگی ٹھپ ہوچکا ہے۔ کھانے پینے کی اشیاءکی قلت سے لوگ پریشان ہیں۔ ایمرجنسی کہیں جانا پڑے تو پٹرول اور گیس کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ حل ہو بھی جائے تو پولیس والے روک لیتے ہیں، کہ اوپر سے حکم ہے، کسی گاڑی یا گاڑی والے کو آگے نہ جانے دیا جائے۔ جہاں کہیں لوگوں کو پیدل جانے کی اجازت دی گئی، وہاں لوگوں کو میلوں سامان اور بچوں سمیت چل کر جانا پڑرہا ہے۔ اس صورت حال میں لوگ کبھی حکومت کو بددعائیں دیتے ہیں تو کبھی طاہر القادری اور عمران خان کو برا بھلا کہہ کر غصہ نکالتے ہیں۔

روایت یہی ہے کہ حکومت کے خلاف کوئی تحریک چل رہی ہو یا حکمرانوں پر دباﺅ بڑھانے کے لئے بحران پیدا کرنا مقصود ہو تو حکومت کی اولین ترجیح یہ ہوتی ہے کہ پہیہ جام ہڑتال نہ ہو۔ کیونکہ پہیہ جام ہونے سے کاروبار زندگی بہت بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ روزانہ اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔ لوگ حکمرانوں کو طرح طرح کے القابات سے نوازتے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آرہا کہ یہ حالات کا جبر ہے، حکومت نے آزادی اور انقلاب مارچ روکنے کے لئے خود پہیہ جام کا بندوبست کیا ہے، یعنی اپوزیشن جو کام کیا کرتی ہے، وہ کام حکومت نے کیا ہے اور اپنی اس” حکمت عملی “پر بے حد مطمئن ، بلکہ خوش ہیں کہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے 4۔اگست سے 10۔ اگست تک سانحہ¿ ماڈل ٹاﺅن کے شہداءاور پاک فوج کے شہید افسروں اور جوانوں کے ایصال ثواب کے لئے ہفتہ¿ قرآن خوانی کا اعلان کیا تھا۔ پہلے طاہر القادری کی رہائش اور مرکز منہاج القرآن کی طرف جانے والے ہر راستے کو کنٹینرز کھڑے کرکے بند کیا گیا۔ کارکنوں کو کسی راستے سے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ طاہرالقادری اور چند سو کارکن محصور ہوکررہ گئے۔

حکومت نے طاہرالقادری اور عمران خان کو کارکنوں سے دور رکھتے ہوئے ان کی سرگرمیوں کو محدود رکھنے کے لئے اب تک جو اقدامات کئے ہیں، ان پر تقریباً ساری سیاسی جماعتوں نے اعتراض کرتے ہوئے یہ مشورہ دیا ہے کہ دونوں سیاسی رہنماﺅں کو ان کے پروگرام کے مطابق اسلام آباد آنے سے نہ روکا جائے۔ اس مشورے پر کان نہیں دھرا گیا۔ طاہر القادری اور عمران خان کو اسلام آباد میں احتجاج سے روکنے کے لئے وہی حربے استعمال کئے جارہے ہیں، جو گزشتہ ہفتے طاہر القادری کے قرآن خوانی پروگرام کو ناکام بنانے کے لئے اختیار کئے گئے تھے۔ حکومتی حلقوں کی طرف سے یہ کہا جارہا ہے کہ طاہر القادری اور عمران خان کسی بیرونی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ دونوں رہنماﺅں کو کسی تیسری طاقت کا اشارہ ہے۔ جب حکمرانوں کے ذہنوں میں اس قسم کے خدشات موجود ہوں تو وہ رسی کو سانپ سمجھ کر ہاتھ لگاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ ایسی حالت میں وہ کس طرح طاہر القادری اور عمران خان کو اسلام آباد پہنچ کر احتجاج کی اجازت دے سکتے ہیں۔ دوسری جانب دونوں سیاسی رہنما بار بار گارنٹی دے رہے ہیں کہ ان کا احتجاج پرامن ہوگا۔ لیکن حکمران کوئی رسک لینے کو تیار نہیں۔

یہ مرحلہ حکمرانوں اور مشیروں کی انتظامی صلاحیتوں کی آزمائش کا مرحلہ ہے۔ اس معاملے میں بلا سوچے سمجھے فیصلے نہ کئے جائیں۔ طاہر القادری اور عمران خان کے کارکنوں سے آپ جو مرضی سلوک کریں، مگر عوام کی زندگی اجیرن نہ بنائیں اور انہیں برا بھلا کہنے کا موقع نہ دیں۔ وہ لوگ اگر ، بقول آپ کے یوم آزادی پر کوئی سازش کررہے ہیں تو آپ ہوش سے کام لیں۔ بچے کی اصل ماں کا کردار ادا کرتے ہوئے خدارا ایسے حربے اور ہتھکنڈے استعمال نہ کریں کہ بے قصور اور بے گناہ لوگ اس بار جشن آزادی سے محروم ہوجائیں اور بے بسی کے عالم میں حکمرانوں کے خلاف اظہار خیال کرتے رہیں۔ -14اگست سے پہلے ہی ایسا ماحول نہ بنائیں کہ یوم آزادی پر تصادم کا ”تحفہ“ قوم کو ملے۔ لوگوں کی بہت بڑی تعداداس ماحول میں بھی آزادی کے گیت گاتے ہوئے یوم آزادی منانے کی خواہش مند ہے۔ ان لوگوں کو جشن آزادی منانے دیں اور اپنی حکمت عملی میں فوری طورپر تبدیلی لائیں کہ طاہر القادری اور عمران خان کے کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کے لئے ضروری اقدامات بے شک کریں، مگر عوام کے لئے زندگی کے یہ دن (جن دنوں میں وہ آزادی کے گیت گانا چاہتے ہیں ) خواہ مخواہ ”عذاب“ نہ بنائیں۔ لوگوں کو موقع دیں کہ وہ روزمرہ زندگی معمول کے مطابق گزارتے ہوئے قومی پرچم اٹھائے ہوئے گھروں کے اندر اور باہر آزادی کے گیت (کسی کنٹینر اور ناکے کی رکاوٹ کے بغیر) بلند آواز سے گاسکیں۔

اے وطن، اے وطن !سرزمینِ وطن !!

تیری حرمت پہ قربان ہیں، جان وتن۔

یادرکھیں کہ طاہرالقادری نے تو اپنی حکمت عملی کے تحت تین دن کے لئے اپنے اور اپنے کارکنوں کے لئے خود ہی ”قیدی“ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ خدارا، حکومت عوام کو تو طاہر القادری اور عمران خان کے ساتھ ”قیدی“ بنانے کی غلطی نہ کریں۔ حکمرانوں کا یہ کردار تاریخ میں رقم ہوگا۔ ابھی، بھی وقت ہے کہ حکومت لوگوں کو قیدی بنانے سے باز آجائے اور بہتر حکمت عملی سے کام لے کر ہونے والی زیادتی کا ازالہ کریں۔ کاش !ایسا ہو جائے !!

مزید : کالم


loading...