خواتین مشکلات کا شکار کیوں ؟

خواتین مشکلات کا شکار کیوں ؟
خواتین مشکلات کا شکار کیوں ؟

  


اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق 50فیصد پاکستانی خواتین جسمانی تشدد 90فیصد نفسیاتی تشدد اور زبانی اذیتوں سے دوچار ہوتی ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق ہر سال تشدد کے 400 کیس سامنے آتے ہیں، جن میں سے قریباً نصف خواتین زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہو جاتی ہیں۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک جمہوری اورغیرجمہوری ادوار میں خواتین کو زیادہ سے زیادہ بااختیار بنانے اوران کو مردوں کے برابر مقام دلانے کے لئے بلند بانگ دعوے اور خوشنما وعدے کئے جاتے رہے ہیں۔ تاہم پچھلے سال کے اختتام پر بھی پاکستان میں 80سے 90فیصد خواتین اور لڑکیوں کو اپنے معاشرے میں ایسے بدترین حالات کا سامنا ہے، جو کسی مہذب معاشرے کے شایان شان نہیں ہیں۔ تعلیم، روزگار، طبی سہولیات سمیت دیگر بنیادی ضروریات کی خاطر گھروں سے باہر نکلنے والی یہ خواتین سڑکوں ، بازاروں، دفاتر غرضیکہ ہر جگہ بیہودہ مردوں کے شرمناک رویوں کا نشانہ بنتی ہیں۔ قومی اسمبلی کی سابق سپیکر فہمیدہ مرزا بھی اعتراف کرتی ہیں کہ 70فیصد خواتین اپنی زندگی میں مردوں کے ہاتھوں جسمانی یاجنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔

گزشتہ سال کا جائزہ لیا جائے تو خواتین کے لئے حالات کی خرابی قریباً جوں کی توں رہی ۔ گھریلو تشدد کا کلچر اِسی طرح نمایاں رہا، اب بھی ہر سال قریباً 4000 خواتین آتشزدگی کے واقعات کا شکار ہوتی ہیں۔ بیشتر واقعات میں شوہر، ساس، نندیں ملوث ہوتی ہیں۔ ہر ہفتے میں ایک خاتون پر تیزاب پھینکا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق50فیصد پاکستانی خواتین جسمانی تشدد، 90 فیصد نفسیاتی تشدد اور زبانی اذیتوں سے دوچار ہوتی ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن کے اعداد وشمار کے مطابق ہر سال تشدد کے 400کیس سامنے آتے ہیں، جن میں سے قریباً نصف خواتین زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہو جاتی ہیں۔

یاد رہے کہ 70فیصد خواتین اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا کسی سے ذکر نہیں کرتیں۔ حال ہی میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 52فیصد خواتین کو حمل کے دوران بھی جسمانی یا دیگر نوعیت کے تشدد کا سامنا رہتا ہے۔ ہر سال 10 لاکھ خواتین حمل کے دوران مختلف قسم کے گھریلو تشدد کا نشانہ بنتی ہیں، حالانکہ اس حالت میں خواتین کو معمول سے کہیں زیادہ بہتر نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے، انہیں ضرورت صرف بہتر خوراک کی نہیں، بلکہ پیار بھرے ماحول کی بھی ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نازک دور میں تشدد کی وجہ سے ہر دو گھنٹوں کے اندر 60پاکستانی خواتین ہلاک، جبکہ 600معذوری کا شکار ہو جاتی ہیں۔ صرف وفاقی دارالحکومت میں ہر ماہ اوسطاً تین درجن سے زائد خواتین تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔ خواتین کو قومی ، صوبائی اور ضلعی اسمبلیوں میں بھی نمایاں حصہ حاصل ہے اس کے باوجود ملک کے کئی علاقوں میں عورتوں کی حیثیت جانوروں جیسی ہے۔ صوبہ سرحد اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں کا ذکر تودور کی بات خود پنجاب میں ایسے علاقے موجود ہیں، جہاں خواتین ظالمانہ رسم و رواج کے مطابق زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، انہیں جرگے کے فیصلوں کے سامنے بہرصورت سر جھکانا پڑتا ہے۔

عورتوں کا اپنی ازدواجی حیثیت کے بارے میں فیصلوں میں کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ کم عمری کی شادی، وٹہ سٹہ، ونی، کارو کاری، خرید و فروخت اور بعض اوقات قرض کے بدلے عورت کا دینا بھی شامل ہے۔ گزشتہ سال غیرت کے نام پر قتل بھی ہوئے اور ونی کے حوالے سے بھی کئی کیس سامنے آئے۔ گزشتہ دور میں ”تحفظ حقوق نسواں،، کے نام پر بننے والے قوانین بھی انہیں تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے جو خطرناک صورت حال ہے۔

صحت کے شعبے میں خواتین کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو صورت حال خاصی دگرگوں نظر آتی ہے۔ زچگی کے دوران انتقال کرنے والی ماﺅں کی شرح یہاں معمولی نہیں، ملک کا شمار بلند ترین شرح والے ممالک میں ہوتا ہے۔ ہر 1000خواتین میں سے 6سے 8خواتین اس دوران ہلاک ہو جاتی ہیں۔ جان سے گزر جانے والی خواتین کی شرح مختلف علاقوں میں مختلف ہے۔ بعض علاقوں میں ہر ایک لاکھ خواتین میں سے 400 اور بعض میں 1400 فی لاکھ ....مجموعی طور پر یہاں ہر سال 30ہزار خواتین اس المیے کا شکار ہو جاتی ہیں۔ یہ پوری دنیا میں ہونے والی اموات کا5فیصد بنتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال 375000 خواتین حمل سے متعلقہ پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ہر سال یہاں 50لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں جن میں صرف 2لاکھ 5ہزار تربیت یافتہ دائی، نرس یا ڈاکٹر کے زیرنگرانی جنم لیتے ہیں۔ دیہاتی خواتین کو شہری خواتین کی نسبت دوگنا خطرات کا سامنا ہوتا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ 80فیصد ہلاکتیں صرف ناقص طبی سہولتوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اسی طرح ہر 9پاکستانی خواتین میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر میں مبتلا ہوتی ہے۔ پاکستان براعظم ایشیا کے ان ممالک میں شامل ہے، جہاں یہ مرض سب سے زیادہ ہے۔ صحت کے ضمن میں خواتین کو مردوں سے کہیں زیادہ بدترین مسائل کا سامناہے۔

خواتین کے خلاف جرائم کی شرح بھی روز افزوں رہی۔ 2009ءکے پہلے 10ماہ کے دوران 805 خواتین قتل ہوئیں۔ پچھلے دنوں صوبہ سرحد کے ضلع کرک میں ایک زیرتعمیر مارکیٹ کے تہہ خانے سے چار لاشیں ملیں جن میں تین لڑکیوں کی تھیں ۔ خیال ہے کہ ان کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا تھا۔ پچھلے سال4720 خواتین کی آبروریزی کی گئی،241خواتین گینگ ریپ کا شکار ہوئیں، 66خواتین کو آبروریزی کے بعد قتل کر دیا گیا، 1145خواتین اغوا ہوئیں اور 110خواتین کو مختلف لالچ دے کر انسانی سمگلروں نے اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ امسال خواتین کے حقوق کی پامالی، جرائم ، تشدد اور دیگر اذیتوں کے علاوہ مہنگائی کی چکی میں بھی سب سے زیادہ اذیت خاتون خانہ کو برداشت کرنا پڑی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ میاں بیوی دونوں مہنگائی کے طوفان کا مقابلہ کرتے، لیکن شوہر کی پریشانی بھی فرسٹریشن اور غصے میں بدل کر بیوی پر برستی ہے۔ یوں تو خاتون خانہ ہمہ پہلو اذیت کا نشانہ بنتی ہے ان مسائل کے نتیجے میں جب خاتون کوئی دوسرا راستہ نہیں پاتی تو وہ خودکشی کی راہ پر چل پڑتی ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال کے پہلے 9ماہ کے دوران 463 خواتین نے خود کشی کی،جبکہ 168 اپنی کوشش میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ یاد رہے کہ پچھلے سال 803خواتین نے خودکشی کی، اس کے اسباب گھریلو جھگڑے، حالات سے دلبرداشتگی، روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی، غربت و افلاس، صبر و برداشت کے رویے کی کمیابی اور احساس محرومی ہیں۔ حکومت نے خواتین کی فلاح و بہبود کے نام پر بنایا جانے والا ”بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام“ جاری رکھا۔ 34ارب روپے کی خطیر رقم سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا گیا۔ پروگرام کے مطابق جس فرد کی ماہانہ آمدنی 6000روپے سے کم ہے، اسے ہر دو ماہ بعد 2000روپے ملیں گے، یعنی ہر ماہ 1000روپے۔ تاہم اس پروگرام کے بارے میں کہا جا رہاتھا کہ پروگرام کا مقصد صرف پارٹی کارکنوں کو نوازنا ہے اور ایسا ہی ہوا۔ سرکاری ذرائع دعویٰ کرتے رہے کہ پروگرام 22لاکھ خاندانوں کو غربت کی دلدل سے باہر نکالنے میں ممد و معاون ثابت ہوا، لیکن ایسا کچھ نظر نہیں آتا۔

قیدی خواتین کی حالت وقت گزرنے کے ساتھ ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ وزارت داخلہ کے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت پاکستان کی مختلف جیلوں میں 1500 سے زائد خواتین موجود ہیں، تاہم ان کی دیکھ بھال کے لئے کوئی مستقل خاتون ڈاکٹر نہیں ہے۔ بڑے شہروں میں لیڈی ڈاکٹر صرف ایک گھنٹے کے لئے جیلو ں کا دورہ کرتی ہے، بہت سی قیدی خواتین ایسی ہیں جو اپنی سزائیں پوری کر چکی ہیں، لیکن ان کو رہا نہیں کیا گیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ دور میں پیپلز پارٹی نے اقتدار میں آنے کے بعد جیل اصلاحات لانے کے بارے میں کام شروع کیا تھاجن میں خواتین قیدیوں کے بارے میں متعدد اقدامات شامل تھے اس ضمن میں چاروں صوبوں سے تجاویز طلب کی گئی تھیں، مگر موجودہ حکومت بھی اس بارے میں خاطر خواہ کام کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

مجموعی طورپر خواتین کے لئے گزشتہ سال کیسا رہا؟ فیملی کمیشن آف پاکستان کی سربراہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال پاکستان کے صوبہ سرحد، قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں آپریشنز، ڈرون حملوں کے نتیجے میں سب سے زیادہ عورت متاثر ہوئی۔اسے بے گھر ہونے کے بدترین عذاب سے گزرنا پڑا۔ ہمارے ہاں حقوق نسواں کا بہت شور مچایا جاتا ہے، لیکن کسی نے اس پہلو پر توجہ دینے کی کوشش ہی نہیں کی۔ صوبہ سرحد کی لاکھوں بیٹیاں خیموں میں زندگی بسر کر رہی ہیں۔ شدید سرد موسم کی وجہ سے انہیں انتہائی اذیت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن خواتین کے نام پر سودا گری کرنے والی این جی اوز میدان میں نکلنے کو تیار ہی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے بہت سے فنڈز آتے ہیں، لیکن یہ اس مقصد کی خاطر استعمال نہیں ہوتے۔ صرف اور صرف ایک ہی پوائنٹ خاندانی منصوبہ بندی پر خرچ ہو رہے ہیں،حالانکہ ہمارے ہاں پینے کے صاف پانی کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔

یہاں کی عورت کو اپنی زندگی کا نہایت اہم حصہ پانی کی تلاش میں صرف کرنا پڑتا ہے۔ جب اسے صاف پانی نہیں ملتا تو وہ بیماری اور غربت جیسے بدترین مسائل کا سامنا کرتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ کئی سال گزر گئے، لیکن پاکستان کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کو واپس نہیں لایا جا سکا۔ انہیں یہاں سے اغوا کیا گیا اور پھر فروخت کر دیا گیا۔ وہ آج بھی امریکہ میں قید ہیں۔ لاپتہ افراد کے گھروں میں موجود خواتین بوڑھی ماﺅں اور بیٹیوں کو جس عذاب سے گزرنا پڑ رہا ہے، اس کا کوئی اندازہ بھی نہیں کر سکتا“۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خواتین کو پاکستان کی مجموعی آبادی میں تعداد کے اعتبار سے غلبہ حاصل ہے۔ وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں آگے بڑھنے کے لئے شبانہ روز محنت کر رہی ہیں۔ فوج اور پولیس سمیت زندگی کے ان تمام شعبوں میں نظر آ رہی ہیں، جہاں ایک وقت تک ان کا وجود موزوں تصور نہیں کیا جاتا تھا، تاہم اب بھی عوام میں عورت کی عز ت و تکریم اوراس کی حفاظت کا شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ علم و آگہی اور اچھے اخلاق کی ترویج کی جائے ، خاندان کے افراد ایک دوسرے کا سہارا بنیں تاکہ ان کومایوسی اور کم حوصلگی سے بچایا جا سکے۔ عورت کا استحصال کرنے والے رسوم و رواج ختم کرنے کے لئے قانون سازی پر عمل درآمد کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ موجودہ حکومت کو چاہئے کہ اس جانب خصوصی توجہ دے تاکہ آدھی سے زیادہ آبادی، جو خواتین پر مشتمل ہے، سکون سے زندگی گزار سکے۔

مزید : کالم


loading...