قومی پرچم تلے ایک ہو کر پاکستان کو پُر امن بنائیں

قومی پرچم تلے ایک ہو کر پاکستان کو پُر امن بنائیں


چیف آف دی آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی صدارت میں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں عسکری قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملکی سلامتی کی لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا اور دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے دیں گے، نہ ہی انہیں واپس آنے دیا جائے گا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پیر کو جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس میں اعلیٰ ترین عسکری قیادت نے ملک کی تبدیل ہوتی ہوئی سیاسی صورت حال اور قومی سلامتی کانفرنس میں آپریشن ضرب عضب کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں آرٹیکل 245 کے نفاذ پر بعض سیاسی جماعتوں کے تحفظات پر بھی غور کیا۔ اجلاس میں ڈی جی ایم او اور دیگر افسران نے آپریشن ضرب عضب کے علاوہ پاکستان کی افغانستان اور بھارت کے ساتھ ملحقہ سرحدوں پر ہونے والے واقعات، خاص طور پر افغانستان سے مسلسل دہشت گردوں کے پاکستان کے اندر آ کر حملے کرنے اور افغانستان کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں اور الزام تراشی کے حوالے سے بریفنگ بھی دی۔ اجلاس میں کور کمانڈرز نے افغانستان کی الزام تراشی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں عدم مداخلت کی پالیسی پر گامزن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نہ تو اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے دے گا اور نہ ہی کسی کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ متاثرین کی مکمل بحالی تک پاک فوج بے گھر ہونے والوں کی ہر طرح سے مدد کرے گی۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب میں اب تک کی پیشرفت پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے آپریشن میں جرأت و بہادری کا مظاہرہ کرنے اور جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے فوجی جوانوں کو خراج عقیدت بھی پیش کیا۔ آرمی چیف نے آپریشن میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ تمام فریقین کو طویل المدت انسداد دہشت گرد پالیسی اور انسداد شدت پسندی کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور قوم کی حمایت سے آپریشن ضرب عضب ضرور کامیابی سے ہمکنار ہو گا۔

شمالی وزیرستان میں طالبان کے خلاف آپریشن ضرب عضب 15جون کو شروع کیا گیا۔ فوجی حکام کے مطابق شمالی وزیرستان کے اہم شہری علاقے شدت پسندوں سے پاک ہو چکے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق میران شاہ سے متصل دیہات اور میر علی، بویا، دیگان سمیت دتہ خیل تک کے علاقوں کو شدت پسندوں سے پاک کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ میران شاہ اور میر علی کے درمیان موجود دیہاتوں مومن گل زیارت، درپہ خیل، ٹاپی اور سپرگا سمیت دریائے ٹوچی تک کے علاقوں میں چند جگہوں پر ہونے والی مزاحمت کو ختم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پیر کو سیکیورٹی فورسز نے میر علی میں شہباز خیل کے گرد و نواح میں کارروائی کے دوران 75 راکٹوں سمیت بڑی تعداد میں بارودی سرنگوں سمیت خود کش جیکٹیں بھی برآمد کیں۔ میر علی کے نواح میں عمرکلی میں ایک بارودی سرنگ بنانے کی فیکٹری کا پتہ بھی لگایا گیا۔

فوجی حکام کے مطابق اس آپریشن میں اب تک ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی تعداد 550 سے زائدہے جس میں مقامی شدت پسندوں کے علاوہ غیر ملکی خصوصاً ازبک شدت پسند بھی شامل ہیں۔ اس دوران اب تک29 فوجی بھی شہید ہو چکے ہیں اور تقریباً آٹھ لاکھ لوگ اس آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔ حکام کا کہنا تھاکہ نقل مکانی کرنے والے کیمپوں، کرائے کے گھروں یا پھر اپنے عزیز و اقارب کے ہاں مقیم ہیں اورانہیں بہت سی مشکلات کا سامنا بھی ہے۔

جہاں یہ بات باعث اطمینان ہے کہ آپریشن ضرب عضب پوری کامیابی سے جاری ہے اور جلد ہی اس کے مکمل ہونے کے بھی امکانات ہیں وہیں نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی بے سروسامانی دیکھ کر دل غم سے بھر جاتا ہے۔ آپریشن کے ختم ہونے کے بعد آئی ڈی پیز کی بحالی کا کام شروع ہو جائے گا۔ نقل مکانی کرنے والوں کی ضروریات کا خیال رکھنا صرف حکومت کا ہی نہیں، بلکہ ہر پاکستانی کا فرض ہے۔

پاک فوج پر عزم ہے کہ دہشت گردوں کو دوبارہ کسی صورت واپس نہیں آنے دیا جائے گا، لیکن ان کی واپسی نا ممکن بنانے کے لئے موثر اقدامات کے ساتھ ساتھ، انتظامیہ کو بھی ہر وقت چوکس رہنا پڑے گا اور اس کے لئے حکومت اور فوج کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

ہماری بھی یہی دُعا ہے کہ دہشت گردوں کا صفایا ہو جائے اور دوبارہ کبھی انہیں ہمارے ملک کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت نہ ہو۔ دہشت گردی سے پاک پاکستان ہر پاکستانی کی آنکھ میں بسنے والا ایسا خواب ہے جس کی تکمیل ناممکن نظر آتی تھی اور اب جب اس کی تکمیل ہوتی نظر آ رہی ہے تو ایک اور ڈر دامن گیر ہو گیا ہے۔ ہونا تو چاہئے تھا کہ ہمارے سیاست دان بھی اپنے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان لوگوں کی بحالی کے لئے کام کرتے لیکن افسوس ایسا نہیں ہے، بلکہ اُلٹا انہوں نے تو قوم کی ساری توجہ ہی دوسری طرف مبذول کرا دی ہے، اس وقت متاثرین کی بحالی کے بارے میں سوچنے کی بجائے ہر کوئی سوچ رہا ہے کہ 14اگست کو کیا ہو گا؟ اس وقت جب فضا میں پاکستان زندہ باد کے نعرے گونجنے چاہئے تھے وہاں اپنی اپنی جماعت کے نعرے بلند کئے جا رہے ہیں، ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم کی جگہ اپنی اپنی جماعت کے پرچم ہیں، قائد پاکستان کی بجائے اپنے اپنے قائدین کی اندھا دھند تقلید کی جا رہی ہے۔ہماری قوم سے اپیل ہے کہ اپنی اپنی جماعتوں کے پرچم کے سائے تلے جمع ہونے کی بجائے قومی پرچم تلے متحد ہو جائیں اور اپنے لیڈروں کو بھی اس بات کا احساس دلائیں۔ کاش ہمارے سیاستدان بھی اپنے معاملات حل کر کے پُر امن پاکستان کی بنیاد رکھیں ، مل جل کر اس کی ترقی کے لئے کام کریں اور دکھا دیں دنیا کو کہ ہم واقعی زندہ قوم ہیں۔

مزید : اداریہ


loading...