الزامات لگانے سے جرم ثابت نہیں ہوجاتا

الزامات لگانے سے جرم ثابت نہیں ہوجاتا

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری،سپریم کورٹ کے سابق جج خلیل الرحمن رمدے ،جسٹس ریٹائرڈ ریاض کیانی ، نگران وزیراعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی اور صوبائی الیکشن کمشنر پنجاب انور محبو ب پر عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی سکیموں کو آخری وقت میں تبدیل کیا گیا اور لاکھوں بیلٹ پیپرز چھپوائے گئے، نواز شریف نے جسٹس رمدے کے کہنے پر تقریر کی ، نواز شریف کو بھاری مینڈیٹ عوام سے نہیں بلکہ ریٹرننگ افسران سے ملا ہے۔عمران خان نے یہ سب الزامات اسلام آباد میں جاوید ہاشمی اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عائد کیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انقلاب صرف صاف اور شفاف انتخابات اور ووٹ سے آئے گا۔

اب صاف اور شفاف انتخابات کیسے ہوتے ہیں یا ہو سکتے ہیں ،یہ معلوم نہیں ہے ۔شاید وہ جن میں جیت پاکستان تحریک انصاف کی ہو گی؟ انہوں نے یہ بھی کہاکہ جب وہ تقریر کے دوران زخمی ہوئے تو سب کو پتہ چلا کہ عوام کی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں تو حکمران ڈر گئے ۔عمران خان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہوں نے حکومت کو چار حلقوں کے جال میں پھنسایا کیونکہ اگر وہ 60 حلقوں کاکہتے تو اس کیلئے حکومت نے کہنا تھا پانچ سال لگیں گے ۔اس سے قبل عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ پریس کانفرنس میں دھاندلی کرنے والوں کے نام عوام کو بتائیں گے اور ثبوت بھی فراہم کریں گے۔ ان کی بات کا ایک حصہ تو پورا ہو گیا یعنی دھاندلی کرنے والوں کے نام تو بتا دیے لیکن ثبوت ابھی تک پیش نہیں کیے ۔ انہوں نے ایک بار پھر پریس کانفرنس میں حکومت سمیت دوسرے لوگوں پر الزامات کی بوچھاڑ توکی لیکن میڈیا کے سامنے ایک بھی ثبوت نہیں رکھا ۔ وہ یہ ساری باتیں کب سے کر رہے ہیں اور اس میں نیا کیا ہے یہ کسی کو سمجھ نہیں آ رہا ۔ تحریک انصاف کے چیئرمین اور سیاسی لیڈرہونے کے ناطے ان کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ بغیر ثبوت کے الزامات کی حیثیت صرف سیاسی الزامات کی سی ہوتی ہے جن کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہوتی۔ ان کو احتجاج اور الزام لگانے کا پورا حق حاصل ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ جو الزام وہ لگا رہے ہیں اسے ثابت بھی کریں، اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو پھرسیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کر یں اور بر سر اقتدار آنے کے لئے آئندہ انتخابات کا انتظار کریں۔

مزید : اداریہ


loading...