دیانت کی مثال

دیانت کی مثال

ٹریفک پولیس پشاور کے ایک سب انسپکٹر عمر خان ایک دیانتدار اہلکار ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے سٹیٹ بنک کی گاڑی سے گرنے والی ایک بوری جوں کی توں سٹیٹ بنک انتظامیہ کے حوالے کر دی۔ بتایا گیا ہے کہ اس بوری یا بیگ میں قریباً ایک کروڑ روپے کی رقم تھی۔ یوں ایک چھوٹے ملازم نے دل میں کوئی لالچ لائے بغیر یہ فریضہ انجام دیا جس پر وہ خبر کا موضوع بن گیا۔

یہ درست کہ پاکستان میں ہم قومی طور پر انحطاط کا شکار ہیں۔ ہر روز خرابی والی اطلاعات اور خبریں سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں۔ منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، رشوت اور بددیانتی شعار بن کر رہ گیا۔ ایسے میں اگر کوئی ایسی اطلاع ملے تو بڑی طمانیت ملتی ہے۔ یہ ایک اچھی مثال ہے جو عمر خان نے قائم کی وہ یہ رقم رکھ بھی سکتا تھا لیکن اس سے اس کا ضمیر یقیناًمطمئن نہ ہوتا اور ادھر اس غفلت کے باعث بنک کے بعض ملازم نوکری سے فارغ ہو سکتے تھے۔

آج کے دور میں ایسی کوئی خبر مل جائے تو میڈیا کو بھی اس کی تشہیر کرنا چاہئے کہ نیکی کرنے والا فخر محسوس کرے اور دوسروں کو ترغیب ملے۔ توقع کرنا چاہئے کہ پشاور ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام اس دیانتدار اہلکار کی حوصلہ افزائی کریں گے۔

مزید : اداریہ


loading...