سعودی باپ دو بیٹوں کو شام لے گیا،داعش میں شمولیت

سعودی باپ دو بیٹوں کو شام لے گیا،داعش میں شمولیت

ریاض (آن لائن)ایک سعودی باپ اپنے دو بیٹوں کو ترکی کے راستے اسمگل کرکے شام لے گیا ہے اور وہاں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسرپیکار جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) میں شامل ہوگیا ہے۔عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ان دونوں بچوں گیارہ سالہ عابد الشائق اور دس سالہ احمد الشائق کی ان کے والد کے ساتھ داعش کے بینر تلے تصاویر سامنے آئی ہیں اور ان کو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شئیر کیا گیا ہے۔ان دونوں کے اچانک لاپتا ہونے پر ان کی ماں نے ٹویٹر پر اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔اس سعودی ماں کو گزشتہ روز اس کے خاوند کی جانب سے ایک ٹیکسٹ پیغام موصول ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ''جنت میں پرندے'' خیال کرے''۔واضح رہے کہ یہ جملہ بالعموم شہید بچوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ان دونوں کم سن بچوں میں سے ایک نے تصویر میں اے کے47 (کلاشنکوف) رائفل اٹھا رکھی ہے اور دوسرے نے ایک ہاتھ میں دستی بم پکڑ رکھا ہے۔داعش سے متعلق سوشل میڈیا کے اکاو¿نٹس میں بتایا گیا ہے کہ ان دونوں بچوں کو ضروری عسکری تربیت کے بعد میدانِ جنگ میں بھیجا گیا ہے۔عربی روزنامے الحیات میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس سعودی باپ نے اپنی اہلیہ اور ان دونوں بچوں کو بتایا تھا کہ وہ ان کو سیر کے لیے ایک خلیجی ملک میں لے کر جارہا ہے حالانکہ وہ ترکی کے راستے انھیں شام لے جارہا تھا۔انقرہ میں متعین سعودی سفیر عادل مراد نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی میں آمد کے وقت یہ بچے چونکہ اپنے والد کی تحویل میں تھے،اس لیے انھیں ترک قانون کے تحت اغوا شدہ تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔

تاہم الوطن اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سعودی شخص نے اپنی بیوی سے ایک تنازعے کے بعد ان بچوں کو اغوا کر لیا تھا اور بیوی سے علاحدگی اختیار کر لی تھی۔سعودی عرب نے اپنے شہریوں کے بیرون ملک اور خاص طور پر عراق اور شام میں جاکر داعش میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں اور اس نے حال ہی میں چار افراد کو حراست میں لینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ان چاروں کے بارے میں ش±بہ ہے کہ وہ سعودیوں کو شام بھیجنے اور وہاں داعش میں شمولیت کے لیے ان کی معاونت کررہے ہیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...