کشمیری پنڈتوں کی گھر واپسی قومی مسئلہ ہے ،راجناتھ

کشمیری پنڈتوں کی گھر واپسی قومی مسئلہ ہے ،راجناتھ

نئی دہلی(کے پی آئی)بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ مہاجر کشمیری پنڈتوں کی گھر واپسی کوئی سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک قومی مسئلہ ہے ۔۔انہوںنے کہا کہ مرکز نے امسال بجٹ میں کشمیری پنڈتوں کی گھر واپسی اور باز آبادکاری کیلئے500کروڑ روپے مختص کئے تھے تاہم ریاستی حکومت کی جانب سے نظرثانی شدہ پیکیج موصول ہو اہے جس میں مالی اخراجات5820کروڑ روپے دکھائے گئے ہیں۔انہوں نے تجویز دی کہ پارلیمنٹ اس ضمن میں بہ اتفاق رائے ایک قرار داد پاس کرکے نہ صرف کشمیری پنڈتوں کی گھر واپسی کا اعادہ کرے بلکہ یہ عہد بھی کیا جائے کہ مستقبل میںاس ملک میں کوئی بھی فرد اپنے ہی ملک کے اندربے گھر نہ ہو۔پارلیمنٹ میں کشمیر میں کوثر ناگ یاترا کی معطلی اور اس کو کشمیری پنڈتوں کی بازآبادکاری منصوبے سے جوڑنے سے متعلق کویتھا کلواکنتلا، انوراگ ٹھاکر ،ڈاکٹر سنجے جیسوال اور بھرت روہاری مہتاب کی جانب سے پیش کی گئی توجہ دلاو تحریک کا جواب دیتے ہوئے انہوںنے اس امر پر تعجب کا اظہار کیا کہ کس طرح اس ملک کے کسی بھی حصہ کے شہری اپنے ہی ملک میں مہاجرین کے طور زندگی بسر کریں۔انہوں نے کہا کہ بے گھر کشمیری پنڈتوں کے معاملے کو انصاف ،انسانیت کے زاوئے سے دیکھا جانا چاہئے۔کوثر یاترا معاملہ کے بارے میں انہوںنے کہا کہ بہت پہلے کشمیری پنڈت کولگام کے راستے ہی کوثر ناگ یاترا پر جاتے تھے تاہم وادی میں مسلح شورش شروع ہونے اور کشمیری پنڈتوں کی مہاجرت کے بعد سے وہ یہ یاترا جموں صوبہ کے ریاستی روٹ سے کرتے آرہے ہیں۔انہوںنے اس بات کی وضاحت کی کہ کوثر ناگ یاترا میں کشمیری پنڈتوں کی شرکت اور ان کی بازآبادکاری کے درمیان کوئی تعلق یا ربط نہیں ہے۔

سنگھ نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت نے پہلے پنڈت کمیونٹی کے ممبران کو امسال روایتی راستے سے ہی یہ یاترا کرنے کی اجازت دی تھی تاہم علیحدگی پسندوں کی جانب سے احتجاج کے بعد ضلع انتظامیہ نے یہ اجازت نامہ واپس لیاتاہم اس کے باوجود ریاسی راستے سے پنڈت یاتری وہاں گئے اور پوجا پاٹ کیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی گھر واپسی کا وعدہ بی جے پی کی سربراہی والی این ڈے اے حکومت نے کیا ہے۔ان کا کہناتھاجب ہم کوئی وعدہ کرتے ہیں تو اس پر پہلے غور کرلیتے ہیں اور پھر اس پر قائم رہتے ہیں اور یہ یقینی بناتے ہیں کہ یہ وعدہ پورا ہو۔اس سے قبل بیجو جنتادل کے بی مہتاب اور بھاجپا کے انوراگ ٹھاکر نے سوال اٹھاتے ہوئے حکومت سے یہ جاننا چاہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے کشمیری پنڈتوں کی کوثر ناگ یاترا کے حق کے تحفظ میں ناکامی کے بعد مرکز نے کون سے اقدامات کئے ۔بی مہتاب نے مرکزی حکومت کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے مرکز کی سنجیدگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ کیا مرکزی حکومت اس ضمن میں کشمیر میں پنڈتوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔پنڈتوں کی بازآبادکاری سے متعلق مرکزی حکومت کے باز آبادی منصوبہ کا ذکر کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ فی الوقت وزیراعظم کا 1618.40کروڑ باز آبادکاری منصوبہ روبہ عمل ہے اور اس منصوبہ کے تحت مکان کی خرید اور تجدید کاری کیلئے مالی معاونت فراہم کرنے کے علاوہ وادی میں عارضی قیام گاہوںکا قیام ،پنڈت طلاب کو وظیفے ،نوکریاں ،خودروزگاری میں معاونت،زراعت و باغبانی میں معاونت اور قرضوں کی معافی وغیرہ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے کشمیری پنڈتوں کی گھر واپسی اور بازآبادکاری کیلئے ریاستی حکومت اور پنڈتوں نمائندوںکے ساتھ مشاورت کے بعد ایک نیا پیکیج انتہائی احتیاط کے ساتھ تیار کیا جارہا ہے۔انہوںنے کہا کہ مرکز نے امسال بجٹ میں کشمیری پنڈتوں کی گھر واپسی اور باز آبادکاری کیلئے500کروڑ روپے مختص کئے تھے تاہم ریاستی حکومت کی جانب سے نظرثانی شدہ پیکیج موصول ہو اہے جس میں مالی اخراجات5820کروڑ روپے دکھائے گئے ہیںاور اس پر اب غور ہورہا ہے اور پیکیج کے وسیع خد و خال طے کئے جارہے ہیں۔

مزید : عالمی منظر


loading...