’لیڈی لیڈنگ ‘،برلن کے کمپیوٹر گیمز میوزیم میں خصوصی نمائش جاری

’لیڈی لیڈنگ ‘،برلن کے کمپیوٹر گیمز میوزیم میں خصوصی نمائش جاری

برلن (آن لائن)جرمن دارالحکومت برلن کے کمیپوٹر گیمز کے میوزیم میں لیڈنگ لیڈی ’Leading Lady‘ کے نام سے ایک نمائش جاری ہے۔ اس نمائش میں صرف وہ گیمز رکھے گئے ہیں، جن میں خواتین کریکٹرز کو مرکزی اور طاقت ور کردار ادا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس نمائش کی شریک منتظمہ ماشا توبے کا کہنا ہے کہ کہ ’’ خواتین کے حوالے سے ہمیشہ منفی مثالیں ہی دی جاتی ہیں۔ میرے خیال میں اس نمائش کے ذریعے یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ معاشرے میں خواتین مزید کونسے کردار ادا کر سکتی ہیں‘‘۔ ایسے متعدد ویڈیو گیمز ہیں، جن میں خواتین کو غلام کے طور پر نہیں دکھایا گیا۔جرمن خبررساں ادار ے کے مطابق اس سے قبل ویڈیو گیمز میں خواتین کیریکٹرز بہت محدود ہی کردار ہوا کرتیتھے اور جب یہ کسی مشکل میں پھنستی تھیں تو ہمیشہ انہیں کوئی نہ کوئی مرد بچانے آتا تھا۔ انیتا سارکیسیان \'میڈیا سائنسس کے شعبے کی ماہر ہیں اور وہ ویڈیو گیمز میں خواتین کے کرداروں پر تحقیق کر رہی ہیں۔

وہ اپنی ویڈیو پوڈ کاسٹ ’میں حقوق نسواں کے موضوع پر بات کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ زیادہ تر گیمز میں خواتین کو کمزور، نا اہل اور غیر مؤثر ہی دکھایا جاتا ہے۔اس نمائش میں مختلف ممالک اور مختلف کیٹیگیریز کے کْل آٹھ گیمز رکھے گئے ہیں۔ یہاں پر ’No one lives forever ‘ بھی موجود ہے، جو ایک خفیہ ایجنٹ کے گرد گھومتا ہے اور ’Beyod Good and Evil‘ بھی ہے، جس میں ایک باہمت خاتون صحافی مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ توبے مزید کہتی ہیں کہ ’’مجھے اْن تمام مردوں کی ویڈیو بنانی چاہیے، جو ان گیمز کو کھیلنے کے بعد یہ کہتے ہیں کہ وہ تو اس کھیل میں ایک عورت کا کردار ادا کر رہے تھے‘‘۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ یہاں پر دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ویڈیو گیمز کھلیتے وقت زیادہ تر ایسا خیال ہی کیوں آتا ہے کہ مشکل وقت میں صرف مرد کریکٹر ہی بچا سکتا ہے؟ ماہرین کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ عام زندگی میں ہمت اور جرات کو مردوں ہی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ویڈیو گمیز میں ایک طویل عرصے سے خواتین کو غلام یا کسی جنسی شے کے طور پر نہیں دکھایا جاتا بلکہ اب کئی گیمز میں یہ مجرم اور جنگجو کا کردار بھی ادا کر رہی ہوتی ہیں۔کچھ اسی طرح کی خصوصیات ٹومب رائڈر نامی ویڈیو گیم میں لارا کروفٹ نامی کریکٹر کی بھی ہیں۔ یہ خاتون کیریکٹر جنگلوں میں گھومتی بھی ہے، موٹر سائیکل ریس میں بھی حصہ لیتی ہے اور وقت پڑنے پر جنگجو بھی بن جاتی ہے۔ اس نمائش کو دیکھنے آنے والے مرد حضرات اسے کافی مفید قرار دے رہے ہیں۔ اس شخص نے کہا کہ ’’خواتین کی حقیقی دنیا کو گمیز کی دنیا کے قریب لانے کے لیے یہ نمائش ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...