سیاسی استحکام کیلئے دھرنوں کی بجائے مذاکرات کیے جائیں: ایس ایم تنویر

سیاسی استحکام کیلئے دھرنوں کی بجائے مذاکرات کیے جائیں: ایس ایم تنویر

لاہور(کامرس رپورٹر)پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹس کے چیئر مین ایس ایم تنویرنے کہا ہے کہ حکو مت کی کامیاب معاشی پالیسیوں کو جاری رکھنے اور سیاسی استحکام کے لئے ضروری کہ احتجاجی دھر نوں اور ھڑتالوں کی بجائے مذ اکرات کا راستہ اختیار کیا جا ئے۔فوج شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہے اور اپوزیشن جماعتیں یوم آزادی کے موقع پر اسلام آباد دھرنے دے رہی ہیں جس سے ملکی حالات خراب ہوں گے ۔افراتفری پھیلے گی اور صنعتی و تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔ ۔گزشتہ روز انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ملک میں کی گئی اقتصادی اصلاحات،ایکسچینج ریٹ میں استحکام،مہنگائی کی شرح میں کمی،عالمی مارکیٹ میں یورو بانڈز کی کامیاب فروخت،زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری،حکومتی قرضوں میں کمی،بیرونی ادائیگیوں کے توازن میں استحکام اور مالی خسارے میں کمی وزیراعظم محمد نوازشریف کی حکومت کی بہتر معاشی حکمت عملی کا نتیجہ ہے جنہیں ملکی معاشی اور اقتصاد ی سرگرمیوںکے مفاد میں جاری ر ہنا چا ہیے ۔انہوں نے کہا کہ احتجاجی دھرنوں اور ہڑتالوں سے ملک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے جس سے ھرصورت میں بچنا چاہیے۔ پاکستان کی آزادی کیلئے بڑی قربانیاں دی گئیںلیکن افسوس کی بات ہے کہ ہم 14اگست کو آزادی کی تقریبات منانے کی بجائے احتجاج کر رہے ہیں اس سے عالمی برادری کو ملک کے بارے میں منفی پیغام ملے گاانہوں نے کہا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کو چاہئے کہ وہ آزادی مارچ یا انقلاب مارچ کی بجائے اپنے مسائل پارلیمنٹ کے اندر حل کریں ۔

پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹس کے چئیرمین نے کہا کہ جب سے اپوزیشن جماعتوں نے آزادی مارچ کا اعلان کیا ہے غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہو ئی اور غیر ملکی کمپنیوںکے نمائندوںنے پاکستان آنابند کر دیا ہے اس لیے ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا اور محاذ آرائی اور منفی سیاست کو ترک کرنا ہو گاانہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی درست معاشی پالیسیوں کے باعث موڈیز انٹرنیشنل نے دس سال بعد پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو بہتر قرار دیا جو حکومت کی کامیاب معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے ۔حکومت کی جانب سے معاشی اصلاحات کے عمل سے بینکاری نظام میں بہتری آئی ہے اسے برقرار رہنا چاہیے۔پی آئی ای کے چئیرمین نے کہا کہ حکومت نے برسر اقتدار آتے ہی 480ارب روپے کا سرکلر ڈٹ ختم کیا جس سے لوڈشیڈنگ میں کمی ہوئی جبکہ بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے چین کے تعاون سے مختلف منصوبے شروع کئے گئے ہیں جن کے مکمل ہونے سے نہ صرف لوڈشیڈنگ ختم ہوگی بلکہ عوام اور صنعتوں کو سستی بجلی ملے گی لیکن یہ منصوبے اسی صورت میں مکمل ہو سکتے ہیں اگر موجودہ حکومت پانچ سال پورے کرے۔انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ سے نہ صرف افراتفری پیدا ہو گی بلکہ32 ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری کو دھچکا لگنے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ان حالات میں ضروری ہے تمام سیاسی جماعتیں اکٹھی ہو جائیں اور ملک کو تباہی سے بچانے کا راستہ نکالیں۔

مزید : کامرس


loading...