درآمدی آلو کی کلیئرنس اور مارکیٹ میں ترسیل آسان ہوگئی

درآمدی آلو کی کلیئرنس اور مارکیٹ میں ترسیل آسان ہوگئی

کراچی(اکنامک رپورٹر) ڈائریکٹر جنرل پلانٹ پروٹیکشن کی بہترین حکمت عملی کے سبب درآمدی آلو کی کلیئرنس اور مارکیٹ میں ترسیل آسان ہوگئی ہے جس سے مقامی سطح پر آلو کی تھوک قیمت نمایاں طور پر نیچے آگئی ہے۔چین سے درآمد کیے گئے آلو کی قرنطینہ جانچ اور لیبارٹری رپورٹ کے عمل کی وجہ سے درآمدی آلو کی کلیئرنس تاخیر کا شکار تھی اور بڑے پیمانے پر آلو کی درآمد کے باوجود مقامی سطح پر قیمتوں میں استحکام نہیں آرہا تھا۔پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مبارک نے چین سے درآمدی آلو کی کلیئرنس کے لیے خصوصی حکمت عملی اختیار کی جس کے تحت کسی ایک صوبے میں پیدا ہونے والے آلو کی لیبارٹری جانچ کے نتائج کا اس صوبے سے درآمد ہونے والی باقی تمام کنسائمنٹ پر بھی اطلاق کرنے کا فیصلہ کیا گیا ساتھ ہی درآمد کنندگان سے ایک حلف نامہ بھی وصول کیا گیا جس میں آلو چین کے ایک ہی صوبے سے درآمد کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔درآمد کنندگان کے مطابق اس حکمت عملی کے نتیجے میں کراچی پورٹ پر رکے ہوئے آلو کے درآمدی کنٹینرز کی تیزی سے کلیئرنس ہورہی ہے اور وافر مقدار میں آلو سبزی منڈی میں لایا جارہا ہے جس سے قیمت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ پورٹ پر آلو کے 130 کنٹینرز موجود ہیں جن کی تیزی سے کلیئرنس کی جارہی ہے اور مزید آلو درآمد کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔عید سے قبل مقامی منڈی میں آلو کی تھوک قیمت 2200 روپے من تک پہنچ گئی تھی جو عید کے بعد 1900 روپے پر آئی تاہم کلیئرنس میں تاخیر کی وجہ سے دوبارہ 2100 روپے تک چلی گئی۔

 تاہم پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کی حکمت عملی کے نتیجے میں آلو کی قیمت 1600 روپے فی من تک آگئی ہے اور تھوک سطح پر آلو 40 روپے کلو فروخت کیا جارہا ہے جس کی خوردہ سطح پر باآسانی 45 سے 50 روپے کلو فروخت ممکن ہے۔منڈی کے ذرائع نے بتایا کہ پنجاب میں آزادی اور انقلابی مارچ کی وجہ سے مقامی آلو کی کراچی ترسیل معطل ہوگئی ہے۔ پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کی بروقت حکمت عملی کی وجہ سے آلو کی قیمت میں مزید اضافے کا خدشہ ٹل گیا جس سے درآمد کنندگان، بیوپاریوں اور صارفین کو بھی فائدہ پہنچا ہے۔

مزید : کامرس


loading...