باغی کی پھر بغاوت، سیاستدانوں کے علاوہ کسی کو مسائل حل کرنے کا اختیار نہیں دے سکتے:جاوید ہاشمی

باغی کی پھر بغاوت، سیاستدانوں کے علاوہ کسی کو مسائل حل کرنے کا اختیار نہیں دے ...
باغی کی پھر بغاوت، سیاستدانوں کے علاوہ کسی کو مسائل حل کرنے کا اختیار نہیں دے سکتے:جاوید ہاشمی

  


 ملتان(خصوصی رپورٹر  )آزادی مارچ چھوڑ کر ملتان پہنچنے پر تحریک انصاف کے صدر جاویدہاشمی نے کہا ہے کہ لانگ مارچ میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کی بات کرنا قبل ازوقت ہوگا،لانگ مارچ سے متعلق آج شام کوتفصیلی بات کریں گے ، پارٹی میں اختلافات ہوتے رہتے ہیں ، یہ کوئی اتنی اہم بات بھی نہیں۔

اپنی رہائش گاہ کے باہرمیڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ انہوں نے7سال قیدکاٹی ہے،جمہوریت ان کے ایمان کاحصہ ،جمہوریت کی پاسبانی اورپہرہ ان کی سیاست کاحصہ ہے،کسی طالع آزماکو20کروڑعوام کے حقوق غصب کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔جاویدہاشمی کا کہنا تھا کہ جب بھی اپنی سیاست میں کوئی مشکل محسوس کرتے ہیں تواپنے حلقے میں آتے ہیں  اورفیصلہ کن مرحلے تک پہنچنے کے لیے اپنے حلقہ انتخاب کے لوگوں میں آئے ہیں،لانگ مارچ سے متعلق مشاورت کے بعد بدھ کی شام کو تفصیلی بات کریں گے ۔

ایک سوال کے جواب میں اُن کاکہناتھاکہ عمران خان سیاسی معاملات میں مجھ سے مشاورت کرتے ہیں لیکن پارٹی میں کسی کاکسی سے اختلاف کرناکوئی اہم بات نہیں ، طاہرالقادری سے کوئی اختلاف نہیں،وہ اورمیں اکھٹے پڑھتے رہے ہیں۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ وزیراعظم کے طرزحکومت نے عوام کوریلیف نہیں دیا، اگر حکومت صحیح چل رہی ہوتی توعوام میں بے چینی نہ ہوتی،لوگوں کے مسائل حل کرنے کی لیے بھی جمہوریت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے ۔

یادرہے کہ اس سے قبل جاوید ہاشمی نے اپنے آپ کو آزادی مارچ سے علیحدہ کر لیاتھا اور اسلام آباد سے واپس ملتان روانہ ہو گئے تھے ۔ دوسری جانب تحریک انصاف کی ترجمان شیریں مزاری نے ان خبروں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ جاوید ہاشمی نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ گزشتہ شب جاوید ہاشمی کے انتہائی قریبی ذرائع نے روزنامہ پاکستان کو  بتایا تھا کہ عمران خان کی جانب سے وزیراعظم کے مستعفی ہونے، ٹیکنو کریٹس کی حکومت کے قیام اور پھر الیکشن کا مطالبہ جاوید ہاشمی کی آزادی مارچ سے علیحدگی کی وجہ بنا۔ وزیراعظم نواز شریف کے قوم سے خطاب اور انتخابات کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن کے قیام کے اعلان کے باوجود تحریک انصاف کے رہنماءعمران خان نے ہر صورت آزادی مارچ کرنے کا اعلان کیا جس پر جاوید ہاشمی کو تحفظات ہیں اور ان وجوہات نے ان کی   آزادی مارچ سے علیحدگی کے فیصلے میں کلیدی کردار ادا کیا ۔ یاد رہے  کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور جاوید ہاشمی کے دوران گزشتہ چند دنوں سے کچھ معاملات پر اختلافات تھے تاہم یہ 2 نکات حتمی فیصلے کے باعث بن گئے اور جاوید ہاشمی اسلام آباد سے واپس ملتان روانہ ہو گئے ۔

 واضح رہے کہ وہ اب بھی پاکستان تحریک انصاف کے صدر ہیں اور اپنے عہدے پر بھی برقرار ہیں۔

Last Update: 10:00 Am

مزید : اسلام آباد /Headlines


loading...