ہمیں آزادی کی قدر کرنی چاہیے، بعض طاقتیں ملک میںانتشار پھیلا ناچاہتی ہیں، رفیق تارڑ

ہمیں آزادی کی قدر کرنی چاہیے، بعض طاقتیں ملک میںانتشار پھیلا ناچاہتی ہیں، ...

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)ہمیں آزادی کی قدر کرنی چاہیے اور انجانے میں بھی کبھی کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جوجگ ہنسائی کا باعث بنے یا جس کے باعث ہمارے قومی وقار اور آن پر کوئی حرف آئے۔آج بعض طاقتیں انتشار پھیلا کر ملک کو کمزور اور جمہوریت کو منصہ¿ شہود سے غائب کرنا چاہتی ہیں،ہمیں ایسی طاقتوں سے ہوشیار رہنا اور ان کے راستے میں رکاوٹ بننا ہو گا ۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہمارے پاس نظریہ¿ پاکستان کی شکل میں ایک ایسا انتہائی طاقتور نظریہ ہے جس کی بنیاد پر برصغیر کے10کروڑ مسلمانوں نے 67سال قبل دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت قائم کر دکھائی تھی۔ میری پوری کوشش ہوگی کہ ڈاکٹر مجید نظامیؒ کے مشن کو مزید آگے بڑھاسکوں۔ ان خیالات کااظہار تحریک پاکستان کے نامور کارکن،سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان و چیئرمین نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں تقریبات آزادی کے سلسلے میں منعقدہ خصوصی نشست کے دوران اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔اس نشست کا اہتمام نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔محمد رفیق تارڑ نے کہا کہ ہم اللہ تبارک وتعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کریں‘کم ہے جس نے ہمیں یہ عظیم مملکت عطا فرمائی جو دنیا میں ہماری شناخت ہے۔ ہمیں اس امر پر بھی بہت ناز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قائداعظم محمد علی جناحؒ جیسا عظیم رہنما اور نجات دہندہ عطا فرمایا جن کی دور اندیش قیادت کی بدولت برصغیر کے مسلمانوں کو ایک آزاد ملک نصیب ہوا۔

 انہوں نے کہا کہ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ ایک قومی نظریاتی ادارہ اور پاکستانی قوم کی اُمیدوں اور آرزوﺅں کا محور و مرکز ہے۔ محترم ڈاکٹر مجید نظامی مرحوم نے ایک طویل عرصے تک اس ادارے کے چیئرمین کے طور پر فرائض سرانجام دیے ۔ ان کے وصال کے بعد ٹرسٹ کے بورڈ آف گورنرز نے یہ ذمہ داری میرے سپرد کر دی ہے۔ انہوں نے مجھ پر جس اعتماد کا اظہار کیا ہے‘ اس پر میں ان کا شکر گزار ہوں۔ میری پوری کوشش ہوگی کہ ڈاکٹر مجید نظامی کے اس ادارے اور ان کے مشن کو مزید آگے بڑھا سکوں۔ انہوں نے کہا کہ دور حاضر میں جس قوم کے پاس زیادہ مادی وسائل ہوں‘ اسے مضبوط اور طاقتور تصور کیا جاتا ہے تاہم ماضی کی طرح آج بھی اصل طاقت نظریات کو حاصل ہے۔ جو قوم جس قدر طاقتور نظریے کی حامل ہوگی، وہی غالب آکر رہے گا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہمارے پاس نظریہ¿ پاکستان کی شکل میں ایک ایسا انتہائی طاقتور نظریہ ہے جس کی بنیاد پر برصغیر کے10کروڑ مسلمانوں نے 67سال قبل دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت قائم کر دکھائی تھی۔انہوں نے کہا میں نے پاکستان بنتے دیکھا ہے ،اس وقت میں انٹرمیڈیٹ کا طالب علم تھا۔قائداعظمؒ کے حکم پر ہزاروں طلبہ اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر اس مشن کی تکمیل میں لگ گئے۔1945-46ءکے انتخابات میں ہم نے بھرپور کام کیا جبکہ تقسیم کے بعد مہاجر کیمپوں میں مہاجرین کی دیکھ بھال میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ تقسیم ہند کے وقت ہجرت کے دوران مسلمانان برصغیر نے جان ومال کی بے شمار قربانیاں دیں۔انہوں نے کہا کہ ایمان کے بعد آزادی دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اگر پاکستان معرض وجود میں نہ آتا تو ہم ذات پات کے غیر انسانی اور غیر منصفانہ نظام پر یقین رکھنے والے متعصب ہندوﺅں کے غلام ہوتے۔ بھارت میں موجود مسلمان اقلیت کے ساتھ جو امتیازی اور بہیمانہ سلوک روا رکھا جاتا ہے اور مسلم کش فسادات میں جس طرح انہیں تہہ تیغ کیا جاتا ہے، اسے سامنے رکھ کر آپ تصور کر سکتے ہیںکہ اگر قائداعظمؒ کی قیادت میں ہمارے بزرگوں نے پاکستان حاصل نہ کیا ہوتا تو ہندو اکثریت کی حکمرانی میں ہم کتنی بد ترین زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوتے۔ لہٰذا ہمیں آزادی کی قدر کرنی چاہیے اور انجانے میں بھی کبھی کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جوجگ ہنسائی کا باعث بنے یا جس کے باعث ہمارے قومی وقار اور آن پر کوئی حرف آتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔بعض طاقتیں انتشار پھیلا کر ملک کو کمزور اور جمہوریت کو منصہ¿ شہود سے غائب کرنا چاہتے ہیں،ہمیں ایسی طاقتوں سے ہوشیار رہنا اور ان کے راستے میں رکاوٹ بننا ہو گا تاکہ یہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ہم پاکستان کو قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کا پاکستان بنانے کی اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

 

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...