پولیس کا سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی تاریخ دہرانے سے انکار

پولیس کا سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی تاریخ دہرانے سے انکار

                             لاہور(شہباز اکمل جندران//شعیب بھٹی) اسلام کا مساوات اور بھائی چارے کا درس یا کیلوں والے ڈنڈوں کا خوف لاہور پولیس کے اہلکاروں کی بڑی تعداد نے 17جون کے سانحہ ماڈل ٹاﺅ ن کی تاریخ کو دہرانے سے انکار کردیاہے اان کا کہنا ہے کہ وہ مسلمان ہوکر مسلمان بھائی کو مار نہیں سکتے افسروں نے حکم دیا تو انکار کر دینگے ،۔گھروں کو چلے جائینگے معلوم ہواہے کہ حکومتی ہدایات کی روشنی میں 14اگست کوانقلاب مارچ کے لیے عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹرطاہر القادری کو ماڈل ٹاﺅ ن سے باہر نہیں آنے دیا جائیگا اس سلسلے میں ماڈل ٹاﺅ ن اور فیصل ٹاﺅن کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر ایک سے زائد کنٹینر کھڑے کردیئے گئے ہیں اور راستوں کی بندش کے لیے ایسے تمام مقامات اور منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ کے ارد گرد پولیس کی بھاری نفری کھڑی کردی گئی ہے ریزرو اور ریگولر فورس پر مشتمل لاہور پولیس کے یہ جوان ایک طرف طویل ڈیوٹی سے اکتا چکے ہیں تو دوسری طرف سانحہ ماڈل ٹاﺅ ن کے بعد میڈیا اور جوڈیشل کمیشن کے ہاتھوں بننے والی درگت کو نہیں بھولے جس میں ان کے اپنے ہی محکمے نے بھی ساتھ چھوڑ دیا تھاماضی قریب کے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں اور پولیس پر آنے والی افتاد نے اب کی بار پولیس کے خیالات میں واضح تبدیلی پیدا کردی ہے اب یہ اسلام کا مساوات اور بھائی چارے کا درس ہے یاعوامی تحریک کے کارکنوں کے تیار کردہ خصوصی کیلوں والے ڈنڈوں کا خوف ہے کہ اہلکاروں کی اکثریت کا موقف ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور مسلمان بھائی کو نہیں مار سکتے اور اگر افسروں نے ایسا کوئی حکم دیا تو گھروں کو چلے جائینگے لیکن کسی مسلمان پر گولی نہیں چلائینگے دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے نتیجے میں پولیس کے خلاف سخت رویہ اپنائے جانے کی وجہ سے لاہور پولیس کا مورال گرچکا ہے یہ امر بھی اہمیت کا حامل ہے کہ پولیس کو مظاہرین پر کسی صورت گولی چلانے سے روک دیا گیا ہے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پولیس اہلکاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ گولی چلانے کا حکم تحریری طورپر دیا جائے بصورت دیگر وہ حکم کی تعمیل نہیں کرینگے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پولیس کی اعلیٰ کمان کی طرف سے بھی ماتحت کمان کو یہی ہدایات دی گئی ہیں کہ کسی صورت گولی نہ چلائی جائے ۔ لیکن معاملات کنٹرول سے باہر ہوجائیں تو پولیس مظاہرین کے سامنے سے ہٹ جائے لاہو ر پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈسپلنڈ فورس میں حکم کی تعمیل لازمی ہوتی ہے اور حکم نہ ماننے والوں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...