آزادی اور انقلاب مارچ کو بریک لگانے کیلئے حکومت کے سات آپشنز

آزادی اور انقلاب مارچ کو بریک لگانے کیلئے حکومت کے سات آپشنز

لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) آزادی اور انقلاب مارچ کی رفتار کو بریک لگانے کے لیے حکومت کے پاس سات سے زائد آپشنز موجود ہیں۔حکومت اور بعض سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں کی تمام تر کوششوں اور کاوشوں کے باوجودپاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک آزادی و انقلاب مارچ سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہیں۔ 14اگست ہمیشہ سے پاکستانی تاریخ میں اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یہ دن پاکستان میں بسنے والے لوگوں کو بہت سی تلخ یادوں کے ہمراہ آزادی کا پیغام دیتا ہے۔لیکن رواں ماہ اگست میں 14کے ساتھ 13اگست کا دن بھی پاکستانیوں کے لیے انہتائی اہمیت رکھتا ہے۔14اگست کو ملک کی حقیقی اپوزیشن پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد میں آزادی مارچ کا اعلان کیا تو اس کے چند ہی دنوں بعد پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادر ی نے بھی 14اگست کو پی ٹی آئی کے شانہ بشانہ اسلام آباد میں ہی اپنے انقلاب مارچ کا اعلان کرکے برسر اقتدار قوتوں کو مشکل میں ڈال دیا۔اورحکومت اور بعض سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں کی تمام تر کوششوں اور کاوشوں کے باوجودپاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک آزادی و انقلاب مارچ سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہیں۔ایسے میںان مارچوں کی رفتار کو بریک لگانے کے لیے حکومت کے پاس بھی 7سے زائدکھلے آپشنز موجود ہیں۔13اور14اگست کو ملک بھر میں یا پنجاب اور وفاقی دارالحکومت میں کل وقتی یا جز وقتی موبائل فون سروس کی بند ش جاسکتی ہے۔ کیونکہ موبائل فون سروس کی بند ش سے بہرصورت رابطوں میں کمی ، صورتحال سے لاعلمی اور بعض اوقات گونگی بہری صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ اسی طرح حکومت ان دو دنوں کے دوران مخصوص شہروں میں پٹرول ، ڈیزل اور سی این جی کی سپلائی بند کرکے بھی مارچ کے شرکا کو پید ل کیا جاسکتاہے۔شرکا میں بہت کم لوگ ایسے ہونگے جن کے پاس گاڑی میں آنے اور جانے کے لیے وافر مقدا رمیں پٹرول و ڈیزل موجود ہوگا۔ اسی طرح راولپنڈی ، اسلام آباد ، لاہور اور جی ٹی روڈ پر واقع شہروں کے علاوہ بڑے شہروں میں دفعہ 144کے نفاذ اور اسلام آباد و لاہور جیسے شہروں میں آئین کے آرٹیکل 245کے تحت فوج کی تعیناتی سے بھی شرکاءمارچ اور عام شہری بلاوجہ گھروں سے نکلنے اور مارچ کا حصہ بننے پرہیز کرینگے۔جبکہ مارچوں کو بے اثر کرنے کے لیے حکومت تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے اہم رہنماﺅں کو نظر بند اور اہم و متحرک کارکنوں کی پکڑ دکڑ کرکے بھی شرکاءمارچ کے حوصلے توڑنے کا باعث بن سکتی ہے۔ماڈل ٹاﺅ ن اور فیصل ٹاﺅن لاہور میں کھڑے کئے گئے کنٹینروںکی طرح لاہور ، راولپنڈی ، اسلام آباد اور دیگر اہم شہروں میں اہم مقامات اور داخلی و خارجی راستوں پررکاوٹیں کھڑی کی جاسکتی ہیں۔ تاکہ مارچ کے شرکاءکو روکا جاسکے۔کنٹینروں اور مختلف شہروں کے داخلی و خارجی راستوں کی حفاظت پر مامور پولیس بھی لاٹھی چارج اور شیلنگ کرکے مظاہرین کے حوصلے بھلے ہی پست نہ کرپائے لیکن انہیں دن بھر الجھا تو سکتی ہے۔حکومت اخبارات اور ٹی وی چینلوں کے ذریعے اشتہار دیکرعوام کو مارچوں سے متنفر اور انتباہ کرسکتی ہے ۔ اور شرکاءمارچ کے خلاف سنگین نوعیت کی دفعات کے تحت مقدمات کے اندراج کی ہدایات جاری کرسکتی ہے۔ حکومت شرکاءمارچ کو بذریعہ میڈیا اور ان کے رہنماﺅں کو بذریعہ خط 14اگست کو جڑواں شہروں میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرے کی اطلاع دے کردھرنے اورا مارچ سے باز رہنے کی ہدایات جاری کرسکتی ہے۔

7آپشنز

مزید : علاقائی


loading...