ارسلان افتخار کی بزنس پارٹنر کیخلاف درخواست پر کارروائی روک دی گئی

ارسلان افتخار کی بزنس پارٹنر کیخلاف درخواست پر کارروائی روک دی گئی

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے سابق چیف جسٹس پاکستان کے بیٹے ارسلان افتخار کی اپنے بزنس پارٹنر کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر کارروائی روکتے ہوئے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کر دیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد محمد خان نے ارسلان افتخار کے بزنس پارٹنر میاں عاطف کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل امتیاز رشید صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ سابق چیف جسٹس کے بیٹے ارسلان افتخار نے اپنے بزنس پارٹنر میاں عاطف کیخلاف سیشن عدالت میں سات کروڑ اٹھائیس لاکھ کے جعلی چیک کا مقدمہ درج کروانے کیلئے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 22-Aاور22-B کے تحت مقدمہ درج کروانے کیلئے درخواست دائر کر رکھی ہے، انہوں نے بتایا کہ صدارتی آرڈیننس 2002کے تحت بائیس اے اور بی ضابطہ فوجداری میں داخل کی گئیں، صدارتی آرڈیننس کی مدت نوے دن کی ہوتی ہے، نوے دن گزرنے کے بعد صدارتی آرڈیننس ختم ہوجاتا ہے لہذا بائیس اے اور بی کے تحت اندراج مقدمہ کی درخواست پر حکم جاری نہیں کیا جاسکتا کیونکہ آرڈیننس زائد المعیاد ہونے کے ساتھ ساتھ مذکورہ دفعات بھی ازخود ختم ہو چکی ہیں، ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ اس درخواست میں اہم نکات اٹھائے گئے ہیں، عدالت نے ارسلان افتخار کی سیشن عدالت میں اندراج مقدمہ کی درخواست پر کارروائی روکتے ہوئے اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو ستمبر کے آخری ہفتے کیلئے نوٹس جاری کرتے ہوئے معاونت طلب کر لی۔

 کارروائی روک دی

مزید : علاقائی


loading...