تجزیہ :شہباز اکمل جندران حکومت ، عمران خان اور طاہر القادری کے مابین اعصاب کی جنگ شروع

تجزیہ :شہباز اکمل جندران حکومت ، عمران خان اور طاہر القادری کے مابین اعصاب کی ...

حکومت ، عمران خان اور طاہر القادری کے مابین اعصاب کی جنگ شروع ہوگئی ہے۔ کامیاب وہی ہوگا۔ جو اندرونی و بیرونی دباﺅ اور نادیدہ قوتوںکی فون کالزکے سامنے ٹھہر گیا۔ہارنے والے کی حکومت ، سیاست ،روحانیت سب ختم ہوجائیگی۔عمران کو جمہوری اور قادری کو غیر جمہوری قوت قرار دینے والی حکومت کوقادری نے 14اگست ہی کو انقلاب مارچ کا اعلان کرکے ماہر کھلاڑی ہونے کا ثبوت دیدیا ہے۔قادری کو ماڈل ٹاﺅ ن میں نظر بند کر دیا گیا تو بھی مختلف شہروں سے تحریک کے کارکن پی ٹی آئی سے جاملیں گے۔پاکستانی تاریخ کے ہنگامہ خیز ترین 68ویں یوم آزادی میں چند ہی گھنٹے باقی بچے ہیں۔14اگست کوایک طرف پی ٹی آئی نے آزادی مارچ کا اعلان کررکھا ہے تو دوسری طرف منہاج القرآن اور عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی 14اگست ہی کو انقلاب مارچ کی کال دے رکھی ہے۔ حکومت ، عمران خان اور طاہر القادری کے مابین اعصابی جنگ شروع ہوچکی ہے۔حزب اقتدار میں شامل سیاست کے بڑے کھلاڑی آزادی و انقلاب مارچ کو روکنے کے لیے طرح طرح کے جتن کررہے ہیں تو وہیں عمران خان اور طاہر القادری اپنے پتے پھینک رہے ہیں۔اعصاب کی اس جنگ میں ہارنے والے کو محص شکست ہی نہیں ہوگی۔ بلکہ اس کی حکومت ہو یا سیاست و روحانیت، سب ختم ہوجائیگی۔کامیابی اسی کا مقدر ٹھہرے گی۔ جو اندرونی وبیرونی دباﺅ اور نادیدہ قوتوں کی فون کالز کا دباﺅ برداشت کرگیا۔حکومت قادری کو غیر جمہوی قوت قرار دیتی رہی لیکن قادری نے یوم شہدا کے موقعے پر 14اگست ہی کو عمران خان کے آزادی مارچ کے سنگ انقلاب مارچ کا اعلان کرکے ثابت کردیا کہ وہ سیاست کے بھی اچھے کھلاڑی ہیں۔اور انہیں سیاسیت کی اونچ نیچ مزید سکھانے کے لیے چوہدری برادران اور شیخ رشید بھی موجود ہیں۔حکومت 14اگست کے روز ڈاکٹر قادری کو ماڈل ٹاﺅ ن میں ہی محصور رکھنا چاہتی ہے۔ لیکن ایسا ہواتو بھی مختلف شہروں سے نکلنے والے تحریک کے کارکن پی ٹی آئی سے جاملیںگے کیونکہ بہرصورت منزل اور مقصدتو ایک ہی ہے۔

عصاب کی جنگ

مزید : علاقائی


loading...