ملک ٹوٹنے پر مارچ میں شریک تمام جماعتیں اور ہلاکت پر عمران ،نواز سمیت ہم سب ذمہ دار ہونگے ،ہائیکورٹ

ملک ٹوٹنے پر مارچ میں شریک تمام جماعتیں اور ہلاکت پر عمران ،نواز سمیت ہم سب ...

                            لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس خالد محمود خان کی سربراہی میں قائم فل بنچ نے آزادی مارچ کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران قرار دیا ہے کہ اگر ملک ٹوٹا تو مارچ میں شریک تمام سیاسی جماعتیں ذمہ دار ہونگی، ایک شہری بھی مارا گیا تو عمران خان، نواز شریف سمیت ہم سب ذمہ دار ہوں گے ۔آزادی مارچ روکنے کیخلاف دو درخواستوں کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل پاکستان سلمان بٹ نے بنچ کو بتایا کہ وفاقی حکومت ،تحریک انصاف سے مذاکرات کیلئے تیار ہے جس پرفاضل بنچ نے عمران خان سے جواب طلب کرلیا ہے کہ وہ وزیراعظم سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں یا نہیں ؟اٹارنی جنرل نے مزید بتایا کہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے دروازے عمران خان اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے لئے کھلے ہیں ،وزیراعظم تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ملاقات کے لئے تیار ہیں وہ منتخب وزیراعظم ہیں وہ کسی دباﺅ میں آئیں گے اور نہ ہی استعفا دیں گے ،عمران خان خود وزیراعظم سے ملنے کے لئے نہیں آنا چاہتے تو وہ بتائیں وزیراعظم کب اور کہاں ان سے ملاقات کریں ۔دوسری طرف عمران خان کے وکیل احمد اویس نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ ان کا عمران خان سے رابطہ نہیں ہوسکا جس پر فاضل جج نے انہیں ہدایت کی وہ آج 13اگست کو اپنے پارٹی کے سربراہ سے ہدایات لے کر عدالت کو بتائیں کہ وہ وزیراعظم سے ملاقات کے لئے تیار ہیں یا نہیں ۔درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر نے کہا کہ ملک میں انتشار پھیلایا جا رہا ہے، عمران خان کے وکیل احمد اویس نے کہا کہ تحریک انصاف آئین کی پابند ہے، بنچ کے رکن جسٹس شاہد حمید ڈار نے ریمارکس دیئے کہ طاہر القادری کہتے ہیں کہ وہ آئین کو نہیں مانتے، جو شخص اپنے کارکنوں کو مرنے یا مارنے کا کہتا ہے اس کا کیا کیا جائے، اس پر احمد اویس نے کہا کہ تحریک انصاف تشدد کی سیاست پر یقین نہیں رکھتی، عوام کو احتجاج پر مجبور کر دیا گیا،بنچ نے عمران خان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن فراڈ ہیں تو پھر آپ نے استعفے کیوں نہیں دیئے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ آپ استعفی دیتے اور پھر سڑکوں پر آکر کہتے کہ حکومت استعفی دے، آپ اقتدار کے مزے لے رہے ہیں اور حکومت کے خاتمے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں، آخر آپ چاہتے کیا ہیں، احمد اویس نے کہا کہ تحریک انصاف کے مطالبات آئینی ہیں، وزیر اعظم کو استعفیٰ دینا چاہیے، فاضل بنچ نے سماعت مختصر وقفے کیلئے ملتوی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ وزیر اعظم اور احمد اویس عمران خان سے ہدایت لیکر پیش ہوں کہ وہ مذاکرات کیلئے تیار ہیں یا نہیں، وقفے کے بعد لارجر بنچ نے سماعت دوبارہ شروع کی تو اٹارنی جنرل نے وزیر اعظم کی طرف سے بیان جمع کراتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے استعفیٰ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، وفاقی حکومت تحریک انصاف سے مذاکرات کیلئے تیار ہے، تحریک انصاف لانگ مارچ منسوخ کرے تو اس پر مزید بات ہوسکتی ہے، احمد اویس نے بنچ کو بتایا کہ کوشش کے باوجود عمران خان سے رابطہ نہیں ہوسکا، بدھ تک کی مہلت دی جائے، احمد اویس نے کہا کہ بطور وکیل وہ خود اس بات کے قائل نہیں ہے کہ احتجاج کیا جائے بلکہ مذاکرات سے ہر معاملہ حل ہونا چاہیے جس پر جسٹس خالد محمود خان نے کہا کہ ہر پاکستانی کی یہی خواہش ہے، اے کے ڈوگر نے بنچ کو بتایا کہ اگر تحریک انصاف حکومت سے مذاکرات نہیں کرتی تو وفاقی حکومت کو ہدایت کی جائے کہ وہ آئین کے آرٹیکل سترہ کی دفعہ دو کے تحت اسکے خلاف کارروائی کرے جس پر بنچ کے تیسرے رکن جسٹس انوار الحق نے کہا وفاقی حکومت ازخود یہ اختیار استعمال کرسکتی ہے، اسے عدالت سے کوئی حکم لینے کی ضرورت نہیں، اس دوران جسٹس خالد محمود خان نے کہا ملک کی صورتحال انتہائی نازک ہے، دو دنوں میں سٹاک مارکیٹ کریش کر چکی ہے، اگر مارچ کے دوران ایک بھی شہری جاں بحق ہوا تو عمران خان، نواز شریف سمیت ہم سب ذمہ دار ہونگے، اس دوران وکیل اے کے ڈوگر نے کہا ملک کو توڑنے کی سازش کی جا رہی ہے جس پر بنچ نے کہا کہ اگر ملک ٹوٹا تو مارچ میں شریک تمام سیاسی جماعتیں ذمہ دار ہونگی، عدالت نے عمران خان کے وکیل کی استدعا پر درخواستوں پر مزید سماعت آج 13اگست صبح9بجے تک ملتوی کردی

مزید : صفحہ اول


loading...