وزیر اعظم سپریم کورٹ کا کمشن بنانے پر تیار:کمشن سے پہلے استعفا،عمران کا اصرار

وزیر اعظم سپریم کورٹ کا کمشن بنانے پر تیار:کمشن سے پہلے استعفا،عمران کا ...

اسلام آباد(اے این این)وزیراعظم نوازشریف نے 2013ء کے عام انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات کی تحقیقات سپریم کورٹ سے کرانے کا اعلان کیا ہے اور چیف جسٹس سے استدعا کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں تین رکنی کمیشن قائم کریں اور الزامات کے حوالے سے حتمی فیصلہ دیں۔ کل شام ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ہرطرح کے مذاکرات کا خیرمقدم کریں گے ہم کسی کو جتھے بندیوں کے ذریعے ریاستی نظام یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔نوازشریف نے کہا کہاکہ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے یومِ آزادی پر آپ کو دل کی گہرائیوں سے پیشگی مبارک باد دیتا ہوں تقریباتِ آزادی کا آغاز یکم اگست سے ہو چُکا ہے۔ اِس سال ان تقریباتِ آزادی میں آپریشن ’’ضرب عضب ‘‘ سے یکجہتی اور وزیرستان سے بے گھر ہونے والے افراد کی ہر ممکن مدد کا عہد خصوصی حوالے ہیں۔ آزادی کاایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ وطن عزیز سیاسی استحکام کے پُر سکون ماحول میں تعمیر و ترقی کی روشن منزلوں کی طرف بڑھتا رہے۔ بدقسمتی سے ہمارا ماضی اسی طرح کے عدم استحکام اور سیاسی انتشار کا شکار رہاجس کی ہم بہت بھاری قیمت ادا کر چُکے ہیں۔ ہماری ہم عمر قومیں ہم سے کہیں زیادہ توانا، کہیں زیادہ ترقی یافتہ اور کہیں زیادہ خوش حال ہو چُکی ہیں۔ آ پ ساری دنیا پر نظر ڈالیے صرف انہی ملکوں نے ترقی و خوشحالی کی منز ل پائی جہاں سیاسی استحکام رہا۔ پالیسیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں۔ تعمیر و ترقی کے منصوبوں میں کوئی رکاوٹ نہیں پڑی۔ یومِ آزادی کا استقبال کرتے وقت ہمیں اس سوال کا جواب ضرور تلاش کرنا چاہیے کہ کون سی خرابیاں ہمیں منزل سے دور کر رہی ہیں اور کون سے کھوکھلے نعرے ہمیں غربت اور پسماندگی سے نکلنے نہیں دے رہے۔ اللہ کے فضل سے آج وطن عزیز جمہوریت کی راہ پر چل رہا ہے۔ تمام ریاستی ادارے آئین کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل پارلیمنٹ کام کر رہی ہے۔ ہماری عدلیہ پوری قوت کے ساتھ آئین اور جمہوریت کی پُشت پر کھڑی ہے۔ گذشتہ سال پہلی بار ایک منتخب جمہوری حکومت اور پارلیمنٹ نے اپنی آئینی معیاد پوری کی۔ انتقالِ اقتدار کا مرحلہ خُوش اسلُوبی سے طے ہوا۔ اِسی سیاسی بلوغت کا نتیجہ تھا کہ 2013 ؁ء کے انتخابات کے بعد ہر سطح پر عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کیا گیا۔ ہم نے خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں حکومت سازی کے لئے نئی جمہوری روایات کی بنیاد ڈالی۔ آزاد کشمیر میں بھی مثبت کردار ادا کیا ۔ اِس تعمیری سوچ کا نتیجہ ہے کہ تمام حکومتیں پوری یکسُوئی کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ عوامی مینڈیٹ کی حامل جماعتوں کو یہ سُنہری موقع ملا ہے کہ وہ اپنی کارکردگی کا بھرپور مظاہر ہ کریں تاکہ 2018میں عوام اِس کارکردگی کے پیمانے پر اپنا فیصلہ کر سکیں۔ نوازشریف نے کہاکہ جون 2013میں ہم نے حکومت سنبھالی تو وطنِ عزیز ہر شعبے میں شدید مشکلات اور بحرانوں میں گھرا ہو ا تھا۔ مایوسی اور نااُمیدی کی بجائے ہم نے اس صورت حال کو ایک چیلنج سمجھ کر قبول کر لیا۔ سالوں کا کام مہینوں اور مہینوں کا دنوں میں کرنے کا عزم کیا۔میں یہ دعوٰی تو نہیں کرتا کہ ہماری حکومت نے کوئی معجزہ کر دکھایا ہے لیکن میں یہ بات پورے یقین اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ گذشتہ چودہ (14) ماہ کے دوران پاکستان آگے ضرور بڑھا ہے۔ انفراسٹرکچر کے نئے عظیم الشان منصوبوں، قومی معیشت کی بہتری ، بیرونی سرمایہ کاروں کے بھرپوراعتماد، مجموعی قومی پیداوار کی شرح میں اضافے، روپے کے استحکام ، برآمدات میں اضافے، اسٹاک ایکسچینج کی مضبوطی اور متعدد دوسرے اقدامات کی وجہ سے ملک نہ صرف بحرانوں کی دلدل سے نکل رہا ہے بلکہ ایک روشن، پُرامن اور ترقی و خوشحالی سے ہمکنار پاکستان کی منزلِ مُراد کی طرف گامزن بھی ہو چُکا ہے۔ دس ہزار چار سو میگا واٹ بجلی کے نئے منصوبے پر بیرونی سرمایہ کاری کا معاہدہ طے پا گیا ہے اسکے علاوہ تربیلا اور منگلا کے کئی سالوں بعد ہم بھاشا ڈیم کی تعمیر کا آغاز کر رہے ہیں جو پاکستان کا سب سے بڑا ڈیم ہو گا جس سے 4500 میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔ اتنی ہی بجلی پیدا کرنے والے داسو ڈیم کی بنیادیں رکھ دی گئی ہیں۔ 2200 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والے پاکستان کے سب سے بڑے ایٹمی بجلی گھر کی تعمیربھی شروع ہو چکی ہے۔ کراچی سے لاہور تک موٹروے کی تعمیر کا آغاز ہونے کو ہے ۔ خنجراب سے گوادر تک اقتصادی راہداری سے انشاء اللہ معاشی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ ہماری پوری تاریخ میں اتنے بڑے بڑے منصوبے اس تیز رفتاری کے ساتھ کبھی نہیں لگے۔انہوں نے کہاکہ ایک طرف ہم ماضی کی خرابیوں اور کمزوریوں سے نجات حاصل کر کے تعمیر و ترقی اور امن و خوش حالی کی نئی راہوں پر سفر کا آغاز کر چُکے ہیں۔ دوسری طرف عین اِس وقت کچھ عناصر کھوکھلے نعروں کی بنیاد پر احتجاجی سیاست کی راہ پر چل نکلے ہیں۔ ایک عرصے سے پسماندگی کے اندھیروں میں بھٹکتی ہوئی اِس قوم کو یہ پوچھنے کا حق ہے کہ یہ احتجاج کِس لیے ہے؟ اِن ہنگاموں، اِن فسادات، اِن فتنوں کا مقصدکیا ہے؟ سب جانتے ہیں کہ 2002 اور 2008 کے انتخابات کس ماحول میں ہوئے اور وہ کس حد تک منصفانہ تھے۔ ہمیں سات برس ملک میں نہیں آنے دیا گیا۔ 2002ء کے انتخابات مسلم لیگ (ن) نے ہماری جلاوطنی کے دوران لڑے اور اسے ڈیڑھ درجن نشستوں تک محدود کر دیا گیا۔ ہم نے پھر بھی اپنا جمہوری کردار پوری ثابت قدمی سے ادا کیا۔ 2008ء کے انتخابات کے لیے میرے اور شہباز شریف کے کاغذات مسترد کرتے ہوئے اُنہیں نااہل قرار دے دیا گیا۔ ہم نے پھربھی پورے صبر و تحمل کے ساتھ انتخابی مہم چلائی اور پارلیمنٹ کے اندر رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کیا۔وزیراعظم نے کہاکہ2013کے انتخابات پہلی بار اتفاق رائے سے چنے گئے چیف الیکشن کمشنر کی نگرانی میں ہوئے۔ یہ انتخابات پہلی بار نئی آئینی ترمیم کی روشنی میں قائم ہونے والی حکومتوں کی نگرانی میں ہوئے ۔ پہلی بار انتخابی فہرستوں کی بھرپور جانچ پڑتال ہوئی۔ پہلی بار ایسی انتخابی فہرستوں سے کام لیا گیا جن میں ہر ووٹر کی تصویر بھی موجود تھی۔ پہلی بار نادرا کے کمپیوٹرائزڈ کارڈز کو ووٹر کے لئے ضروری قرار دیا گیا۔ آج الزام تراشیاں کرنے والوں ہی کے مطالبے پر عدالت عظمٰی نے خاص طور پر اجازت دی کہ جج صاحبان ریٹرننگ افسران کے فرائض سر انجام دیں گے۔ ان حکومتوں میں مرکزی اور صوبائی سطح پرمسلم لیگ (ن)کا نامزد کردہ کوئی نمائندہ موجود نہ تھا۔پہلی بار پولنگ سٹیشن پر ہی تصدیق شدہ نتیجہ ہر پولنگ ایجنٹ کو دینے کے ضابطے پر سختی سے عمل کیا گیا۔ ایک سو کے لگ بھگ ملکی اور غیر ملکی ٹیلی ویژن چینلز اور صحافیوں نے انتخابی عمل کی کوریج کی۔ اور دو سو کے لگ بھگ ملکی و غیر ملکی مبصرین نے نگرانی کے فرائض سر انجام دیئے۔ ان تمام مبصرین کی اجتماعی رائے ایک ہی ہے کہ انتخابات کا عمل شفاف، بے لاگ اور منصفانہ تھا۔ کسی ایک بھی ملکی یا غیر ملکی مبصر نے نہیں کہا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی یا ایسا کچھ ہوا کہ جیتنے والے ہار گئے اور ہارنے والے جیت گئے۔ یہاں تک کہا گیا کہ بعض معمولی شکایات کے باوجود یہ ملکی تاریخ کے سب سے شفاف انتخابات تھے۔ انتخابی نتائج ، رائے عامہ کے ان جائزوں کے عین مطابق نکلے جن کا اہتمام مستند غیرملکی اور ملکی اداروں نے کیا تھا۔ اس بار انتخابی شکایات کے ازالے کا نظام بھی ماضی سے بہتر رہا۔ معاملات کو تیزی سے نبٹانے کے لئے خصوصی ٹریبیونلز بنائے گئے۔ الیکشن کمیشن کی درخواست پر ان ٹریبیونلز کی سربراہی کے لئے ہائی کورٹس کے ریٹائر جج صاحبان کا تقرر ہوا۔ یہ تقرربھی متعلقہ چیف جسٹس صاحبان کی طرف سے ہوئے۔ ان ٹریبیونلز نے ماضی کی نسبت کہیں تیزی سے کام کیا۔ چار سو سے زائد پیٹیشنز میں سے 75فیصد کے لگ بھگ نبٹائی جا چکی ہیں۔انہوں نے کہاکہ جہاں تک انتخابی اصلاحات کا تعلق ہے، یہ معاملہ ہماری جما عت کے منشور کا حصہ ہے۔ اِسی مقصد کے لئے میں نے سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینٹ کو خط لکھا تھا کہ دونوں معزز ایوانوں پر مشتمل ایک پارلیمانی کمیٹی قائم کر دی جائے جو وسیع تر، بنیادی اور موثر انتخابی اصلاحات کا ایک جامع نقشہ تجویز کرے۔تمام پارلیمانی جماعتوں کے 33ارکان پر مشتمل یہ کمیٹی قائم ہو چُکی ہے اور اِس نے اپنا کام شروع کر دیا ہے،حکومت اس کمیٹی کی متفقہ سفارشات پر پورے صدقِ دل سے عمل کرے گی، اس مقصد کے لئے قانون بدلنا پڑا تو بدلیں گے، آئین میں ترمیم کرناپڑی تو کریں گے۔ الیکشن کمیشن اور نگران حکومتوں کا ڈھانچہ بدلنا پڑا تو بدلیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ نمائندہ کمیٹی پوری محنت اور لگن کے ساتھ کم از کم مدّت میں اپنا کام مکمل کرے گی۔ انشاء اللہ یہ ہماری سیاسی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو گااور ہماری آنے والی نسلیں بھی پارلیمنٹ کے اِس تاریخ سازکردار کو یاد رکھیں گی۔ انشاء اللہ 2018کے انتخابات انہی اصلاحات کی روشنی میں ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہم نے سیاسی جمہوری سفر کے دوران جتنی بھی اصلاحات کی ہیں، اُن سب کا سہرا عوامی نمائندوں پر مشتمل پارلیمنٹ کے سر رہا ہے۔آئندہ بھی ہر آئینی ترمیم اور ہر قانون سازی پارلیمنٹ ہی کرے گی۔اصلاحات کی منزل کو جانے والے سارے راستے پارلیمنٹ کے ایوانوں ہی سے گذریں گے۔ ہم نے آزادی بڑی قربانیوں سے حاصل کی ہے۔ ہم سب نے جمہوریت کے لئے بھی بڑی قربانیاں دی ہیں۔ پارلیمنٹ ، پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ اس پارلیمنٹ کی موجودگی میں فیصلے سڑکوں، چوراہوں اور میدانوں میں کئے جانے لگیں۔ اللہ کے فضل سے اب یہاں کسی کی بادشاہت ہے نہ آمریت۔ بادشاہت سے ہم نے اڑسٹھ (68)برس پہلے نجات حاصل کر لی تھی۔ ہمارا ایمان ہے اور ہمارے آئین میں بھی لکھا ہے کہ بادشاہی اور حاکمیت اعلی صرف اللہ تعالی کی ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام اللہ کی اس حاکمیت کے نائب ہیں۔ یہ پارلیمنٹ عوام کے اِسی حق، اِسی اختیار اور اِسی بادشاہی کی نمائندگی کر تی ہے۔میں یہ واضح کر دوں کہ ہر سیاسی، آئینی، قانونی اور قومی معاملات میں اصلاح احوال کے لئے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔ میں ملکی سیاسی قیادت کی مشاورت سے ہر طرح کے مذاکرات اور ہر قسم کی بات چیت کے لئے تیار ہوں۔ بعض محترم رہنماؤں کی پیش رفت پر میں نے کھلے دل کے ساتھ معاملات کو بات چیت سے حل کرنے پر آمادگی ظاہر کی اور اُن کی تجاویز بھی تسلیم کر لیں۔ میں اب بھی ایسی ہر کوشش کو خوش آمدید کہوں گا۔ پاکستان کی سلامتی و استحکام اور اٹھارہ کروڑ عوام کی تقدیر بدلنے کیلئے کسی انا کو رکاوٹ نہیں بننے دیں گے۔ ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ آئینی اور قانونی دائروں کے اندر رہتے ہوئے پُر امن احتجاج کے حق کا احترام کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ میں یہ بات بھی واضح کردوں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان، ایک مہذب ریاست ہے۔ اپنا آئین ، اپنا قانون اور اپنا جمہوری نظام رکھنے والی ریاست ۔ انشاء اللہ ہم پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کی حمایت سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئینی جمہوری تشخص پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ کسی کو انارکی پھیلانے اور آئینی بندوبست سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کسی کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ جتھہ بندیوں کے ذریعے ریاستی نظام کو یرغمال بنا لے۔ کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ کھلے عام قتل و غارت گری کا درس دے۔ کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ مذہب کی آڑ میں لوگوں کو دوسروں کی گردنیں کاٹنے پر اُکسائے۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑنے والی قوم کسی نئے عنوان سے فتنہ و فساد اور خانہ جنگی کی اجازت نہیں دے گی۔ کسی فسادی ٹولے کو یہ حق نہیں دیا جائے گا کہ وہ توانائی، انفراسٹکچر اور قومی خوشحالی و ترقی کے لئے شروع کئے گئے اربوں ڈالر کے منصوبوں کو کھنڈر بنا کر قوم کو پھر سے غربت اور پسماندگی کے اندھیروں میں دھکیل دے۔ پاکستان کو ہم ایسا جنگل نہیں بننے دیں گے جہاں ’’جس کی لاٹھی اُس کی بھینس‘‘ کا قانون چلنے لگے۔ سڑکوں اور چوراہوں پر ہنگامہ کرنے والے مٹھی بھر عناصر کو کروڑوں عوام کا مینڈیٹ یرغمال نہیں بنانے دیں گے۔انہوں نے کہاکہ میں کچھ گذارشات میڈ یا کے دوستوں سے بھی کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے میڈیا نے جمہوریت کی سربلندی ، اظہارِ رائے کی آزادی اور عدلیہ کی بحالی کے لئے تاریخ سازکردار ادا کیا ہے ۔ مقدس مشن کے لئے صحافیوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ پور ی قوم ان کے اس کردار کو تحسین کی نظر سے دیکھتی ہے لیکن میں اس موقع پر یہ گذارش کر نا چاہتا ہوں کہ میڈیا موجودہ سیاسی ہلچل کے حوالے سے اپنے کردار کا ضرور جائزہ لے۔ وہ خود فیصلہ کرے کے میڈیا کی آزادی کو کچھ عناصر اپنے پُر تشدد اور غیر آئینی ایجنڈے کے لئے تو استعمال نہیں کر رہے؟ مجھے یقین ہے کہ اچھی روایات رکھنے والا میڈیا عظیم قومی مقاصد کے لئے حقیقی معنوں میں ریاست کے چوتھے ستون کا کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ میرے عزیز اہل وطن میں اب آپ کے سامنے ایک نہایت ہی اہم بات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ پوری قوم کی طر ح میں بھی بڑی حیرت اور افسوس کے ساتھ ایک خاص جماعت کی طرف نام نہاد دھاندلی کے الزامات سنتا رہا ہوں۔ اب کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر مسلسل دہرائے جانے والے ان الزامات کو بنیاد بنا کر پورے جمہوری نظام کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ بے یقینی کی فضا پیدا کر کے ملک کی معیشت ، سیاسی استحکام اور عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میرے سامنے آپ کی فلاح و بہبود اور ملک کی ترقی و خوشحالی کا ایک واضح ایجنڈا ہے اور میں نہیں چاہتا کہ کسی طرح کی بد امنی اور انتشار اس ایجنڈے پر منفی اثر ڈالے۔ ملکی صورت حال کا جائزہ لینے اور قومی سیاسی قیادت کی اجتماعی سوچ کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت نے فیصلہ کیا کہ انتخابات 2013 ؁ء کے بارئے میں لگائے گئے الزامات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک کمیشن قائم کیاجائے۔ اس مقصد کے لئے حکومت سپریم کورٹ کے محترم چیف جسٹس صاحب کو ایک درخواست کر رہی ہے کہ و ہ عدالت عظمی کے تین جج صاحبان پر مشتمل ایک کمیشن تشکیل دیں جو الزامات کی مکمل چھان بین کے بعد اپنی حتمی رائے دے۔ وزیراعظم نے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ اس اقدام کے بعد کسی احتجاج کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ میں ایک بار پھرقوم کو یومِ آزادی کی پیشگی مبار ک باد پیش کرتا ہوں ۔

مزید : صفحہ اول


loading...