عمران استعفٰی دیکر میرے مقابلے میں الیکشن لڑ لیں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائیگا خواجہ سعد رفیق

عمران استعفٰی دیکر میرے مقابلے میں الیکشن لڑ لیں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ...

لاہور (سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ عمران خان امن کی تحریری ضمانت دیں اور طاہر القادری کے مسلح گروپ سے دور ہو جائیں۔ تو آزادی مارچ کی اجازت مل جائے گی۔ طاہر القادری کو حکومت انکے متنازعہ اور شرانگیز بیانات اور دھمکیوں کی بناء پر کسی صورت نام نہاد ’’ انقلاب مارچ ‘‘ نہیں کرنے دیں گے۔ عمران خان خود دھاندلی سے جیتے ہیں۔ استعفیٰ دے کر میرے مقابلے پر الیکشن لڑلیں ۔ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا ۔ عوام نے کام کرنے کے لیے ووٹ دیے تھے ایک دوسرے کے گریبان میں ہاتھ ڈالنے کے لیے نہیں خود بھی کام کریں اور ہمیں بھی کام کرنے دیا جائے ۔ طاہر القادری کے خلاف مقدمات درج ہیں ان کو انقلاب کی الف ب کا علم نہیں ہزاروں نوجوانوں کو ڈنڈے سوٹے تھما کر انقلاب لانے کی باتیں کر رہے ہیں ۔ریلوے کی گزشتہ مالی سال کی کارکردگی شاندار رہی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں گز شتہ روز ریلوے ہیڈ کوارٹر میں محکمہ کی کارگردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر جی ایم ریلوے انجم پرویز ، آئی جی ریلوے سید ابن حسین سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے،انہوں نے کہا کہ جب ریلویز نے موجودہ حکومت کی قیادت میں سفر کا آغاز کیا تو انتظامی اور مالی بے ضابطگیوں کی وجہ سے ادارہ زوال کی انتہائی حدوں کو چھو رہا تھا اور ہم نے اس ادارے کو نفع بخش بنانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات شروع کیے گزشتہ مالی سال کی نسبت پانچ ارب اکانوے کروڑسے زیادہ کا ریونیو اکٹھا کیا ،رواں مالی سال بھی ہمارے لیے ایک چیلنج کی حثییت رکھتا ہے اس میں ریونیو کے اہداف گزشتہ سال کی نسبت زیادہ ہیں اور ہمار ر ٹارگٹ 28بلین ہے جو کہ انشاء اللہ تعالیٰ ہم پورا کر لیں گے،انہوں نے کہا کہ کرایوں میں کمی ہونے سے ریلوے کے سسٹم میں 30لاکھ مسافروں کا اضافہ ہوا ہے ،اور اضافے کی شرح مزید بڑھے گی،اسی برس دو سے تین نئی مسافر ٹرینوں کا اجراء کیا جائے گا روزانہ کی بنیاد پر پی ایس او سے تیل کی سپلائی کی جارہی ہے اور 45لاکھ روپے کا ریونیو اکٹھا ہورہا ہے ، کارگو ایکسپریس کا اجراء ستمبر میں کر دیا جائے اور لاہور سے کراچی کارگو سروس شروع ہونے سے 35لاکھ روپے فی ٹرین بچت ہو گی، انہوں نے کہا کہ آزادی ٹرین مارچ کا افتتاح کر دیا گیا ہے اور سپانسر شپ کی مد میں ایک کروڑ دس لاکھ روپے سے زائد رقم اکٹھی ہوئی ہے اور پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ محکمہ کی طرف سے کوئی رقم خرچ نہیں کی گئی،اور آزادی ٹرین شروع ہونے سے لاکھوں پاکستانیوں کو تفریح مہیا کی جائے گی،چائینز سے خریدے گئے لوکو موٹیو کی کارگردگی تسلی بخش ہے ،پہلے سستی چیزیں خریدنے کو ترجیح دی گئی معیار چیک نہیں کیا گیا لیکن ہم نے سستی اشیاء کے ساتھ ساتھ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ،ٹیسٹنگ کے ساتھ ساتھ کمپنی پروفائل کو بھی چیک کیا گیا تاکہ 30 سال تک چلنے والے لوکو موٹیو پچاس سال تک چلائیں جا ئیں ،لوکو موٹیو فیکٹری کو بحال کیا جائے گا تاکہ اپنے ملک میں ہی لوکو موٹیو تیار کیے جائیں ،غیر ملکی سرمایہ کار بھی اس حوالے سے سنجیدہ ہیں ،انہوں نے کہا کہ 16سے 18لاکھ میٹرک ٹن کوئلہ کراچی سے دیگر حصوں میں پہنچانے کے لیے کام کیا جارہا ہے ،اور نئی فریٹ ٹرانسپورٹ کمپنی تشکیل دی جاری ہے جو کہ دو ماہ میں مکمل ہو جائے گی،پورٹ قاسم سے بن قاسم تک 13کلو میٹر نیا ٹریک بچھایا جارہا ہے جس پر ڈیڑھ ارب روپے لاگت آئے گی،کوٹری سے لودھراں تک آٹو میشن سسٹم شروع کریں گے،اور اس سسٹم کی بحالی کے لیے 39بلین کی رقم درکار ہے اور وزیرا عظم پاکستان میاں نواز شریف نے رقم جاری کی یقین دھانی کروادی ہے اور رواں برس سے اس سسٹم پر کام شروع کر دیا جائے گا ، کراچی سے لاہور کے لیے چوبیس گھنٹے ٹرینیں چلیں گی،اسی برس پسنجر انشورنس اور ٹرین سٹاف سکیم متعارف کروائی جارہی ہے ،ایک سوال کے جواب پر انہوں نے کہا کہ عمران خان موقف بدلنے کے ماہر ہیں اور اپنے اہداف بدلتے رہتے ہیں انہوں نے مجھ پر بھی الزام عائد کیا ہے کہ انتخابات کے دن میرے گھر پر ٹھپے لگائے گئے تھے، وہ سولہ ماہ خاموش کیوں رہے اور الیکشن ٹریبونل میں بھی اس حوالے کوئی ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی میرے مخالف امیدوار حامد خان اس حوالے سے کوئی بیان دیا ، عمران خان خود استعفی دیں اور میں بھی مستعفیٰ ہوتا ہوں اور وہ میرے مقابلے پر الیکشن لڑ لیں پتہ چل جائے گا،ہم معمولی کارکن ہیں اور خان صاحب اتنے بڑے لیڈر ہیں ان کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں ، وہ خود دھاندلی سے جیتے ہیں ،حنیف عباسی کی ایفڈرین کیس میں کردار کشی کروائی گئی اور سابقہ اسٹیبلشمنٹ نے ہی ان کو وہاں سے کامیاب کروایا تھا خان صاحب اب دل بڑا کریں،وہ نہ عدالت کو مانتے ہیں اور نہ ہی الیکشن ٹریبونل کو تسلیم کرتے ہیں ھلقے کھولنے کے لیے حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوتا ،وہ انوکھے لاڈلے ہیں ہمیشہ سے ہیرو رہے ہیں گلط ہو یا ٹھیک بات ماننی پڑے گی،لانگ اور انقلاب مارچ سے ملکی معیشیت پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں پاکستان کو اربوں روپے کا ٹیکہ لگ رہا ہے اگر ڈنڈے سوٹے لے کر حکومت گرانی ہے تو کر کے دیکھ لیں ، ہم نے جو لانگ مارچ کیا تھا وہ وکلاء کے ساتھ مل کر عدلیہ بحالی کا لانگ مارچ تھا ۔ سعد رفیق

مزید : علاقائی


loading...