انقلاب مارچ کو روکنے کا حتمی فیصلہ

انقلاب مارچ کو روکنے کا حتمی فیصلہ


لاہور(کرائم سیل) صوبائی حکومت کی جانب سے پاکستان عوامی تحریک کے انقلاب مارچ کو روکنے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا تحریک منہاج القرآن کے بانی کو ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا جائے پولیس کو احکامات دے دیئے گئے ماڈل ٹاؤن اور فیصل ٹاؤن میں مزید پچاس کینٹینرز بھیج دیئے گئے پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات تمام راستے سیل ۔تفصیلات کے مطابق صوبائی حکومت نے پاکستان عوامی تحریک کے قائد طاہر القادری کے یوم شہدائے ماڈل ٹاؤن کی فاتح خوانی کے موقع پر دیئے جانے والے خطاب کو بنیاد بنا کر روکنے کا فیصلہ کر لیا اور ان کو ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کر دینے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے جس کے لئے پنجاب حکومت کی جانب سے پولیس کو احکامات دے دیئے گئے ہیں پولیس اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی ہنگامی حالت کے دوران اعلی پولیس افسران سے اجازت کے بعد بھرپور کاروائی کریں گے ،ذرائع کے مطابق اس مرتبہ پنجاب حکومت کا رویہ یوم شہدائے ماڈل ٹاؤن والا نہیں ہو گا اور پولیس کی جانب سے پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کی جانب سے کسی بھی کاروائی کا بھر پور جواب دینے کا اختیار ہو گا اور موقع پر ان کی گرفتاری ،لاٹھی چارج ،شیلنگ اور انتہائی ضرورت پڑنے پر مزید کاروائی کی اجازت بھی ہو گی جس کے لئے ان کو اپنے ایس ایس پی سے اجازت لینا ہو گی ۔ صوبائی حکومت کی جانب سے ماڈل ٹاؤن میں رات گئے پچاس کینٹینرز بھیج دیئے گئے جہاں پہلے سے موجود کینٹینرزکی مدد سے تمام ساٹھ راستے سیل کر دیئے گئے اور ان کی نگرانی اور حفاظت اور انقلابی مارچ میں شمولیت کو روکنے کے لئے پولیس کی اضافی نفری بھی بھیج دی گئی اس دوران تمام تر آپریشن کی نگرانی سی سی پی او لاہور اور ڈی آئی جی لاہورکریں گے ۔

مزید : صفحہ اول


loading...