مارچ یا مقابلہ، تیاریاں مکمل، مفاہمت کی شکل نکل آئی؟

مارچ یا مقابلہ، تیاریاں مکمل، مفاہمت کی شکل نکل آئی؟
مارچ یا مقابلہ، تیاریاں مکمل، مفاہمت کی شکل نکل آئی؟

  


تجزیہ، چودھری خادم حسین

ان سطور کے تحریر کرنے کے بعد ہی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا قوم سے خطاب ہو گا، اس لئے اس بارے میں بات مشکل ضرور ہے تاہم تجربہ اور حالات بتاتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے امیر اور بعض دوسرے حضرات کی پس پردہ کوشش ضرور رنگ لائی ہو گی۔ یوں بھی وزیراعظم نے ابھی گزشتہ روز ہی بہت کھلے طور پر پیشکش کی کہ وہ اب بھی چل کر عمران خان کے پاس اُن کے گھر جانے کو تیار ہیں۔ سراج الحق اور جماعت کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے بھی حوصلہ افزا گفتگو کی تھی، بلکہ سراج الحق تو عمران خان کی تائید بھی کرتے ہیں کہ ان کے پاس دھاندلی کے ثبوت ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ کہتے ہیں، دھاندلی تو کراچی میں بھی ہوئی۔ ان کا اشارہ خود اپنی جماعت کے عہدیداروں کی طرف سے لگائے جانے والے الزام کی طرف بھی ہے تاہم خوش قسمتی یا بدقسمتی سے دھاندلی کا جو فیصلہ ٹریبونل نے کیا وہ خود عمران خان کے صوبائی جنرل سیکرٹری (سندھ) کے خلاف ہوا۔ بہرحال یہ تو الگ بات ہے، امکان غالب یہی ہے کہ بات کچھ بن سی گئی، اب جزئیات کا مسئلہ ہے، جن کا اندازہ وزیراعظم کے قومی خطاب سے ہو چکا ہو گا۔

یہاں گزارش اپنی معلومات کے حوالے سے کرنا ہے کہ حکمران جماعت نے طویل مشاورت کے بعد بھی پہلے والا فیصلہ بحال رکھا ہے کہ سختی سے آخری حد تک گریز کیا جائے گا اور ڈاکٹر طاہر القادری کو عمران خان سے الگ دیکھا اور سلوک بھی علیحدہ کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں خود ڈاکٹر طاہر القادری کی تقریروں اور ان کے ”انقلاب“ والے پروگرام نے بھی رنگ دکھایا ہے۔ اگرچہ گزشتہ روز ڈاکٹر موصوف نے اپنی روایت کے مطابق یہاں بھی پینترا بدل کر اپنے انقلاب کو تحریک انصاف کے پروگرام کے قریب ہونے کا تاثر دیا، وہ کہتے ہیں۔ پہلے بادشاہت (حکومت) ختم ہو گی اور پھر نظام بدلے گا اور اس کے لئے مشاورت بھی ہو گی۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر طاہر القادری کو ایک اور وضاحت بھی کرنا پڑی کہ ”انقلاب مارچ“ اور ”آزادی مارچ“ میں سے کوئی کسی میں ضم نہیں ہوا، ہر دو اپنے اپنے طور پر نکلیں گے۔ دوسرے معنوں میں دونوں جلوس الگ الگ ہوں گے۔ ایک زمان پارک سے چلے گا تو دوسرا ایم بلاک ماڈل ٹاﺅن سے روانہ ہو گا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ دونوں ہی مارچ جی ٹی روڈ کے راستے ہونا ہیں، کون آگے اور کون پیچھے ہو گا یہ تو14اگست ہی کو پتہ چلے گا۔

ہماری اطلاع کے مطابق حکومت اور انتظامیہ نے یوم آزادی کو کسی نا خوشگوار واقعہ سے محفوظ رکھنے کے لئے منصوبہ بندی کر لی ہے۔ انتظامیہ ہدایات کی منتظر ہو گی اگر فیصلہ ہوا اور فری ہینڈ دیا گیا تو مارچ کو پُرامن طور پر جانے اور اس کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ممکنہ شر سے بچنے کا سوچا جائے گا اور اگر فیصلہ مختلف ہوا تو پھر میدان جمے گا اس کے لئے انتظامیہ سابقہ تحربات کی روشنی میں زیادہ بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ محاصرہ کئے ہوئے ہے۔

جہاں تک گزشتہ دو روز کے حالات اور واقعات کا تعلق ہے تو اس دوران عمران خان اپنے پروگرام کے مطابق آگے بڑھے ہیں، اب انہوں نے دھاندلی میں زیادہ معتبر حضرات کو ملوث کیا ہے، اس کا تاثر کچھ بہتر نہیں ہوا۔ بہرحال خیال یہی ہے کہ ان کو مارچ کی اجازت ہو گی اور جو مطالبے پیش کریں گے ان میں سے آئینی اور قانونی طور پر درست تجاویز مان لی جائیں گی۔ یوں بھی حلقے کھولنے پر وزیراعظم پہلے ہی رضا مند ہو چکے ہوئے ہیں، مسئلہ انتخابی نظام کا ہے تو یہ کام اس پارلیمانی کمیٹی ہی سے لیا جا سکتا ہے، جو سب پارلیمانی جماعتوں کی نمائندگی پر مشتمل ہے، اس کا ٹائم فریم طے کیا جا سکتا ہے کہ یہ سب جلد ہو، دھاندلی کو وسیع تر تناظر میں ثابت کرنے یا اس کے بارے میں حتمی نتیجے کے لئے طاقتور عدالتی کمیشن کی تجویز بھی تو زیر غور آ چکی ہوئی ہے۔ بہرحال سراج الحق کہتے ہیں کہ ”اللہ بہتر کرے گا اور 14اگست امن سے گزر جائے گا“۔

محترم ڈاکٹر طاہر القادری کا جہاں تک تعلق ہے تو ”شہید“ کرنے والے مسئلے ہی میں اُلجھے تھے تو ان کو عمران خان سے ہاتھ ملانے کی وضاحت بھی کرنا پڑ گئی کہ خان صاحب نے پہلے اعلان کا بُرا منایا تھا۔ اس میں خود ڈاکٹر طاہر القادری کی اَنا کا مسئلہ بھی تھا۔ انہوں نے یوم انقلاب کا اعلان کرتے وقت کہا ”ہم اور عمران اکٹھے چلیں گے“ تاثر بنا دونوں مارچ مل کر چلیں گے یہ عمران خان کے لئے قابل قبول نہیں۔ چنانچہ علامہ پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری کو پھر سے اپنی شگفتہ بیانی اور نکتہ رسی سے کام لینا پڑا۔ انہوں نے واضح کیا۔ دونوں مارچ الگ الگ چلیں گے۔ البتہ اِدھر سے ہمارا ہاتھ بڑھے گا۔ اُدھر سے عمران خان کا ہاتھ آئے گا، یہ دونوں ہاتھ مل کر مُکہ بن جائیں گے اور پھر ”ٹھاہ“ بہرحال معاملہ پھر وہیں کہ جو حضرات کہتے ہیں کہ اصل میں دونوں ایک ہیں وہ بتائیں کہ ایسا کیوں اور دونوں میں سے کون کس کا لیڈر اور قائد ہے کہ ایک میان میں دو تلواریں اور ایک میدان میں دو قائد ہو ہی نہیں سکتے۔ ایک کو دوسرے کو ماننا پڑتا ہے۔ یہاں کون مانے گا اور کس کو رہنما تسلیم کر لیا جائے گا؟ کئی لاکھ کا سوال ہے حل کر لیجئے۔

مزید : تجزیہ


loading...