نواز شریف کا استعفا متفقہ وزیراعظم کا چناﺅ انتخابی اصلاحات الیکشن کمیشن میں تبدیلیاں مڈ ٹرم الیکشن تحریک انصاف کے مطالبات سامنے آگئے

نواز شریف کا استعفا متفقہ وزیراعظم کا چناﺅ انتخابی اصلاحات الیکشن کمیشن میں ...

      لاہور(محمد نواز سنگرا//انویسٹی گیشن سیل)تحریک انصاف کے مطالبات سامنے آگئے۔ عمران خان 14اگست کو نواز شریف کے استعفے،متفقہ وزیر اعظم کا چناؤ،انتخابی اصلاحات،الیکشن کمیشن ممبران و افسران کی تبدیلی اور مڈٹرم الیکشن کے مطالبات پیش کریں گے۔حکومت کی طرف سے مطالبات تسلیم نہ کرنے اور تحریک انصاف کی طرف سے دھرنا ختم نہ کرنے پر نا دیدہ قوت مصالحتی اور ضامن کا کردار ادا کریں گی۔چودہ اگست کے لانگ مارچ پر تحریک انصاف کی طرف سے حکومت کو پیش کیے جانیواے مطالبات سامنے آگئے۔عمران خان حکومت کے سامنے ڈٹ جائیں گے اور امکان ظاہر کیا جائے گا کہ مطالبات کے تسلیم ہونے تک تحریک انصاف اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ دیئے جانیوالا دھرنا ختم نہیں کریں گے۔ذرائع کی مطابق عمران خان فوراً اسمبلیوں کی تحلیل کے حق میں نہیں ہیں بلکہ وہ وزیر اعظم کی تبدیلی اور متفقہ اور غیر جانبدار شخص کو ملک کا وزیر اعظم بنانے کا مطالبہ کریں گے کیونکہ وہ کسی صورت بھی نواز شریف کو مزید وزارت عظمیٰ پر براجمان نہیں دیکھنا چاہیے۔چئیرمین تحریک انصاف الیکشن کمیشن میں گراس روٹ لیول تک تبدیلیاں چاہتے ہیں تاکہ موجودہ الیکشن کو متنازعہ بنانے والا ایک افسر بھی محکمے میں باقی نہ رہے۔اسلئے وہ الیکشن کمیشن کے ممبران و افسران کے استعفے اور تبدیلی کا مطالبہ کریں گے  اور ساتھ ہیں انتخابی اصلاحات کی بات کریں گے اورساتھ وقت بھی دیا جائے گا کہ تمام تر اصلاحات کے بعد ملک میں صاف اور شفاف انتخابات کر ائے جائیں جن میں جیتنے والی جماعت ملک میں حکومت سازی کرے گی۔مزید معلوم ہوا ہے کہ عمران خان نواز شریف سے 2سو بلین ڈالر ملک میں لانے سمیت مزید مطالبات بھی کر سکتے ہیں جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف کے اہم رہنما نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے مطالبات تسلیم نہ کرنے اور عمران خان کو دھرنا ختم کرنے سے انکا رپرنادیدہ قوتیں مصالحت اور ضامن کا کردار ادا کریں گی اور حکمرانوں اور حکومت مخالف فریقین کے درمیان ہٹ دھرمی کا خاتمہ او رملک اور قوم کے مفاد میں فیصلے کیے جائیں گے لیکن کسی صورت بھی ملکی آئین اور قانون کو پامال نہیں کیا جائے گا۔

مطالبات

مزید : علاقائی


loading...