عبدالرحیم النصیری کے خلاف فرانسیسی آئل ٹینکر پر حملے الزام خارج

عبدالرحیم النصیری کے خلاف فرانسیسی آئل ٹینکر پر حملے الزام خارج

                   واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) گوانتا نامو بے میں نئے فوجی جج ایئرفورس کرنل وانس سپیتھ نے القاعدہ کے موت کی سزا کے ملزم عبدالرحیم النصیری کے خلاف مقدمے کی سماعت کے پہلے روز ہی ایک رولنگ جاری کی ہے جس کے تحت اس کے خلاف 2002ءمیں ایک فرانسیسی آئل ٹینکر پر حملے کے الزام کو خارج کردیا ہے۔

تاہم 49 سالہ النصیری کے خلاف 12 اکتوبر 2000ءکو یمن کے ساحل کے قریب ایک امریکی بحری جہاز یو ایس ایس کول پر حملے کا لگایا جانے والا بنیادی الزام برقرار رہے جس میں امریکی نیوی کے سترہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ دفاع کے وکیلوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ فرانسیسی آئل ٹینکر کے خلاف کارروائی فوجی عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر ہے کیونکہ اس میں کسی امریکی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ اس کے علاوہ دفاعی وکیلوں کے مطابق استغاثہ اس بمباری میں النصیری کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کرسکا۔ النصیری کے دفاعی وکیل رچرڈ کیمن نے عدالت کے اس فیصلے کو بہت اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے یہ نیا سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عدالت کو نائن الیون کے واقعے سے پہلے کے کسی الزام کے بارے میں سماعت کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔

نئے جج ایئرفورس کرنل سپیتھ نے آرمی کرنل جیمر پوہل کی جگہ یک رکنی فوجی عدالت کا چارج سنبھالا ہے جنہوں نے پہلے دن ہی یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ سارے مقدمے کا ازسر نو جائزہ لیں گے اور اپنے پیش رو جج کے فیصلوں پر بھی نظر ثانی کرسکتے ہیں۔

دفاعی وکیل کا کہنا ہے کہ فوجی عدالت کے نئے سربراہ کی رولنگ سے ان کے اس موقف کی تائید ہوتی ہے کہ یہ مقدمہ فوجی کی بجائے وفاقی عدالت میں چلایا جانا چاہیے۔ پہلے روز کی سماعت میں استغاثہ کے اٹارنی آرمی بریگیڈیئر جنرل مارک مارٹنز نے یہ موقف اختیار کیا کہ چونکہ فرانس امریکہ کا اتحادی ہے اس لئے فوجی عدالت فرانسیسی آئل ٹینکر پر حملے کی سماعت کرسکتی ہے۔

یاد رہے کہ فوجی عدالت نائن الیون حملے میں ملوث خالد شیخ، رمزی بن الشبھ اور النصیری سمیت پانچ ملزمان کے خلاف سزائے موت کے مقدمے کی سماعت کررہی ہے۔ نئے جج نے پہلے روز کی سماعت میں اشارہ دیا کہ پانچ ملزموں کے خلاف اکٹھا مقدمہ چلانے کی بجائے وہ اسے دو یا زیادہ حصوں میں بھی تقسیم کرسکتے ہیں۔

 

مزید : علاقائی


loading...