مریدکے، پولیس کاوفاقی وزیر کے قریبی رشتہ داروں پر تشدد

مریدکے، پولیس کاوفاقی وزیر کے قریبی رشتہ داروں پر تشدد


مریدکے(نامہ نگار) پولیس نے وفاقی وزیر برائے دفاعی پیدوار کے قریبی رشتہ داروں اور مسلم لیگ (ن) کے عہدیداروں کو بھی پاکستان عوامی تحریک کا کارکن قرار دے کر تشدد کا نشانہ بنا یا اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے غائب کر دیا۔ پولیس کے ظالمانہ روّیے نے حکومت کے حماتیوں کو بھی مخالفت راستے پر ڈال دیا۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کا بدلہ لینے کے لیے ضلع گوجرانوالہ اور ضلع شیخوپورہ کی پولیس نے گھروں کو واپس لوٹنے والے پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں پر ظلم کو جبر کے پہاڑ توڑنے کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ(ن) کے عہدیداروں، وفاقی وزیر کے قریبی رشتہ داروں او رصحافیوں کو بھی ریاستی جبر کا نشانہ بنا ڈالا۔ پولیس نے وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین اور رکن قومی اسمبلی رانا افضال حسین کے قریبی رشتہ دار سابق ناظم رانا علی اکبر کے دو بیٹوں کو بھی گرفتار کر لیا ، مسلم لیگ(ن) سٹی مریدکے کے سابق صدر اور مستعد ورکر حاجی محمد اسلم بٹ کو بھی انقلابی قرار دیتے ہوئے اغوا کر لیا گیا جبکہ مقامی صحافی سید اختر عباس شاہ کو بھی دو روز تک غائب رکھنے کے بعد تھانہ صدر کامونکے میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا تاہم تین روز گزرنے کے بعد بھی ان تمام افراد کا کہیں کھوج نہیں لگایا جا سکا۔بعض افراد نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے گرفتار افراد کو تھانہ صدر گوجرانوالہ کی حوالات میں بند کر رکھا ہے جہاں ان کی ملاقات پر سختی سے پابندی عائد ہے۔ ذرائع کے مطابق گرفتار افراد کی گرفتاری اس لیے نہیں ڈالی گئی کہ وہ ضمانت پر رہا نہ ہو سکیں۔پولیس کی طرف سے بغیر تصدیق مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں پر تشدد اور ان کی گرفتاری پر ان کے احباب نے اپنی حکومت سے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

مزید : علاقائی


loading...