سول و عسکری قیادت کے تعلقات، وزیراعلیٰ پنجاب نے پردہ اُٹھادیا

سول و عسکری قیادت کے تعلقات، وزیراعلیٰ پنجاب نے پردہ اُٹھادیا
سول و عسکری قیادت کے تعلقات، وزیراعلیٰ پنجاب نے پردہ اُٹھادیا

  


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان نے بے پناہ یوٹرن لئے، انہی کی درخواست پر وزیراعظم نواز شریف نے کمیشن بنانے کی درخواست کی لیکن اسے ٹھکرا کر عمران خان نے ایک بار پھر سب سے بڑا یوٹرن لیا ہے اور پاکستان کو تباہ کرنے کی سازش عیاں ہو گئی ہے، لوگ سمجھ گئے ہیں کہ آپ کی نیت ٹھیک نہیں، ایسا نہ کریں، اگر پاکستان کو خطرات لاحق ہو گئے تو سب لپیٹ میں آ جائیں گے اور تاریخ ہمیں بدترین الفاظ میں یاد کرے گی۔

نجی ٹی وی کے پروگرام ’نقطہ نظر‘ میں گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان تو کہتے ہیں کہ افواج پاکستان دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے، ہمیں ان سے مذاکرات کرنے چاہئیں، پاکستان کے دشمن جنہوں نے معصوم شہریوں، فوجیوں اور سیکیورٹی فورسز والوں کا قتل عام کیا، کیا ان کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں؟

انہوں نے کہا کہ ہم جمہوری حکومت اور جمہوریت کیساتھ ساتھ آزادی اظہار رائے پر بھی یقین رکھتے ہیں لیکن سب سے بڑھ کر عوام کے جان ومال کی حفاظت کرنی ہے اور اس کیلئے آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے سب کچھ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی رپورٹس ملی ہیں کہ آزادی مارچ میں ایسے گروپ شامل ہو سکتے ہیں اور اندوہناک واقعہ پیش آ سکتا ہے، یہ ساری چیزیں سامنے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لانگ مارچ کس مقصد کیلئے ہیں، اگر تو یہ لانگ مارچ پاکستان کی قسمت کو تابناک بنانے اور اندھیرے دور کرنے کیلئے ہوتا تو ہم اس کے ساتھ تھے لیکن یہ لانگ مارچ پاکستان کے اندھیرے کو مزید بڑھانے کیلئے ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ چین، سعودی عرب اور ترکی پاکستان کے بہترین دوستوں میں سے ہیں اور اس وقت اللہ تعالی نے چین کو یہ قدرت دی ہے کہ وہ پاکستان کا بجلی کا مسئلہ حل کر سکتا ہے، چند دن پہلے دس ہزار چار سو میگاواٹ بجلی کے منصوبے پورے پاکستان میں پاکستان اور چین کی انرجی گروپس میں طے ہوئے جن میں 15 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے تحت پن بجلی، کوئلے کوئلے اور شمسی توانائی کے منصوبے شامل ہیں لیکن جب ہم دھرنے اور لانگ مارچ کا راگ الاپ رہے ہوں گے تو وہ کیوں سرمایہ کاری کریں گے؟

جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ لانگ مارچ کو محترمہ بینظیر بھٹو شہید نے بھی کیا تھا اور مسلم لیگ ن نے بھی کیا تھا تو شہباز شریف نے کہا کہ بینظیر بھٹو کا لانگ مارچ نہیں ہوا تھا جبکہ مسلم لیگ ن کی جانب سے ہونے والے لانگ مارچ عدلیہ کی آزادی کیلئے تھا جس میں پوری قوم شامل تھی، وکلاءنے ساتھ دیا، مزدور بھی اس تحریک میں شامل تھے اور تحریک انصاف بھی شامل تھی اور اس وقت ہی عمران خان نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی تعریف کی تھی۔ آج عمران خان جسٹس ناصر الملک کی تعریف کر رہے ہیں اور یہ اسی لانگ مارچ کا نتیجہ ہے جب نواز شریف اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلے تھے ۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج کا لانگ مارچ پاکستان کو تباہ کرنے کا لانگ مارچ ہے، یہ رحیم یار خان کی آئی ٹی یونیورسٹی کو ختم کرنے کا لانگ مارچ ہے، راولپنڈی اور اسلام آباد کی میٹرو بس کو تباہ کرنے کا لانگ مارچ ہے، بہاولنگر میں میڈیکل کالج کو ختم کرنے کا لانگ مارچ ہے۔

اینکر کی جانب سے جب یہ سوال کیا گیا کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ بادشاہت کے خاتمے کیلئے لانگ مارچ کر رہے ہیں تو شہباز شریف نے کہا کہ بادشاہ تو بنی گالا میں سینکڑوں ایکڑ کے گھر میں رہتے ہیں، کینیڈا کی سرد ہواﺅں میں رہتے ہیں جبکہ ہم وہ مزدور ہیں جو سیلاب اور ڈینگی میں ہوتے ہیں۔

طاہر القادری کے الزام کہ ماڈل ٹاﺅن میں نہتے لوگوں پر پولیس حملہ کیا گیا کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ ایک تو یہ اس سانحہ کے بعد میرے اقدامات جیسی مثال ماضی کی کسی حکومت میں نہیں ملتی، میرا قوم کے ساتھ وعدہ ہے کہ انشاءاللہ انصاف ہو گا اور جنہوں نے بھی یہ حرکت کی ہے قانون کے مطابق انہیں سزا ملے گی اور اس سلسلے میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اگر کسی بھی شفاف تحقیقات میں ثابت ہو جائے کہ میں نے گولی چلانے کا حکم دیا ہے تو میں فی الفور مستعفی ہو جاﺅں گا۔

سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے عدالتی کمیشن کی رپورٹ کو منظر عام پر نہ لانے کے سوال پر وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ کے جج نے رپورٹ مرتب کر کے وزارت داخلہ کو بھیج دی ہے جس نے اس کا جائزہ لینے کے بعد کمیشن کو خط لکھا ہے اور درخواست کی ہے کہ اس میں بعض ضروری کاغذات جو نامکمل ہیں مہیا کئے جائیں تاکہ حتمی رپورٹ کا جائزہ لیا جا سکے اور یہ عمل مکمل ہونے کے بعد رپورٹ کو منظر پر عام پر ضرور لایا جائے گا۔

پرویز مشرف کو باہر بھیجنے سے متعلق وعدہ کرنے کے سوال پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میں نے اگر کوئی وعدہ کیا ہے تو ثبوت لا دیں، پرویز مشرف کا معاملہ عدالت میں ہے، اس معاملے کو نہ لایا جائے میں اس بات کو یہاں ختم کروں گا کہ عدالت عظمیٰ اس کا فیصلہ کرے گی اور جو بھی فیصلہ کرے گی ہمیں منظور ہو گا اور اگر اس کا فیصلہ حکومت کے پاس آیا تو وزیراعظم مشاورت کے ساتھ فیصلہ کریں گے۔

فوج اور حکومت کے درمیان تعلقات سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پہلی بات یہ کہ میں اس موقف کا حامی ہوں کہ اس بچے کھچے پاکستان کو، قائد اور اقبال کی روح کو مزید تڑپانے سے بچانے اور پاکستان کو توانا کرنے کیلئے سول ملٹری تعلقات انتہائی اعلیٰ درجے کے ہونے چاہئیں اور بداعتمادی کا شائبہ بھی نہیں ہونا چاہئے، اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہر بات پر ہاں میں ہاں ملائی جائے، لیکن صحت مند بحث ہونی چاہئے، نیشنل ایشوز اور قوم کی ترجیحات پر سول ملٹری تعلقات کو ایک پیج پر ہونا چاہئے کیونکہ اس کے بغیر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا اور میں اس پر زندگی اور موت کی طرح یقین رکھتا ہوں، تالی دونوں ہاتھوں سے بجانی چاہئے۔ اس پر اینکر نے سوال کیا کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بج رہی ہے یا بجنی چاہئے تو انہوں نے کہا کہ ’بجنی چاہئے‘۔

مزید : قومی /Headlines


loading...