پڑھائی پر توجہ مرکوز رکھنے کے مفید طریقے

پڑھائی پر توجہ مرکوز رکھنے کے مفید طریقے
پڑھائی پر توجہ مرکوز رکھنے کے مفید طریقے

  


لندن (نیوزڈیسک) ایسا اکثر پڑھنے لکھنے والے افراد سے ہوتا ہے کہ جب بھی وہ پڑھنے بیٹھتے ہیں، ان کے خیالات منتشر ہوجاتے ہیں۔ دماغ ایک جگہ سے دوسری جگہ دوڑے چلا جاتا ہے اور یوں پڑھنے والے پڑھائی پر اپنی توجہ کھو بیٹھتے ہیں۔ تو یہاں ہم آپ کو پڑھائی پر توجہ برقرار رکھنے کے چند مفید طریقے بتائے دیتے ہیں، جن پر عملدرآمد سے آپ واضح فرق محسوس کریں گے۔

ظاہری پریشانیوں سے نجات: موبائل فون کو ساتھ رکھ کر کبھی بھی پڑھائی پر توجہ نہیں دی جا سکتی،چاہے آپ نے اسے وائبریٹ موڈ میں ہی کیوں نا تبدیل کر رکھا ہو، کیوں کہ جب بھی کوئی کال یا ایس ایم ایس آئے گا، آپ اسے پڑھیں یا نہ لیکن آپ کی توجہ ایک بار ضرور متزلزل ہوگی۔ اور نہ ہی ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ موبائل پر کسی سے چیٹنگ کرتے رہیں اور پڑھائی بھی کرتے رہیں۔ لہذا پڑھائی کے لئے ہمیشہ موبائل فون کو بند کر کے رکھیں۔ اس کے علاوہ میوزک بند رکھیں، ایسی جگہ پر مت بیٹھیں جہاں دروازہ ہو، کیوں کہ کسی کے بھی آنے جانے سے آپ کی توجہ بٹ سکتی ہے۔ اچھا اگر ایک کمرے میں کئی افراد رہائش پذیر ہوں تو شور میں پڑھائی نہ کریں بلکہ سب کی مشاورت سے پڑھائی کے لئے وقت مقرر کریں، پھر اس میں بالکل بھی شور نہیں ہونا چاہیے۔

انسانی ضروریات: پڑھائی کے دوران کبھی آپ کو بھوک لگے گی تو کبھی باتھ روم جانا ہوتا ہے، تو یوں پڑھائی سے توجہ ہٹ جاتی ہے، لہذا پڑھائی شروع کرنے سے قبل باتھ روم سے ہو لیں اور کھانا بھی کھا لیں۔

موزوں وقت: پڑھائی کے لئے ہمیشہ موزوں وقت کا تعین کریں اور ایسا اپنے روز مرہ کے معاملات کا جائزہ لے کر کیا جائے، یعنی جس وقت آپ ذہنی اور جسمانی طور پر فارغ ہوں۔

خودکار سوالات کے جوابات: بعض اوقات پڑھائی میں بیرونی کے بجائے اندرونی رکاوٹیں پیدا ہو جاتی ہیں، یعنی انسانی ذہن میں بہت سے سوالات اٹھتے ہیں۔ ”وہ مجھ کب کال کریں گی“، ”میں فلاں جگہ پر کب جاﺅں گا“ وغیرہ وغیرہ، تو ایسے میں پہلے ان سوالات کے پہلے خود جوابات ڈھونڈ لیں، پھر ذہنی طور پر فری ہو کر پڑھائی شروع کریں۔

پڑھائی کی ضروریات: ایک تو قلم، کاغذ، گائیڈ بک سمیت متعلقہ چیزوں کو ایک ہی بار اپنے پاس رکھیں تاکہ آپ کو بار بار اٹھنا نہ پڑے، دوسرا پڑھائی کے دوران کوئی لفظ سمجھ نہ آ رہا ہو تو فوراً ڈکشنری میں اس کا مطلب دیکھنے کی کوشش نہ کریں، کیوں کہ اس سے آپ پڑھائی سے جلد اکتا جائیں گے، لہذا ایسے الفاظ جن کا مطلب آپ کو سمجھ نہ آئے تو انہیں کاغذ پر لکھتے جائیں اور بعدازاں ایک ہی بار ان کے معنی تلاش کریں۔

منفی سوچ: پڑھائی کے بارے میں کبھی بھی کسی قسم کی منفی سوچ مت رکھیں،کیوں کہ اس سے پڑھائی پر آپ کی مکمل توجہ نہیں ہو گی۔ یعنی یہ مضمون یا باب بہت پیچیدہ ہے، اچھا نہیں ہے، وغیرہ وغیرہ۔

مزید : تعلیم و صحت


loading...