سائنسدانوں نے مردانہ بانجھ پن کا دلچسپ علاج دریافت کر لیا

سائنسدانوں نے مردانہ بانجھ پن کا دلچسپ علاج دریافت کر لیا
سائنسدانوں نے مردانہ بانجھ پن کا دلچسپ علاج دریافت کر لیا

  


اوٹاوا (نیوز ڈیسک) کینیڈا کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مردانہ سپرم بنانے والی پروٹین کا سراغ لگالیا گیا ہے اور اب مردانہ بانجھ پن کا علاج سپرم کو لیبارٹری میں تیار کرکے کیا جاسکے گا۔ یہ تحقیق کوئینز یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کی ہے جس کا کہنا ہے کہ انہوں نے PAWP نامی پروٹین کا پتا چلایا ہے جو کہ فرٹیلائزیشن کے عمل کی بنیاد رکھتی ہے۔ اگر سپرم میں انڈے کے ساتھ مل کر ایمبریو بنانے کی صلاحیت نہ ہو یا سپرم کمزور ہونے کی وجہ سے حمل ممکن نہ ہوپارہا ہو تو اس صورت میں PAWP پروٹین کی مدد سے مصنوعی طور پر سپرم تیار کیا جاسکے گا جو کہ زنانہ انڈے کو فرٹیلائز کرکے حمل کو ممکن بنادے گا۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ناقص خوراک، غیر مثبت طرز زندگی اور یہاں تک کہ ضرور سے زیادہ تنگ انڈرویئر بھی وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے مردوں میں سپرم کی تعداد اور کوالٹی متاثر ہورہی ہے اور اسی مسئلہ میں ہر دہائی میں 40 فیصد تک اضافہ ہورہا ہے۔ تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر رچرڈ اوکو کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے بانجھ پن کے پیش نظر یہ دریافت بہت فائدہ مند ثابت ہوگی۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے FASEV میں شائع ہوچکی ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...