مگر مچھوں کو خوفناک سلامی دینے والا جنونی قبیلہ

مگر مچھوں کو خوفناک سلامی دینے والا جنونی قبیلہ
مگر مچھوں کو خوفناک سلامی دینے والا جنونی قبیلہ

  


پورٹ موریسبی (نیوز ڈیسک) قدرت کے نظام کے تحت جب نوعمر لڑکے بلوغت کو پہنچتے ہیں اور ان کی نشوونما جاری رہتی ہے تو معاشرے میں ان کی حیثیت لڑکے سے بدل کر مرد کی ہوجاتی ہے لیکن ساری دنیا میں ایسا نہیں ہوتا ہے اور ایک ملک ایسا بھی ہے کہ جہاں لڑکوں کو مرد بننے کیلئے انتہائی تکلیف دہ’ مگر مچھ رسوم ‘کی ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ یہ ملک براعظم آسٹریلیا کا دور دراز پاپوا نیوگنی ہے جہاں شامبری جھیل کے پاس آباد شامبری قبیلے کی روایت ہے کہ نوعمر لڑکوں کو مرد بنانے کیلئے مگرمچھ رسوم ادا کی جاتی ہیں۔ ان رسوم میں گیارہ بارہ سال کے لڑکوں کو قبیلے کے مذہبی مرکز لے جایا جاتا ہے اور ان کے جسموں پر گہرے گھاﺅ لگائے جاتے ہیں تاکہ ان کی کھال مگر کچھ کی کھال جیسی نظر آئے۔ اس قبیلے کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انسان کا ارتقاءمگر مچھ سے ہوا ہے اور اگر انسان اس جانور کو ہدیہ تبریک پیش کرے اور اپنی کھال بھی اس جیسی بنالے تو اسے عزت و مرتبہ حاصل ہوتا ہے۔ نوعمر لڑکوں کے جسم پر تقریباً دو انچ لمبائی اور کافی گہرائی کے متعدد زخمی لگائے جاتے ہیں اور پھر انہیں مخصوص مٹی اور ایک پودے کے تیل سے بھر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ مندمل ہوکر مگر مچھ کی کھال کے ابھاروں کی طرح نظر آتے ہیں۔ جسم پر درجنوں گھاﺅ لگانے کا عمل بغیر کسی سن کرنے والی دوا کے کیا جاتا ہے اور تکلیف برداشت کرنے کی صلاحیت کو بھی مردانگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جب تک لڑکے اس رسم میں شامل نہ ہوں انہیں مرد تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ ہی ان کی طرف کوئی لڑکی مائل ہوتی ہے، نہ ان کی شادی ہوتی ہے اور نہ ہی معاشرے میں کوئی عزت۔ شامبری قبیلے میں یہ رسم کئی صدیوں سے جاری ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...